معاشی مارکیٹس میں اس وقت USDJPY کا جوڑا ایک انتہائی دلچسپ موڑ پر کھڑا ہے۔ ایشیائی سیشن کے دوران جمعرات کے روز USDJPY میں کمی دیکھی گئی، جو پچھلے ڈیڑھ ہفتے کی بلند ترین سطح (تقریباً 158.50) سے پچھلے دن کی گراوٹ کو مزید آگے بڑھا رہی ہے۔
Tag
8 مضامین
معاشی مارکیٹس میں اس وقت USDJPY کا جوڑا ایک انتہائی دلچسپ موڑ پر کھڑا ہے۔ ایشیائی سیشن کے دوران جمعرات کے روز USDJPY میں کمی دیکھی گئی، جو پچھلے ڈیڑھ ہفتے کی بلند ترین سطح (تقریباً 158.50) سے پچھلے دن کی گراوٹ کو مزید آگے بڑھا رہی ہے۔
USD/JPY تقریباً 158.03 پر ہے۔ 158.25–158.50 کے اوپر قیمت برقرار رہنا مزید تیزی کی پہلی اہم شرط ہے۔ 157.30–157.50 فوری سپورٹ ہے، جبکہ 156.80–157.00 کے نیچے بریک ڈاؤن حالیہ ریکوری کو کمزور کرسکتا ہے۔ بڑے پرائس ایکشن میں ستمبر کی گراوٹ کے بعد 153.50 کے قریب سے ریکوری ہوئی ہے، جبکہ قلیل مدتی پرائس ایکشن میں خریداروں نے Higher Highs and Higher Lows بنانے کی کوشش کی ہے۔ بینک آف جاپان (BoJ) نے ستمبر میں پالیسی ریٹ بڑھا کر 1.25 فیصد کردیا تھا، جبکہ امریکی فیڈرل ریزرو نے 16 ستمبر کو Fed Funds Target Range کو بڑھا کر 3.75–4.00 فیصد کردیا۔ آج مارکیٹ کی توجہ امریکی Nonfarm Payrolls (NFP)، بے روزگاری کی شرح اور اجرتوں کے اعداد پر ہے، کیونکہ یہ امریکی شرح سود اور ڈالر کی سمت کے لیے اہم ہوسکتے ہیں۔ ستمبر کے لیے مارکیٹ کی توقع تقریباً 90,000 نئی ملازمتوں اور 4.1 فیصد بے روزگاری کی شرح کی ہے۔
BoJ کی جولائی اجلاس کی روداد میں مہنگائی کے بڑھتے خطرات اور نسبتاً تیز شرح سود اضافے کی گنجائش سامنے آئی، مگر یہ آئندہ فیصلے کا حتمی وعدہ نہیں۔ USD/JPY پیر کی ایشیائی تجارت میں تقریباً 157.7 رہا اور ین 0.3 فیصد کمزور ہوا؛ سخت گیر جاپانی اشاروں کے باوجود ڈالر کی مجموعی برتری برقرار رہی۔ ڈالر انڈیکس (DXY) تقریباً 101.15 اور Brent Crude دوبارہ 106 ڈالر سے اوپر رہا، جبکہ بلند امریکی بانڈ منافع نے ڈالر کو سہارا دیا۔ ستمبر میں ڈالر انڈیکس کا اضافہ تقریباً 1.7 فیصد تھا۔ جاپانی دس سالہ بانڈ کی شرح منافع جمعہ کو دورانِ تجارت 3.115 فیصد تک پہنچی؛ تاہم ین کے لیے امریکی اور جاپانی شرح منافع کا باہمی فرق زیادہ اہم ہے۔ اس ہفتے امریکی PCE، روزگار کے اعداد اور BoJ کے ستمبر اجلاس کی آرا کا خلاصہ اہم ہوگا؛ جاپانی و امریکی حکام کے رابطے مشترکہ کرنسی مداخلت کی تصدیق نہیں۔ نئی عملی مداخلت کا دعویٰ الگ تصدیق چاہتا ہے۔
USD/JPY بدھ، 23 ستمبر کی ابتدائی ایشیائی تجارت میں تقریباً 157.60 پر رہا؛ یہ متعلقہ سیشن کی رپورٹ شدہ قیمت ہے، پورے دن کا اختتامی یا مستقل نرخ نہیں۔ BoJ نے 18 ستمبر کو شرح سود 25 بیسس پوائنٹس بڑھا کر 1.25 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا، مگر نئی شرح 24 ستمبر سے نافذ ہوگی؛ اعلان اور نفاذ کی تاریخ الگ ہیں۔ Federal Reserve کی شرح 3.75 سے 4.00 فیصد ہے۔ دونوں بینکوں کے یکساں اضافے کے بعد بھی شرح سود کا فرق ڈالر کے حق میں رہے گا، اگرچہ کرنسی کی سمت صرف یہی عامل طے نہیں کرتا۔ جاپان میں Autumnal Equinox Day کی تعطیل سے مقامی شرکت محدود ہے۔ عالمی فاریکس تجارت جاری ہے، مگر کم لیکویڈیٹی میں خبر یا بڑے آرڈر کا اثر زیادہ ہوسکتا ہے۔ 160 اہم نفسیاتی سطح ہے، سرکاری مداخلت کی اعلان شدہ حد نہیں۔ آئندہ سمت کے لیے امریکی ییلڈز، مرکزی بینکوں کی رہنمائی اور جاپانی حکام کے اقدامات اہم رہیں گے۔
USD/JPY ایشیائی سیشن میں گر کر 152.89 پر آ گیا، جو کہ 18 فروری 2026 کے بعد جاپانی ین کی امریکی ڈالر کے مقابلے میں مضبوط ترین قدر ہے۔ جاپان میں جولائی کے دوران حقیقی اجرتوں میں سالانہ بنیاد پر 2.4 فیصد کا ٹھوس اضافہ ہوا، جس نے گھریلو قوتِ خرید کو تحفظ دے کر بینک آف جاپان (BoJ) کے لیے شرحِ سود بڑھانے کا راستہ ہموار کیا ہے۔ دوسری سہ ماہی کی حقیقی GDP growth سالانہ شرح پر ابتدائی 1.1 فیصد سے بڑھا کر 1.4 فیصد کر دی گئی۔ کاروباری سرمایہ کاری بدستور منفی رہی، تاہم اس میں کمی ابتدائی تخمینے سے کم تھی، جبکہ بیرونی طلب نے مجموعی نمو کو اہم سہارا دیا۔ امریکی ڈالر انڈیکس (DXY) پر دباؤ: ڈالر کا اشاریہ گر کر 98.83 کی دو ہفتوں کی کم ترین سطح پر آ گیا، جس سے جوڑی پر نیچے کی جانب دو طرفہ دباؤ قائم ہوا۔ اگرچہ ین مضبوط ہے، تاہم 10 سالہ امریکی ٹریژری ییلڈ 4.79 فیصد پر برقرار رہنے اور خام تیل کی اونچی قیمتوں کے باعث پیدا ہونے والا شرحِ سود کا فرق فیڈ اور ڈالر کے لیے بدستور ایک دفاعی دیوار بنا ہوا ہے۔
آج جاپانی ین نے اپنی تمام بڑی حریف کرنسیوں کے مقابلے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کئی ماہ کی بلند ترین سطح کو چھو لیا ہے۔ جبکہ اس کے خلاف امریکی ڈالر یعنی USDJPY رواں سال کے کم ترین حصوں تک آ چکا ہے۔
حالیہ دنوں میں عالمی مارکیٹس میں USDJPY کے حوالے سے خاصی سرگرمی دیکھی جا رہی ہے۔ امریکی ڈالر اور جاپانی ین کا یہ اہم کرنسی پیئر مسلسل اتار چڑھاؤ کا شکار ہے، جبکہ جاپانی ین نفسیاتی سطح 160.00 کے قریب کمزور پوزیشن میں دکھائی دے رہا ہے۔
آج ایشیائی سیشن کے آغاز میں USDJPY کی قدر میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی اور یہ جوڑا تقریباً 159.30 کی سطح پر آ گیا۔ جاپانی ین (Japanese Yen) میں آنے والی یہ مضبوطی بنیادی طور پر ٹوکیو کی افراط زر پر رپورٹ Tokyo Consumer Price Index کے تازہ اعداد و شمار کے بعد سامنے آئی
✓ شکریہ! آپ کی سبسکرپشن کامیابی سے درج ہو گئی۔
پہلا ڈائجسٹ آپ کے انباکس میں جلد پہنچے گا۔
آپ کے پسندیدہ معاشی شعبے، سونا صرافہ، فاریکس اور پی ایس ایکس ایکسچینج کی روزانہ یا ہفتہ وار آپ ڈیٹس براہِ راست اِن باکس میں وصول کریں۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں