آج 19 اگست 2026 کو انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر پاکستانی روپے کے مقابلے میں 277.75 روپے پر بند ہوا، جو کہ گزشتہ روز کے مقابلے میں 0.20% کی معمولی گراوٹ کو ظاہر کرتا ہے۔
"moodys report and imf negotiations resulted mixed closing in psx" کے لیے 1126 نتائج۔
آج 19 اگست 2026 کو انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر پاکستانی روپے کے مقابلے میں 277.75 روپے پر بند ہوا، جو کہ گزشتہ روز کے مقابلے میں 0.20% کی معمولی گراوٹ کو ظاہر کرتا ہے۔
کمزور برطانوی روزگار کے اعداد و شمار کے بعد پاؤنڈ دباؤ میں آ گیا اور GBP/USD تقریباً 1.3530 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ اب مارکیٹ کی نظریں UK July CPI اور Fed Minutes پر ہیں۔
آج 18 اگست 2026 کو پاکستانی مارکیٹ میں 24 قیراط سونے کی قیمت 453,700 روپے فی تولہ پر برقرار رہی جبکہ عالمی مارکیٹ میں XAU/USD $4,393.80 پر مستحکم ہے۔ DXY 99.67 پر ٹریڈ کر رہا ہے، جو سونے کے لیے ممکنہ طور پر منفی رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔
Gold سونے کی قیمت کے آؤٹ لک میں خام تیل کی بڑھتی قیمتیں، مہنگائی کے خدشات، فیڈ کی شرح سود میں اضافے کی توقعات اور امریکہ ایران کشیدگی اہم عوامل ہیں۔
Gold سونا 4,400 ڈالر کے قریب مضبوط ہے، جبکہ کمزور امریکی ڈیٹا اور فیڈ ریٹ ہائیک کی گھٹتی توقعات قیمت کو سپورٹ کر رہی ہیں۔
آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی بہتری دیکھی گئی، جبکہ عالمی سطح پر DXY انڈیکس میں گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔
کرپٹو کرنسی کی دنیا میں Security سب سے اہم ستون ہے، کیونکہ یہاں معمولی سی غفلت بھی سرمایہ کاروں کے لیے بڑے مالی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ حالیہ SafePal Data Breach نے ایک بار پھر Crypto Security کے حوالے سے اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔
آج 16 اگست 2026 کو کرپٹو مارکیٹ میں Bitcoin اور Ethereum دونوں میں معمولی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ پاکستانی P2P مارکیٹ میں USDT/PKR کی قیمت 277.57 روپے پر مستحکم رہی۔
16 اگست 2026 کو سونے کی عالمی اور مقامی قیمتیں بغیر کسی بڑی تبدیلی کے مستحکم رہیں، جبکہ ڈالر انڈیکس (DXY) 99.64 پر مستحکم رہا۔
امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی IAEA کے آئندہ اجلاس میں ایران کے معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تک بھیجنے والی قرارداد کی حمایت کر رہے ہیں۔ رائٹرز کی جانب سے دیکھے گئے مجوزہ متن کے مطابق قرارداد IAEA کے ڈائریکٹر جنرل سے موجودہ اور سابقہ قراردادیں سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو منتقل کرنے کا مطالبہ کرے گی۔ مجوزہ قرارداد ابھی باضابطہ طور پر جمع نہیں ہوئی، اس لیے ایران کو سلامتی کونسل رپورٹ کیا جانا ابھی منظور شدہ فیصلہ نہیں۔ IAEA کے مطابق ایران نے بمباری سے متاثرہ تنصیبات تک مکمل رسائی بحال نہیں کی اور ایجنسی افزودہ یورینیم کے ذخائر کی موجودہ مقدار کی تصدیق نہیں کر پا رہی۔ اگر قرارداد منظور ہوتی ہے تو یہ تقریباً 20 سال بعد ایران کے جوہری معاملے کو IAEA بورڈ سے سلامتی کونسل تک لے جانے کی ایک بڑی سفارتی کشیدگی ہوگی۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں