Huawei نے سوموار کو اپنے نئے فلیگ شپ فولڈ ایبل اسمارٹ فون سیریز کو باضابطہ طور پر لانچ کر دیا ہے، جو کہ چینی مارکیٹ میں اپنی برتری کو برقرار رکھنے کی ایک زبردست کوشش ہے۔
"bearish rally in euro continues dollar index and bond yields increased" کے لیے 1147 نتائج۔
Huawei نے سوموار کو اپنے نئے فلیگ شپ فولڈ ایبل اسمارٹ فون سیریز کو باضابطہ طور پر لانچ کر دیا ہے، جو کہ چینی مارکیٹ میں اپنی برتری کو برقرار رکھنے کی ایک زبردست کوشش ہے۔
ایک زمانے میں ایتھریم (Ethereum) کا طاقتور حریف سمجھا جانے والا نیٹ ورک، ہارمونی (Harmony Blockchain)، اپنے نیٹ ورک کو بند کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
کرپٹو کرنسی کی دنیا میں سکیورٹی کے مسائل ہمیشہ سے ایک بڑا چیلنج رہے ہیں۔ گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران Liquid Network exploit نے پوری مارکیٹ کو ہلا کر رکھ دیاہے
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا KSE-100 انڈیکس 174,600 کی اہم سپورٹ سطح سے اوپر برقرار رہنے میں کامیاب رہا، جس نے پچھلی بیئرش تھیسس کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ یہ مارکیٹ میں استحکام کی کوششوں کی نشاندہی کرتا ہے، تاہم، پائیدار رجحان کے لیے وسیع تر شرکت کی ضرورت ہے۔
پاکستانی روپے (PKR) امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں انٹربینک مارکیٹ میں اپنی قدر میں مزید کمی کا شکار ہے، جو 277.60 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی اس گراوٹ کی بنیادی وجوہات ہیں۔
Novartis اور Ionis کی پیلکارسن (Pelacarsen) نامی تجرباتی دوا بڑے تیسرے مرحلے کے کلینیکل ٹرائل میں قلبی واقعات کم کرنے کا بنیادی ہدف حاصل نہیں کر سکی۔ دوا نے Lp(a) کی سطح واضح طور پر کم کی، مگر اس حیاتیاتی بہتری سے دل کے دورے، فالج، قلبی موت یا فوری خون رسانی کے طریقۂ علاج کی ضرورت میں مطلوبہ کمی ثابت نہیں ہوئی۔ خبر کے بعد Ionis کے حصص تقریباً 12 فیصد اور اسی شعبے میں دوا تیار کرنے والی Amgen کے حصص تقریباً 5 فیصد نیچے آئے۔ مکمل مطالعہ ابھی شائع نہیں ہوا اور تفصیلی نتائج ایک آئندہ طبی کانفرنس میں پیش کیے جائیں گے، اس لیے ناکامی کی مکمل سائنسی تشریح ابھی باقی ہے۔ اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ pelacarsen کی ناکامی صرف اس مخصوص دوا سے متعلق ہے یا Lp(a) کو نشانہ بنانے والی دوسری زیرِ تیاری ادویات کے لیے بھی خطرے کا اشارہ ہے۔
بیرونی تجارت کا توازن ہمیشہ سے ہی ملکی معیشت کی صحت کا سب سے بڑا عکاس رہا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان کا Trade Deficit مالی سال 2026-27 کے پہلے دو ماہ میں 18.1 فیصد اضافے کے ساتھ 7.12 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا KSE-100 انڈیکس 177,000 کی اہم سطح سے نیچے بریک ڈاؤن کے بعد ایک رینج باؤنڈ کنسولیڈیشن میں داخل ہو گیا ہے۔ مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ کم ہوا ہے اور خریداروں کی محتاط واپسی ہوئی ہے، جس سے استحکام کی ابتدائی علامات نظر آ رہی ہیں، حالانکہ وسیع البنیاد بحالی کا ابھی بھی فقدان ہے۔
امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کی طرف سے ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز کی ایک وسیع قسم کو Novel ETFs کا لیبل دینے کی تجویز پر شدید بحث چھڑ گئی ہے۔
نیو جرسی کی طرف سے امریکی سپریم کورٹ (U.S. Supreme Court) سے رجوع کرنے کا فیصلہ پریڈکشن مارکیٹس (Prediction Markets) کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ہے
پاکستان کی توانائی کی ضروریات ایک بار پھر شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ ریاستی ادارے Pakistan LNG Ltd نے مہنگی بولی مسترد ہونے کے بعد اپنا ایل این جی ٹینڈر دوبارہ جاری کر دیا ہے
حالیہ برسوں میں وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان بڑھتے ہوئے معاشی روابط نے پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات کو ایک نئی سمت دی ہ
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں