Chart Pro 👤 لاگ ان (Login)
عالمی منڈی

امریکہ اور یورپی اتحادی ایران کا جوہری معاملہ سلامتی کونسل بھیجنے کے لیے IAEA قرارداد چاہتے ہیں

اہم نکات

  • امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی IAEA کے آئندہ اجلاس میں ایران کے معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تک بھیجنے والی قرارداد کی حمایت کر رہے ہیں۔
  • رائٹرز کی جانب سے دیکھے گئے مجوزہ متن کے مطابق قرارداد IAEA کے ڈائریکٹر جنرل سے موجودہ اور سابقہ قراردادیں سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو منتقل کرنے کا مطالبہ کرے گی۔
  • مجوزہ قرارداد ابھی باضابطہ طور پر جمع نہیں ہوئی، اس لیے ایران کو سلامتی کونسل رپورٹ کیا جانا ابھی منظور شدہ فیصلہ نہیں۔
  • IAEA کے مطابق ایران نے بمباری سے متاثرہ تنصیبات تک مکمل رسائی بحال نہیں کی اور ایجنسی افزودہ یورینیم کے ذخائر کی موجودہ مقدار کی تصدیق نہیں کر پا رہی۔
  • اگر قرارداد منظور ہوتی ہے تو یہ تقریباً 20 سال بعد ایران کے جوہری معاملے کو IAEA بورڈ سے سلامتی کونسل تک لے جانے کی ایک بڑی سفارتی کشیدگی ہوگی۔
Muhammad Azhar Saleem
Muhammad Azhar Saleem

ایران کے جوہری معاملے پر امریکہ اور یورپی ممالک کی مجوزہ IAEA قرارداد اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ممکنہ حوالگی
امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی ایران کے جوہری معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تک بھیجنے کے لیے IAEA قرارداد پر کام کر رہے ہیں، تاہم مسودہ ابھی باضابطہ طور پر پیش یا منظور نہیں ہوا۔

امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی ایران کے جوہری معاملے کو ایک نئے سفارتی مرحلے میں لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چاروں ممالک آئندہ ہفتے IAEA کے بورڈ آف گورنرز سے ایسی قرارداد منظور کرانا چاہتے ہیں جس کے تحت ایران کے معاملے کو تقریباً دو دہائیوں بعد دوبارہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تک بھیجا جائے۔ تاہم مجوزہ متن ابھی باضابطہ طور پر بورڈ میں جمع نہیں ہوا اور اس کی حتمی عبارت پر مذاکرات جاری ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب IAEA کو ایران کی بمباری سے متاثرہ جوہری تنصیبات تک مکمل رسائی حاصل نہیں اور ایجنسی افزودہ یورینیم کے باقی ذخیرے کی آزادانہ تصدیق نہیں کر پا رہی۔ اس لیے موجودہ معاملہ محض سیاسی دباؤ نہیں بلکہ ایران کے جوہری مواد کی نگرانی اور بین الاقوامی عدم پھیلاؤ کے نظام سے متعلق ایک اہم تعطل ہے۔

اصل نئی پیش رفت کیا ہے؟

رائٹرز کے مطابق امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایک مجوزہ قرارداد تیار کی ہے جسے آئندہ ہفتے IAEA کے 35 رکنی بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ مجوزہ متن میں IAEA کے ڈائریکٹر جنرل سے کہا گیا ہے کہ ایران سے متعلق موجودہ قرارداد اور پہلے منظور شدہ متعلقہ قراردادیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کو منتقل کی جائیں۔

اہم بات یہ ہے کہ یہ متن ابھی باضابطہ قرارداد نہیں بنا۔ سفارت کاروں کے مطابق حتمی عبارت پر بات چیت جاری ہے اور بورڈ نے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ اس لیے موجودہ مرحلہ ایک تصدیق شدہ سفارتی کوشش ہے، نہ کہ ایران کو سلامتی کونسل بھیجے جانے کی مکمل کارروائی۔

یہ قدم اتنا اہم کیوں ہے؟

IAEA بورڈ کی جانب سے ایران کو سلامتی کونسل رپورٹ کیا جانا تقریباً دو دہائیوں میں پہلی بار ہوگا۔ یہ اس لیے اہم ہے کیونکہ IAEA تکنیکی نگرانی اور جوہری تحفظات کا ادارہ ہے، جبکہ سلامتی کونسل بین الاقوامی امن و سلامتی سے متعلق سیاسی اور قانونی اقدامات کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اگر بورڈ یہ قدم اٹھاتا ہے تو ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان موجود جوہری تنازع مزید واضح طور پر اقوام متحدہ کے اعلیٰ سیاسی فورم تک پہنچ جائے گا۔ تاہم سلامتی کونسل میں فوری نئی پابندیاں یا دوسرے عملی اقدامات خودکار نتیجہ نہیں ہوں گے۔ روس اور چین سلامتی کونسل کے مستقل ارکان ہیں اور ان کے پاس ویٹو کا اختیار موجود ہے۔

IAEA اور ایران کے درمیان بنیادی تعطل کیا ہے؟

اصل مسئلہ ایران کے جوہری مواد اور بمباری سے متاثرہ تنصیبات کی آزادانہ تصدیق ہے۔ اسرائیلی اور امریکی حملوں کے بعد ایران نے IAEA کے معائنہ کاروں کو متاثرہ جوہری مقامات تک مکمل واپسی کی اجازت نہیں دی۔ ایجنسی اس وجہ سے یہ تصدیق نہیں کر پا رہی کہ پہلے موجود افزودہ یورینیم کا کتنا حصہ محفوظ ہے، کہاں موجود ہے اور اس کی موجودہ حالت کیا ہے۔IAEA نے اس عدم تصدیق کو سنجیدہ نگرانی کا مسئلہ قرار دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ سفارتی تنازع صرف افزودگی کی سطح کے بارے میں نہیں بلکہ جوہری مواد کی مکمل نگرانی کے بارے میں بھی ہے۔

60 فیصد افزودہ یورینیم کا سوال

IAEA کے مطابق حملوں سے پہلے ایران کے پاس تقریباً 440.9 کلوگرام یورینیم موجود تھا جسے 60 فیصد تک افزودہ کیا گیا تھا۔

یہ سطح ہتھیاروں کے درجے سے کم ہے، لیکن عام شہری جوہری استعمال کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔ IAEA کے اندازے کے مطابق اگر اس مقدار کو مزید افزودہ کیا جائے تو نظریاتی طور پر کئی جوہری ہتھیاروں کے لیے درکار مواد حاصل کیا جا سکتا ہے۔

لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایران نے جوہری ہتھیار تیار کر لیے ہیں۔ ایران مسلسل کہتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔

آئندہ ہفتہ کیوں فیصلہ کن ہے؟

IAEA کا باقاعدہ بورڈ اجلاس 7 سے 11 ستمبر تک ویانا میں ہونا ہے۔ اسی اجلاس میں ایران کے جوہری تحفظات اور معائنوں کا معاملہ زیرِ بحث آئے گا۔ اگر چار مغربی طاقتیں مجوزہ قرارداد باضابطہ طور پر پیش کرتی ہیں تو اگلا مرحلہ بورڈ کے اندر حمایت کا اندازہ اور ممکنہ ووٹنگ ہوگا۔

حالیہ برسوں میں انہی ممالک کی جانب سے ایران سے متعلق پیش کی گئی قراردادیں عموماً منظور ہوتی رہی ہیں، لیکن اس مرتبہ فیصلہ زیادہ اہم ہوگا کیونکہ معاملہ براہ راست سلامتی کونسل تک منتقل کرنے کی بات ہو رہی ہے۔

ایران کا ممکنہ ردِعمل کیا ہو سکتا ہے؟

ماضی میں ایران نے IAEA کی سخت قراردادوں کے بعد اپنی جوہری سرگرمیوں میں اضافہ یا ایجنسی کے ساتھ تعاون محدود کیا ہے۔ موجودہ صورتحال مختلف ہے کیونکہ بمباری کے بعد ایران کی اہم افزودگی تنصیبات شدید متاثر ہوئی ہیں اور اس کے عملی جوہری اختیارات پہلے کے مقابلے میں محدود ہوسکتے ہیں۔ اس کے باوجود ایران سفارتی، قانونی یا نگرانی سے متعلق جواب دے سکتا ہے۔ ابھی کسی نئے ایرانی جوابی اقدام کی تصدیق نہیں ہوئی، اس لیے ممکنہ ردِعمل کو یقینی نتیجہ نہیں سمجھنا چاہیے۔

امریکہ اور ایران کے موجودہ تنازع میں یہ کیوں اہم ہے؟

امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی اور مالی دباؤ پہلے ہی بڑھا ہوا ہے۔ اسی روز امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے مبینہ مالیاتی نیٹ ورک سے روابط پر ترکی کے Golden Global Bank اور اس کی ذیلی کمپنیوں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا۔

اب جوہری معاملے کو سلامتی کونسل کی طرف لے جانے کی کوشش دباؤ کا ایک الگ سفارتی راستہ کھولتی ہے۔ لیکن دونوں اقدامات کی قانونی نوعیت مختلف ہے۔ بینک پر پابندیاں پہلے ہی نافذ ہو چکی ہیں۔ IAEA قرارداد ابھی صرف مجوزہ ہے اور اس پر بورڈ کا فیصلہ باقی ہے۔

مارکیٹس کے لیے اصل خطرہ کہاں ہے؟

فی الحال اس مخصوص IAEA پیش رفت کے فوراً بعد سونے، تیل، امریکی ڈالر یا دوسرے بڑے اثاثوں میں ایسا الگ غیر معمولی ردِعمل تصدیق شدہ نہیں جسے براہ راست اسی خبر سے منسوب کیا جا سکے۔ اس لیے قیمتوں کی موجودہ حرکت کا سبب خود سے اخذ کرنا درست نہیں ہوگا۔ بازاری اہمیت اس وقت نمایاں طور پر بڑھے گی اگر قرارداد منظور ہوتی ہے، ایران سخت جوابی قدم اٹھاتا ہے یا جوہری تنازع دوبارہ فوجی کشیدگی میں اضافہ کرتا ہے۔ خصوصاً ایران اور آبنائے ہرمز سے پہلے ہی جڑے ہوئے توانائی خطرات کے باعث کسی نئی کشیدگی کا تیل اور مہنگائی کی توقعات تک پہنچنا ممکن ہے، لیکن ابھی یہ مستقبل کا خطرہ ہے، تصدیق شدہ بازاری اثر نہیں۔

آج کی اصل معلومات کیا بدلتی ہیں؟

ایران کے خلاف امریکی دباؤ اب صرف فوجی کارروائی اور مالی پابندیوں تک محدود نہیں رہا۔ امریکہ اور اس کے تین بڑے یورپی اتحادی جوہری نگرانی کے تعطل کو دوبارہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تک لے جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ لیکن خبر کا درست درجہ ابھی یہی ہے کہ قرارداد کا مسودہ موجود ہے، سفارتی مذاکرات جاری ہیں اور حتمی فیصلہ IAEA بورڈ نے نہیں کیا۔

اس لیے یہ ایک بڑی ممکنہ سفارتی کشیدگی ہے، منظور شدہ سلامتی کونسل کارروائی نہیں۔

اب آگے کیا دیکھنا ہوگا؟

سب سے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ چاروں ممالک مجوزہ قرارداد کو باضابطہ طور پر IAEA بورڈ میں کب اور کس عبارت کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ بورڈ میں ووٹنگ اور حمایت کا حجم اہم ہوگا۔ ایران کا سرکاری ردِعمل اور IAEA معائنہ کاروں کو رسائی دینے یا مزید محدود کرنے کا فیصلہ دیکھا جائے گا۔

روس اور چین کے مؤقف سے اندازہ ہوگا کہ سلامتی کونسل تک معاملہ پہنچنے کی صورت میں کسی عملی اقدام کی گنجائش کتنی ہے۔

فی الحال تصدیق شدہ نتیجہ یہ ہے کہ ایران کے جوہری تنازع کو تقریباً 20 سال بعد دوبارہ IAEA بورڈ سے سلامتی کونسل تک لے جانے کی ایک سنجیدہ مغربی سفارتی کوشش شروع ہو چکی ہے، لیکن قرارداد ابھی پیش اور منظور ہونا باقی ہے۔

⚠ تجزیہ ڈسکلیمر

یہ تجزیہ صرف تعلیمی و معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے سرمایہ کاری کا مشورہ نہ سمجھا جائے۔ مارکیٹ میں نقصان کا خطرہ موجود ہے؛ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی تحقیق کریں یا مستند مالی مشیر سے رجوع کریں۔

📩 یہ مضمون پسند آیا؟

روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر

w T 𝕏
Muhammad Azhar Saleem

✍ تحریر کردہ · UrduMarkets

اردو مارکیٹس کے مصنف · مالیاتی مارکیٹ تجزیہ

محمد اظہر سلیم UrduMarkets کے بانی، مالیاتی منڈیوں کے تجربہ کار تجزیہ کار اور مارکیٹ سائیکالوجی ریسرچر ہیں۔ ان کا کیریئر تقریباً تین دہائیوں پر محیط ہے، جس کا آغاز انہوں نے امریکی ایکسچینجز سے منسلک بروکرز کے ریجنل نمائندے کے طور پر کیا۔ ان کی بنیادی مہارت technical analysis، fundamental analysis، intermarket relati...

متعلقہ مضامین

3 مضامین
💬

تبصرے

0 گفتگو

💭

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔

🛡 تمام تبصرے ماڈریٹر کی منظوری کے بعد شائع ہوتے ہیں

🤖

اردو مارکیٹس اسسٹنٹ

لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ

تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں