فنانشل مارکیٹس میں جب بھی حکومتیں یا ریاستی ادارے بڑے پیمانے پر اشیاء کی درآمد و برآمد کے فیصلے کرتے ہیں، تو اس کے اثرات براہ راست کموڈیٹی مارکیٹس (Commodity Markets) پر مرتب ہوتے ہیں
"اقتصادی کیلنڈر پر نشانات اور اشاروں کو" کے لیے 1172 نتائج۔
فنانشل مارکیٹس میں جب بھی حکومتیں یا ریاستی ادارے بڑے پیمانے پر اشیاء کی درآمد و برآمد کے فیصلے کرتے ہیں، تو اس کے اثرات براہ راست کموڈیٹی مارکیٹس (Commodity Markets) پر مرتب ہوتے ہیں
Gold Price اس وقت $4,400 کے قریب pressure میں trade کر رہا ہے۔ Fed Rate Hike Expectations اور Treasury Yields میں اضافہ Gold پر دباؤ ڈال رہا ہے، جبکہ Geopolitical Risks اور کمزور US Dollar اسے Support دے رہے ہیں۔ $4,400 اہم Support ہے۔ اس کے نیچے Break ہونے کی صورت میں $4,300 اگلا Target بن سکتا ہے۔ دوسری طرف $4,500 سے $4,530 کے اوپر Recovery Gold کے Bullish Outlook کو مضبوط کر سکتی ہے۔ Traders کی توجہ US Inflation Data، Federal Reserve Policy، US Dollar اور Treasury Yields پر رہے گی۔
USD/JPY میں Selling Pressure برقرار ہے۔ BoJ کی Rate Hike Expectations سے Japanese Yen مضبوط ہو رہا ہے۔ Carry Trade Unwinding بھی Yen کو Support دے رہی ہے۔ 160.00 کے قریب Japanese Intervention Risk اہم ہے۔ دوسری طرف مضبوط US Jobs Data اوDollar Fed Rate Expectations کو Support دے رہی ہیں۔ US CPI Data اگلی بڑی Market Move کے لیے اہم ہوگا۔ 155.00 اہم Support ہے، جبکہ 157.50 Key Resistance ہے۔ 155.00 کے نیچے Pair 154.00 اور 153.50 کی طرف جا سکتا ہے۔ 157.50 کے اوپر Breakout کی صورت میں 159.00 اور 160.00 کی طرف Recovery ممکن ہے۔ مجموعی طور پر USD/JPY کا Short Term Bias Cautiously Bearish ہے۔
بنیادی سفارش: نارجس بینک انویسٹمنٹ مینجمنٹ (NBIM) نے اپنے بانڈ اشاریے میں سرکاری بانڈز کا وزن 70 فیصد سے کم کر کے 50 فیصد کرنے کی باضابطہ تجویز دی ہے۔ امریکی ٹریژریز پر اثر: نئی ساخت نافذ ہونے کی صورت میں امریکی سرکاری قرض میں فنڈ کی ہولڈنگز میں اندازاً 80 ارب ڈالر کی کمی بن سکتی ہے۔ وزن میں ردوبدل: بینچ مارک میں امریکی سرکاری قرض کا حصہ 34.1 فیصد سے کم ہو کر 21.9 فیصد رہ جائے گا، تاہم مجموعی امریکی ڈالر اثاثوں کا وزن 52.5 فیصد کے قریب مستحکم رہے گا۔ نفاذ کا ٹائم فریم: یہ فوری فروخت نہیں ہے؛ قانون سازوں کی منظوری کی صورت میں بھی اس پالیسی پر عملی عمل درآمد 2027 کے وسط سے پہلے متوقع نہیں۔ حکمتِ عملی کا اصل رخ: یہ پیش رفت امریکی ڈالر سے انخلا نہیں، بلکہ امریکی سرکاری بانڈز سے سرمایہ نکال کر نسبتاً زیادہ منافع بخش مارگیج بیکڈ سیکیورٹیز اور دیگر امریکی کارپوریٹ قرضوں میں منتقل کرنے کی اندرونی ری بیلنسنگ ہے۔
Coinbase نے امریکی مارکیٹ میں حصص سے منسلک مستقل مشتق معاہدے پیش کرنے کے لیے SEC کے پاس رجسٹریشن دستاویزات جمع کرا دی ہیں۔ کمپنی کے مطابق ان مصنوعات کو عملی طور پر شروع کرنے کے لیے CFTC کی منظوری بھی درکار ہوگی۔ یہ معاہدے سرمایہ کار کو اصل حصص خریدے بغیر اس کی قیمت میں اتار چڑھاؤ سے مالی فائدہ یا نقصان حاصل کرنے کی اجازت دیتے ہیں اور ان کی کوئی مقررہ اختتامی تاریخ نہیں ہوتی۔ یہ پیش رفت کرپٹو اور روایتی حصص کی منڈی کے درمیان فرق کو مزید کم کر سکتی ہے، لیکن ابھی کسی امریکی نگران ادارے نے ان مصنوعات کے آغاز کی حتمی اجازت نہیں دی۔ اب سب سے اہم چیز SEC اور CFTC کا اگلا ردِعمل، منظوری کی شرائط اور یہ ہوگا کہ دیگر امریکی تجارتی پلیٹ فارم بھی اسی سمت میں قدم بڑھاتے ہیں یا نہیں۔
اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک (Standard Chartered) نے دبئی انٹرنیشنل فنانس سینٹر (DIFC) میں اپنے برانچ کے ذریعے ادارہ جاتی سطح پر بٹ کوائن اور ایتھریم کی اسپاٹ ٹریڈنگ کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔
توانائی کی عالمی مارکیٹس میں اس وقت شدید غیر یقینی صورتحال جاری ہے۔، جہاں WTI Crude Oil prices Strait of Hormuz آبنائے ہرمز کے گرد گھومتی ہوئی صورتحال اور جغرافیائی سیاسی تنازعات کی وجہ سے قیمتیں 89.50 ڈالر کے قریب مستحکم ہیں۔
0.7200AUD/USD کے قریب trade کر رہا ہے اور آسٹریلوی ڈالر کو RBA کی hawkish policy expectations سے support مل رہا ہے۔ US Dollar پر pressure بھی pair کو سہارا دے رہا ہے۔ 0.7200 اہم resistance ہے۔ اس کے اوپر breakout کی صورت میں 0.7250 اور 0.7300 اگلے levels ہو سکتے ہیں۔ جبکہ 0.7100 اہم support ہے۔ اس کے نیچے جانے سے pair 0.7050 کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ Traders کی توجہ RBA، Fed، Australian inflation اور US jobs data پر رہے گی۔
بیرونی تجارت کا توازن ہمیشہ سے ہی ملکی معیشت کی صحت کا سب سے بڑا عکاس رہا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان کا Trade Deficit مالی سال 2026-27 کے پہلے دو ماہ میں 18.1 فیصد اضافے کے ساتھ 7.12 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا KSE-100 انڈیکس 177,000 کی اہم سطح سے نیچے بریک ڈاؤن کے بعد ایک رینج باؤنڈ کنسولیڈیشن میں داخل ہو گیا ہے۔ مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ کم ہوا ہے اور خریداروں کی محتاط واپسی ہوئی ہے، جس سے استحکام کی ابتدائی علامات نظر آ رہی ہیں، حالانکہ وسیع البنیاد بحالی کا ابھی بھی فقدان ہے۔
آئل بوۓ انرجی لمیٹڈ نے پاکستان بھر میں الیکٹرک وہیکل فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
گزشتہ روز کے سیشن میں تقریباً ایک فیصد کی گراوٹ کے بعد KSE100 انڈیکس نے جمعرات کی صبح زبردست واپسی کی۔ کاروبار کے ابتدائی منٹوں میں انڈیکس 950 سے زائد پوائنٹس اوپر چلا گیا اور 175734.10 کی سطح تک پہنچ گیا۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں