عالمی فنانشل مارکیٹس اور انرجی سیکٹر اس وقت ایک نئے جیو پولیٹیکل (Geopolitics) موڑ پر کھڑے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روس اور یوکرین کے درمیان ایک ہنگامی اور غیر متوقع "انرجی سیز فائر" (Energy Ceasefire) کا اعلان سامنے آیا ہے
Tag
28 مضامین
عالمی فنانشل مارکیٹس اور انرجی سیکٹر اس وقت ایک نئے جیو پولیٹیکل (Geopolitics) موڑ پر کھڑے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روس اور یوکرین کے درمیان ایک ہنگامی اور غیر متوقع "انرجی سیز فائر" (Energy Ceasefire) کا اعلان سامنے آیا ہے
یمن میں جاری تنازعے نے ایک خطرناک موڑ اختیار کر لیا ہے، جہاں حوثی گروپ (Ansar Allah) کی جانب سے سعودی عرب اور جنوبی یمن پر داغے گئے میزائلوں نے نہ صرف خطے کی سکیورٹی صورتحال کو تہہ و بالا کر رکھا ہے بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی عالمی مارکیٹس میں بھی گہرے خدشات کو جنم دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرتے ہوئے ڈیزل کی مختلف اقسام پر عائد پابندیوں کو نرم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس پالیسی تبدیلی کا بنیادی مقصد بڑھتی ہوئی قیمتوں کو قابو میں لانا اور صارفین کے لیے ایندھن کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو کم کرنا ہے
عالمی انرجی مارکیٹس میں آج اس وقت ایک اہم موڑ دیکھا گیا جب Crude Oil Prices میں Middle East Crisis کے تناظر میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
گذشتہ رات Houthis Attack on Madina Al Munawara کے واقعے میں مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کو بجلی فراہم کرنے والے پاور اسٹیشن اور رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات نے ایک بار پھر عالمی سرمایہ کاروں اور پالیسی سازوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی جانب سے ایرانی وفد کو ملک چھوڑنے کے احکامات، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت بیانات اور ایرانی پارلیمنٹ کے ردعمل نے ایک نئے معاشی محاذ کو جنم دیا ہے۔
ایک طرف جہاں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے سخت شرائط برقرار ہیں، وہیں دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات نے امریکہ اور تہران کے درمیان مذاکرات کی توقعات نے تجارتی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ دی ہے
توانائی کی مارکیٹس میں اس وقت غیر یقینی صورتحال جاری ہے کیونکہ ڈبلیو ٹی آئی کروڈ آئل (WTI Crude Oil) کی قیمتیں 92 ڈالر کی نفسیاتی حد سے نیچے آ گئی ہیں۔ ایشیائی سیشن کے دوران اس کمی نے تیل کی دو روزہ مسلسل تیزی کے تسلسل کو توڑ دیا ہے
سعودی East-West Pipeline میں منگل، 22 ستمبر کو محدود بہاؤ بحال ہونے کی اطلاعات آئیں؛ 11 ستمبر کے ڈرون حملے کے بعد یہ اہم متبادل راستہ بند تھا۔ خبر کے بعد Brent Crude دورانِ تجارت دو ڈالر سے زیادہ گر کر 97 ڈالر کے قریب آیا؛ یہ اس وقت کی قیمت تھی، بدھ کا تازہ نرخ یا منگل کی اختتامی قیمت نہیں۔ ذرائع نے مکمل بحالی کے لیے چھ سے آٹھ ہفتے بتائے ہیں۔ ابتدائی پمپنگ کم رفتار سے جاری ہے اور Saudi Aramco کا باضابطہ نظام الاوقات سامنے نہیں آیا۔ سابقہ بہاؤ تقریباً 40 لاکھ بیرل یومیہ تھا، جبکہ مجموعی گنجائش 70 لاکھ بیرل ہے؛ دونوں اعداد کو موجودہ برآمدات یا فوری اضافی عالمی رسد نہیں سمجھنا چاہیے۔ اگلی تصدیق ینبع سے کارگو کی حقیقی لوڈنگ، مسلسل روانگی اور بڑھتے بہاؤ سے ہوگی؛ Strait of Hormuz کی بحالی ابھی شرائط سے جڑی ہے اور علاقائی خطرات باقی ہیں۔
گذشتہ رات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے سائیڈ لائنز پر ہونے والے مذاکرات نے سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی طرف مبذول کروا لی ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشمکش اور سفارتی محاذ پر پیدا ہونے والی نئی پیشرفت کے بعد WTI Crude Oil کی قدر میں گراوٹ ریکارڈ کی جا رہی ہے
دنیا کے سب سے بڑے خام تیل فراہم کنندہ سعودی عرب کی برآمدات اور اہم سمندری گزرگاہوں پر منڈلاتے ہوئے خطرات نہ صرف خطے کی سلامتی بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی تشویشناک ہیں
عالمی مارکیٹس میں توانائی کا بحران اس وقت اپنے عروج پر ہے، جس کی سب سے بڑی وجہ Saudi Oil Crisis اور مشرقِ وسطیٰ میں حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے۔
عالمی مارکیٹس میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھائو ہمیشہ سے سرمایہ کاروں کے لیے ایک پُرجوش اور حساس موضوع رہا ہے۔ آج ڈبلیو ٹی آئی خام تیل میں اس وقت نمایاں کمی دیکھنے میں آئی جب یہ 100 ڈالر فی بیرل کے قریب آ گیا۔
مشرق وسطیٰ میں امن کی امیدوں کو اس وقت شدید دھکا لگا جب Strait of Hormuz کے معاملے پر خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان ہونیوالی میٹنگ ملتوی ہونے کی تصدیق کی گئی۔
اختتام ہفتہ پر تقریباً 4 فیصد کی گراوٹ کے بعد، مغربی ٹیکساس انٹرمیڈیٹ ( WTI Crude Oil) کی قیمتیں ایشیائی تجارتی اوقات میں بحالی کے بعد تقریباً 99.40 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہی ہیں۔
مشرق وسطی کی اہم ترین ایسٹ ویسٹ Saudi Oil Pipeline کو عارضی طور پر بند کرنے اور یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں سٹریٹجک جزیرہ پیرم پر قبضے نے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
سعودی عرب کی خام تیل کی پیداوار گزشتہ 36 سالوں کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ خطے میں جاری تنازعات، اہم سمندری گزرگاہوں کی بندش اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں نے سعودی عرب کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنی سپلائی میں نمایاں کمی کرے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگ US Iran war امریکی مڈٹرم انتخابات کے فوراً بعد "فوری طور پر" ختم ہو جائے گی
Brent Crude Oil آج یورپی سیشنز کے دوران 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد کو عبور کرتے ہوئے چھ ہفتے کی نئی بلندی پر پہنچ گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ مشرق وسطیٰ میں شدت اختیار کرتی ہوئی کشیدگی اور اہم بحری گزرگاہوں پر ہونے والے حملے ہیں۔
✓ شکریہ! آپ کی سبسکرپشن کامیابی سے درج ہو گئی۔
پہلا ڈائجسٹ آپ کے انباکس میں جلد پہنچے گا۔
آپ کے پسندیدہ معاشی شعبے، سونا صرافہ، فاریکس اور پی ایس ایکس ایکسچینج کی روزانہ یا ہفتہ وار آپ ڈیٹس براہِ راست اِن باکس میں وصول کریں۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں