پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق ہیڈلائن افراط زر 11.10 فیصد پر آنے کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے 11.50 فیصد پالیسی ریٹ کے باعث مثبت حقیقی شرح سود بحال ہو چکی ہے، جس سے آئندہ مانیٹری پالیسی اجلاس میں مزید ریٹ کٹ کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔
"french gdp report released which caused positive trend in cac" کے لیے 1120 نتائج۔
پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق ہیڈلائن افراط زر 11.10 فیصد پر آنے کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے 11.50 فیصد پالیسی ریٹ کے باعث مثبت حقیقی شرح سود بحال ہو چکی ہے، جس سے آئندہ مانیٹری پالیسی اجلاس میں مزید ریٹ کٹ کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔
پاکستان کی معیشت 11.50% پالیسی ریٹ اور 11.10% افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ بیرونی کھاتوں کے استحکام اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت USD/PKR 276.83 پر متوازن قائم ہے۔
ستمبر میں سالانہ مہنگائی 10.3 فیصد رہی، جو اگست کے مقابلے میں 0.8 فیصد پوائنٹ کم ہے۔ ماہانہ قیمتیں 1.3 فیصد بڑھیں؛ اگست میں اضافہ 1.2 فیصد تھا۔ شہری اور دیہی دونوں اشاریوں میں بجلی کے چارجز 15.28 فیصد بڑھے، جبکہ موٹر فیول کا اضافہ بالترتیب 10.76 اور 11.13 فیصد رہا۔ ٹماٹر اور مرغی سستے ہوئے، لیکن قومی سطح پر خوراک اور مشروبات کا مجموعی اشاریہ ماہانہ 0.19 فیصد بڑھا۔ خوراک اور توانائی کے بغیر بنیادی مہنگائی (Core Inflation) میں کمی آئی، تاہم توانائی کی بڑھتی لاگت شرح سود کے آئندہ فیصلوں کے لیے اہم رہے گی۔
عالمی مارکیٹ میں ڈالر انڈیکس کی مضبوطی کے باوجود XAU/USD کی قیمت $4,180.88 پر مستحکم رہی۔ پاکستان میں 24 قیراط فی تولہ سونا 441,200 روپے پر ٹریڈ ہو رہا ہے، جبکہ تکنیکی سیٹ اپ کنسولیڈیشن کا اشارہ دے رہا ہے۔
پاکستان کی معیشت 11.50 فیصد پالیسی ریٹ اور 11.10 فیصد افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے زمرے میں داخل ہو چکی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر، آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد اور ترسیلاتِ زر کے سہارے USD/PKR 277.10 کی سطح پر مستحکم ہے جبکہ KSE-100 انڈیکس 168,637 پوائنٹس پر موجود ہے۔
پاکستان کی معیشت میں افراط زر کے حوالے سے اہم اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، ستمبر 2026 میں پاکستان میں افراط زر کی سالانہ شرح کم ہو کر 10.3 فیصد پر ریکارڈ کی گئی ہے۔
وال اسٹریٹ میں Mag-7 ٹیکنالوجی دیو کی پیش قدمی جاری ہے۔ اینویڈیا اور ایپل کے ریکارڈز کے باعث انڈیکس تیزی کی نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے جبکہ مالیاتی سیکٹر پیچھے رہ گیا ہے۔
عالمی بانڈ مارکیٹ اسوقت ایک سنگین بحران کی لپیٹ میں ہے جسے Global Bonds Selloff کہا جا رہا ہے۔ امریکہ سے لے کر فرانس اور جاپان تک، حکومتوں کے لیے قرض لینے کی لاگت کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔
سونے کی مارکیٹ میں اس وقت شدید اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے جہاں گولڈ پرائس (Gold Price) روزانہ کی کم ترین سطح کے قریب منڈلا رہی ہے۔ سنہری دھات جمعرات کے روز یورپی سیشن کے آغاز میں کمزور ہو کر نچلی سطح پر آ گئی ہے، حالانکہ اس سے قبل ایشیائی سیشن میں اس میں معمولی ریکوری دیکھنے کو ملی تھی۔
موجودہ مالیاتی منظر نامے میں، پاکستان کی معیشتایک انتہائی اہم موڑ سے گزر رہی ہے۔ مالی سال 2026 کے اختتام پر، ملک کے معاشی اشاریے ملے جلا رجحان ظاہر کر رہے ہیں۔ جہاں Pakistan Public Debt FY26 میں اضافے کے ساتھ کل 86.72 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا،
بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت $4,189.76 فی اونس پر مستحکم ہے جبکہ امریکی 10 سالہ ییلڈز 5.293 فیصد تک بڑھنے سے قیمتوں پر شدید دباؤ ہے۔ مقامی مارکیٹ میں 24 قیراط سونا 441,000 روپے فی تولہ پر برقرار ہے۔
فاریکس مارکیٹ میں سپورٹ اور ریزسٹنس کی شناخت اور ٹریڈنگ کا مکمل طریقہ سیکھیں۔ یہ عملی گائیڈ ابتدائی اور درمیانی سطح کے ٹریڈرز کے لیے چارٹ پیٹرنز اور لیولز کے استعمال کو آسان بناتی ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں