پاکستانی روپے (PKR) امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں انٹربینک مارکیٹ میں اپنی قدر میں مزید کمی کا شکار ہے، جو 277.60 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی اس گراوٹ کی بنیادی وجوہات ہیں۔
"eurjpy swings in tge narrow range as fears of recession prevail in europe" کے لیے 1187 نتائج۔
پاکستانی روپے (PKR) امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں انٹربینک مارکیٹ میں اپنی قدر میں مزید کمی کا شکار ہے، جو 277.60 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی اس گراوٹ کی بنیادی وجوہات ہیں۔
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) نے $4,454.99 کی اہم سطح سے اوپر 'daily close' دے کر قلیل مدتی استحکام کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم DXY کی مضبوطی اور بڑھتی ہوئی امریکی ٹریژری ییلڈز سونے پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اس پیش رفت نے پچھلی 'bearish invalidation' سطح کو چیلنج کیا ہے، لیکن مجموعی 'bearish trend' اب بھی غالب ہے۔
پاکستانی روپے (PKR) انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی قدر میں مزید کمی کا شکار ہے، جو 277.43 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ یہ گراوٹ درآمدی ادائیگیوں کے مسلسل دباؤ اور مقامی مارکیٹ میں ڈالر کی طلب میں اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج KSE-100 انڈیکس نے 177,000 کی اہم نفسیاتی اور تکنیکی سطح سے نیچے ایک فیصلہ کن بریک ڈاؤن دکھایا۔ مارکیٹ کی وسعت میں کمی اور بڑھتے ہوئے ٹرن اوور نے اس گراوٹ کی تصدیق کی، جو سرمایہ کاروں کے محتاط رویے اور ایک نئے منفی رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔
پاکستانی روپے (PKR) انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی قدر میں کمی جاری رکھے ہوئے ہے، جو 277.70 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی روپے کی کمزوری کی بنیادی وجوہات ہیں۔
پاکستانی روپے (PKR) امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی قدر کھو رہا ہے، انٹربینک مارکیٹ میں 277.82 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی اس گراوٹ کی اہم وجوہات ہیں۔
پاکستانی روپے (PKR) آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں مزید گراوٹ کا شکار ہوا، جو کہ 277.86 پر بند ہوا۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی اس رجحان کی بنیادی وجوہات ہیں۔
سونے کی مارکیٹ رپورٹ کا خلاصہ (TL;DR): COT ڈیٹا کا وقتی مغالطہ: منگل (25 اگست) تک اوپن انٹرسٹ اور نان کمرشل لانگ پوزیشنز میں 5.3% اضافہ ہوا، لیکن یہ جمعہ کی گراوٹ سے پہلے کا منظرنامہ ہے، نہ کہ موجودہ پوزیشننگ کی عکاسی۔ گراوٹ کا اصل میکرو محرک: بدھ کے غیر متوقع PCE مہنگائی ڈیٹا اور جمعہ کو جیکسن ہول میں فیڈ کے سخت (Hawkish) بیانات نے شرحِ سود بڑھنے کے امکانات، ڈالر انڈیکس (99.71) اور شارٹ اینڈ ییلڈز کو بڑھایا۔ نتیجتاً سونا $4,698 کے ہائی سے 5% سے زائد گر کر $4,455 پر بند ہوا۔ تکنیکی نقصان: جمعہ کی اس گراوٹ سے سونے نے اپنی 200 روزہ موونگ ایوریج ($4,513) کے اوپر بننے والا اہم بریک آؤٹ دوبارہ گنوا دیا ہے۔ آئندہ ہفتے کی نظر: اگلا سب سے اہم ایونٹ جمعہ 4 ستمبر کو جاری ہونے والی امریکی نان فارم پے رولز (NFP) رپورٹ ہے، جو فیڈ پالیسی اور سونے کے اگلے رجحان کا فیصلہ کرے گی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں KSE-100 انڈیکس نے آج بھی ایک تنگ رینج میں اتار چڑھاؤ دکھایا، جہاں انڈیکس نے معمولی مثبت بندش دی لیکن مارکیٹ کی مجموعی وسعت (breadth) اور ٹرن اوور میں کمی نے سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کی نشاندہی کی، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ اب بھی ایک واضح رجحان کی تلاش میں ہے۔
پاکستانی روپے (PKR) آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں مزید کمزور ہو کر 277.91 پر بند ہوا۔ درآمدی ادائیگیوں کا مسلسل دباؤ اور مقامی مارکیٹ میں ڈالر کی طلب میں اضافہ اس گراوٹ کی بنیادی وجوہات ہیں۔
پاکستانی روپے (PKR) آج امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں انٹربینک مارکیٹ میں مزید کمزور ہوا، جو 0.16% کے اضافے کے ساتھ 277.77 پر بند ہوا۔ یہ گراوٹ درآمدی ادائیگیوں کے مسلسل دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی کی وجہ سے ہوئی ہے۔
آج انٹربینک مارکیٹ میں پاکستانی روپے (PKR) امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں 0.34% گراوٹ کا شکار ہوا اور 277.66 پر بند ہوا۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی کی توقعات اس گراوٹ کی اہم وجوہات ہیں۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں