مشرق وسطی کی سیاست اور عالمی معیشت کے منظر نامے میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب امریکی حکام نے ایران پر اپنی نوعیت کی انوکھی پابندیوں کا اعلان کر دیا۔ جن کے منگل سے دنیا بھر کی فضائی حدود تمام Iranian Airlines کے لیے بند کر دی جائیں گی۔
Tag
12 مضامین
مشرق وسطی کی سیاست اور عالمی معیشت کے منظر نامے میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب امریکی حکام نے ایران پر اپنی نوعیت کی انوکھی پابندیوں کا اعلان کر دیا۔ جن کے منگل سے دنیا بھر کی فضائی حدود تمام Iranian Airlines کے لیے بند کر دی جائیں گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگ US Iran war امریکی مڈٹرم انتخابات کے فوراً بعد "فوری طور پر" ختم ہو جائے گی
امریکی وزارت خزانہ نے ایران کے ایوی ایشن سیکٹر کے خلاف سخت ترین اقدامات کا اعلان کیا۔ اس جامع اقدام کے تحت تہران پر اقتصادی دباؤ کو مزید بڑھاتے ہوئے مجموعی طور پر 36 نئے اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے دعوی کیا ہے کہ اردن میں امریکی فوجی اڈوں US Military Bases پر ایران کے میزائل حملوں کا دوسرا مرحلہ جاری ہے جبکہ دوسری طرف سینٹکام نے پانچ ایرانی آئل ٹینکر تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے
AP نے امریکی اہلکار کے حوالے سے ایرانی ٹینکروں پر نئی امریکی کارروائی رپورٹ کی ہے؛ ایرانی سرکاری ٹی وی نے خارک اور جاسک کے قریب حملوں کی اطلاع دی۔ امریکی اہلکار نے کارروائی کو بحری جنگی جہاز پر ایرانی میزائل حملوں کی کوشش کا جواب قرار دیا؛ یہ مؤقف اہلکار سے منسوب ہے، آزاد فوجی تحقیق کا نتیجہ نہیں۔ CENTCOM نے 5 ستمبر کو تین ایرانی ٹینکروں کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا تھا؛ تازہ حملوں کے تمام اہداف اور نقصان کی تفصیلی عوامی تصدیق باقی ہے۔ خارک ایران کی خام تیل برآمدات کا مرکزی مقام ہے، جبکہ جاسک ہرمز کے مشرق میں واقع ہے؛ ٹینکروں پر حملے اور برآمدی ٹرمینل کو نقصان الگ حقائق ہیں۔ تیل پہلے ہی 100 ڈالر کے قریب رہا ہے؛ مسلسل حملے جہاز رانی، بیمہ اور برآمدی لاگت بڑھا سکتے ہیں، مگر تازہ کارروائی سے رسد میں کمی کی مقدار ابھی واضح نہیں۔
عالمی مارکیٹس میں جب بھی جغرافیائی سیاسی ( تنازعات شدت اختیار کرتے ہیں، تو اس کے براہ راست اثرات توانائی کے شعبے اور کموڈیٹیز کی قیمتوں پر پڑتے ہیں۔ موجودہ تناظر میں، US Iran conflict نے سرمایہ کاروں اور پالیسی سازوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی ہے۔
جنگ صرف میدانِ جنگ کو نہیں ہلاتی بلکہ اس کے اثرات دنیا کی معیشت، تیل کی قیمتوں اور فنانشل مارکیٹس تک پہنچتے ہیں۔ US Iran War نے بھی عالمی سرمایہ کاروں کے سامنے ایک بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے
AUDUSD میں غیر یقینی صورتحال پیدا کی ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی اور تجارت کے لیے ایک انتہائی اہم راستہ ہے۔ اس خطے میں کسی بھی بڑے تنازع یا سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات سے سرمایہ کاروں کے ٹرینڈز تیزی سے تبدیل ہو سکتے ہیں۔
رواں ہفتے امریکہ کی جانب سے ایران پر نئی پابندیوں اور اس کے جواب میں ایرانی حکومت کے سخت ردعمل اور انتقامی کارروائی کے عزم نے عالمی مارکیٹس میں ایک بار پھر بے یقینی پیدا کر دی ہے۔ اس نوعیت کے بحران سرمایہ کاروں کے لیے بڑے خطرات ضرور پیدا کرتے ہیں
امریکہ کی جانب سے ایران کے تجارتی شراکت داروں اور معاشی روابط کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی نے مارکیٹ میں یہ خدشات پیدا کیے ہیں کہ موجودہ کشیدگی محض سیاسی تنازع تک محدود نہیں رہے گی بلکہ عالمی معیشت اور تجارت کے لیے بھی بڑے خطرات پیدا کر سکتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ( نے ایران کے خلاف ایک انتہائی سخت، غیر معمولی اور تباہ کن معاشی کارروائی شروع کرنے کا باضابطہ اعلان کیا ہے
Strait Of Hormuz کے دوبارہ کھلنے کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال نے Global Energy Markets میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والی تیل کی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹ نے مارکیٹ میں Supply Risk Premium کو بڑھا دیا ہے۔
✓ شکریہ! آپ کی سبسکرپشن کامیابی سے درج ہو گئی۔
پہلا ڈائجسٹ آپ کے انباکس میں جلد پہنچے گا۔
آپ کے پسندیدہ معاشی شعبے، سونا صرافہ، فاریکس اور پی ایس ایکس ایکسچینج کی روزانہ یا ہفتہ وار آپ ڈیٹس براہِ راست اِن باکس میں وصول کریں۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں