انٹربینک اور اوپن مارکیٹ USD/PKR فرق کیا ہے؟ جانئے کہ اسٹیٹ بینک کی مداخلت، امپورٹرز کی ڈیمانڈ اور ہنڈی حوالا اس پریمیم کو کیسے متاثر کرتے ہیں۔
"gold value decreased after jerome powell hawkish policy rate statement" کے لیے 688 نتائج۔
انٹربینک اور اوپن مارکیٹ USD/PKR فرق کیا ہے؟ جانئے کہ اسٹیٹ بینک کی مداخلت، امپورٹرز کی ڈیمانڈ اور ہنڈی حوالا اس پریمیم کو کیسے متاثر کرتے ہیں۔
EUR/USD 1.1380 کی سطح پر مستحکم ہو رہا ہے، جو 1.1350 کے اہم سپورٹ لیول سے بائرز کے دوبارہ ابھرنے کی نشاندہی کرتا ہے۔ تاہم، 1.1450-1.1480 کی مزاحمتی سطح کو توڑنے کے لیے ٹھوس بنیادی محرکات کی ضرورت ہوگی۔ امریکی ٹریژری ییلڈز میں اضافہ ڈالر کو سپورٹ فراہم کر رہا ہے، جبکہ DXY میں معمولی گراوٹ یورو کو کچھ ریلیف دے رہی ہے۔
کرنسی کی طاقت ہمیشہ کسی دوسری کرنسی، کرنسیوں کی ٹوکری یا قوتِ خرید کے مقابل ناپی جاتی ہے۔ یہ تینوں پیمانے ایک ہی نتیجہ نہیں دیتے۔ شرحِ سود کی موجودہ سطح کے ساتھ اس کا متوقع راستہ، دوسری معیشت سے فرق اور پہلے سے موجود قیمت بندی اہم ہیں۔ بلند مہنگائی ملکی قوتِ خرید گھٹاتی ہے، مگر شرحِ مبادلہ پر فوری اثر پالیسی ردعمل اور خطرے کی نوعیت کے مطابق بدل سکتا ہے۔ مضبوط نمو، تجارتی سرپلس یا بلند ییلڈ تنہا کرنسی کی تیزی کا یقینی ثبوت نہیں۔ DXY منتخب کرنسیوں کے مقابل ڈالر کا اشاریہ ہے؛ اسے ہر کرنسی پر الگ اثر ڈالنے والا آزاد معاشی سبب نہ سمجھیں۔ COT مخصوص مشتق بازاروں کی پوزیشننگ دکھاتا ہے، پوری عالمی فاریکس مارکیٹ یا سرمایہ کاروں کی نیت کا مکمل ریکارڈ نہیں۔ بنیادی تجزیے میں مشاہدہ، حساب اور ممکنہ وجہ الگ رکھیں۔ مدت، متبادل وضاحت اور مفروضے کی ناکامی کی شرط واضح لکھیں۔
جمعہ، 25 ستمبر کو 07:04 UTC پر STOXX 600 تقریباً 0.7 فیصد بڑھ کر 640.66 پوائنٹس پر تھا؛ یہ ابتدائی سیشن کی ریڈنگ ہے، دن کی اختتامی قیمت نہیں۔ Brent جمعرات کے 106.60 ڈالر کے تصفیے کے مقابلے میں جمعہ کی ایشیائی تجارت میں تقریباً 105.50 ڈالر رہا؛ کمی کے باوجود توانائی کی لاگت اب بھی بلند ہے۔ سفری اور تفریحی شعبہ تقریباً 1.2 فیصد بڑھا، Ryanair اور Lufthansa میں 2 فیصد سے زیادہ تیزی آئی، جبکہ توانائی کے حصص تقریباً 0.7 فیصد نیچے رہے۔ جرمنی کا DAX تقریباً 0.6 فیصد اوپر تھا، مگر اکتوبر کے لیے صارف اعتماد کا اشاریہ منفی 30.6 پر آگیا؛ ستمبر کی نظرثانی شدہ ریڈنگ منفی 26.8 تھی۔ امریکی Bond Yields جمعہ کو بلند سطحوں سے کچھ نیچے آئے، لیکن مشرق وسطیٰ اور مہنگائی کے خطرات برقرار ہیں؛ بحالی کا تسلسل تیل، بانڈز اور خریداری کی وسعت سے جانچا جائے گا۔ ابتدائی تیزی کو پائیدار رجحان سمجھنے کے لیے مزید تجارتی تصدیق درکار ہے۔
فیڈرل ریزرو کے حالیہ FOMC اجلاس کے بعد 'ڈاٹ پلاٹ' میں شرح سود کی پیش گوئی میں نمایاں اضافے نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں 'گروتھ اسکیئر' کو گہرا کر دیا ہے۔ امریکی 10 سالہ ٹریژری ییلڈ 5.162% کی 2007 کے بعد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جبکہ ڈالر مستحکم ہے اور ابھرتی ہوئی معیشتوں پر سرمائے کے اخراج کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔ چیئرمین پاول کے بیانات نے 'بلند شرح سود طویل عرصے تک' کے بیانیے کو مزید تقویت دی ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیاں ایک 'رسک-آن' ماحول میں مزید مستحکم ہو رہی ہیں، جس کی بنیادی وجہ امریکی افراط زر (US CPI) میں مسلسل کمی اور مرکزی بینکوں کی جانب سے شرح سود میں کمی کے بڑھتے ہوئے امکانات ہیں۔ ڈالر (DXY) پر دباؤ بڑھ رہا ہے جبکہ کیری ٹریڈز (carry trades) میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس سے عالمی ایکویٹی مارکیٹوں کو تقویت مل رہی ہے۔
GBP/USD اس وقت 1.3225 کے قریب trade کر رہا ہے۔ مضبوط US Dollar کے باعث پاؤنڈ پر دباؤ برقرار ہے۔ 1.3200 موجودہ اہم support level ہے۔ اس کے نیچے break ہونے سے 1.3150 اور 1.3100 اہم ہو سکتے ہیں۔ اوپر کی طرف 1.3265 پہلا resistance ہے۔ 1.3300 کے اوپر مضبوطی آنے سے 1.3350 اگلا resistance بن سکتا ہے۔ US yields، Federal Reserve expectations اور UK economic data آئندہ movement کے لیے اہم رہیں گے۔
EUR/USD تقریباً 1.1371 پر trade کر رہا ہے۔ Pair حالیہ دو ماہ کی کم ترین سطح 1.1370 کے قریب ہے۔ مضبوط امریکی ڈالر اور بلند US Treasury yields دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ Fed کی ممکنہ rate hike کی توقعات بھی Dollar کو support دے رہی ہیں۔ جرمنی کا بہتر economic data Euro کو محدود support دے رہا ہے۔ 1.1370 اہم support ہے۔ اس کے نیچے 1.1350 اور 1.1325 اہم levels ہیں۔ اوپر 1.1385، 1.1400 اور 1.1450 اہم resistance levels ہیں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی آئندہ میٹنگ میں پالیسی ریٹ میں 100 بیسس پوائنٹس کی کمی کر سکتی ہے۔ اگست میں افراط زر 11.10% پر آ گیا ہے، جو موجودہ پالیسی ریٹ 11.50% سے کم ہے، جس سے حقیقی شرح سود مثبت ہو گئی ہے۔ یہ صورتحال معاشی سرگرمیوں کو سہارا دینے کے لیے شرح سود میں کمی کی راہ ہموار کرتی ہے۔
پاکستان کی معیشت میں آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحات اور متوازن بیرونی کھاتوں کے باعث استحکام آ رہا ہے۔ افراطِ زر میں کمی کے بعد مرکزی بینک کی طرف سے شرح سود میں مزید نرمی کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔
عالمی سرکاری بانڈ مارکیٹ میں امریکی ٹریژری کی قیادت میں ایک واضح 'اسٹیپننگ' کا رجحان دیکھا جا رہا ہے، جہاں طویل مدتی ییلڈز میں اضافہ جبکہ قلیل مدتی ییلڈز میں نسبتاً استحکام یا کمی آ رہی ہے۔ یہ صورتحال مستقبل میں معاشی نمو اور افراط زر کی توقعات میں اضافے کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ DXY میں کمی عالمی رسک سینٹیمنٹ میں بہتری کی نشاندہی کرتی ہے۔
ایتھیریم (ETH) کی قیمت $2,670 کی سطح پر مستحکم ہے، جہاں لیئر 2 (L2) ایکو سسٹم کی مسلسل ترقی اور نیٹ ورک کی بنیادی باتوں میں بہتری فروخت کے دباؤ کو متوازن کر رہی ہے۔ ETH/BTC کا تناسب ایک اہم کرپٹو بیٹا اشارے کے طور پر کام کر رہا ہے، جبکہ $2,650 پر مضبوط تکنیکی سپورٹ برقرار ہے۔ میکرو اکنامک عوامل اور ڈیریویٹوز مارکیٹ کے رجحانات پر گہری نظر رکھنا ضروری ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں