پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 5 اکتوبر 2026 کے سیشن کے اختتام پر KSE-100 انڈیکس 1.36 فیصد گر کر 165,867 پوائنٹس پر بند ہوا۔ سیشن کے دوران انڈیکس 172,756 کی بلند ترین سطح کو چھونے کے بعد شدید سیلنگ پریشر کا شکار ہوا۔
"german cpi report released which caused posituve rally in euro while negative in dax" کے لیے 1136 نتائج۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 5 اکتوبر 2026 کے سیشن کے اختتام پر KSE-100 انڈیکس 1.36 فیصد گر کر 165,867 پوائنٹس پر بند ہوا۔ سیشن کے دوران انڈیکس 172,756 کی بلند ترین سطح کو چھونے کے بعد شدید سیلنگ پریشر کا شکار ہوا۔
EUR/USD نے 1.1600 کے اوپر اپنی پوزیشن برقرار رکھی ہوئی ہے، جبکہ کمزور US Dollar نے Euro کو support دیا ہے۔ ECB کی interest rate expectations اورpair US inflation data کی اگلی direction کے لیے اہم رہیں گے۔ 1.1600 اہم Support ہے جبکہ 1.1650 اور 1.1700 اہم Resistance Levels ہیں۔ اگر price 1.1700 کے اوپر breakout دیتی ہے تو 1.1800 کی طرف مزید upside کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب 1.1600 کے نیچے break ہونے سے 1.1550 اور 1.1500 کی طرف downside کا risk بڑھ سکتا ہے۔
EUR/USD اہم 1.1600 Support Level کے اوپر برقرار ہے۔ مارکیٹ کی توجہ Eurozone HICP Inflation، ECB Rate Expectations اور Federal Reserve Policy پر ہے، جبکہ 1.1650، 1.1710 اور 1.1570 اگلی اہم Technical Levels ہیں۔
عالمی فنانشل مارکیٹس میں منگل کو اس وقت دباؤ بڑھ گیا جب ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی، خام تیل کی قیمتیں دوبارہ بڑھ گئیں اور سرمایہ کاروں نے مصنوعی ذہانت سے وابستہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے مالی نتائج پر توجہ مرکوز کر دی۔
Fed نے Interest Rate میں 25 basis points کا اضافہ کیا ہے۔ نئی 3.75Interest Rate range سے 4.00% ہے۔ Kevin Warsh نے Inflation پر قابو پانے کی اہمیت پر زور دیا۔ Inflation اب بھی Fed کے 2% target سے اوپر ہے۔ تازہ projections میں 2026 میں مزید Rate Hike کا امکان موجود ہے۔ US economic growth کا forecast بھی بہتر کیا گیا ہے۔
عالمی مارکیٹس میں جب بھی امریکہ کے روزگار کے اعداد و شمار یعنی US Nonfarm Payroll data کا اجرا ہوتا ہے، تو سرمایہ کاروں اور ٹریڈرز کی سانسیں رک جاتی ہیں۔ اگست کے مہینے کی یہ نوکریوں کی رپورٹ جمعہ کے روز دوپہر 13:30 عالمی معیاری وقت پر جاری کی جارہی ہے
30 اگست کے رپورٹنگ ٹایم پر Bitcoin تقریباً $78,142 پر تھا، اگر ایک ہفتہ پہلے کے مقابلے میں موازنہ کریں تو یہ تقریباً ڈھائی فیصد اوپر بنتا ہے۔ U.S. spot-Bitcoin ETFs میں ہفتے کے دوران تقریباً $924.5 million کے net inflows آئے، جبکہ جمعہ کے روز $201.9 million کا outflow ریکارڈ ہوا۔ Ethereum ETFs کے پانچوں sessions مثبت رہے اور weekly net inflows تقریباً $815.7 million تھے، مگر اسی دوران ETH/BTC میں تقریباً 1.1 فیصد کی کمی ہوئی۔ Bitcoin dominance اس ہفتہ 59.37 فیصد سے 59.48 فیصد تک معمولی بڑھی، جس سے اشارہ ملتا ہے کہ market کی لیڈ اب بھی Bitcoin کے پاس ہے۔ Stablecoin capitalization تقریباً $304.6 billion رہی اور ہفتہ وار اضافہ صرف 0.48 فیصد تھا، Liquidity مددگار ہے، مگر مارکیٹ میں اس سے معتلق کوئی غیر معمولی سرگرمی نظر نہیں آ رہی۔ جمعہ کے دن hawkish Fed repricing کی وجہ سے yields، dollar اور crypto دباؤ کا شکار رھے، اب اگلے ہفتے کا labor data اس outlook کا اہم macro امتحان ہوگا۔
امریکہ میں Stablecoin مارکیٹ کے لیے ریگولیشنز کا ایک اہم مرحلہ سامنے آیا ہے، جہاں امریکی دفتر برائے کرنسی کنٹرول (OCC) نے GENIUS Act کے تحت اپنے حتمی قواعد جاری کر دیے ہیں
امریکی معیشت سے جاری ہونے والے ستمبر کے کنزیومر پرائس انڈیکس (Consumer Price Index - CPI) کے غیر متوقع اعداد و شمار نے دنیا بھر کے سرمائے اور ڈائریکشن کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے، جس کے اثرات Bitcoin سمیت تمام کرپٹو کرنسیز پر محسوس کئے جا رہے ہیں۔
Bitcoin کی قیمت میں حالیہ استقامت نے ایک بار پھر عالمی مارکیٹس کو حیران کر دیا ہے۔ ادارے جاتی سرمائے کے بڑے انخلا اور عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال کے باوجود، Bitcoin نے 84,000 ڈالر کی اہم سطح سے اوپر اپنی پوزیشن مضبوط رکھی ہے۔
ستمبر کے مہینے میں چین کا مینوفیکچرنگ پرچیزنگ مینیجرز انڈیکس (Chinese Manufacturing PMI) بڑھ کر 50.1 پر پہنچ گیا ہے، جو کہ اگست میں 49.8 تھا۔
ADB نے ترقی پذیر ایشیا و بحرالکاہل کی نمو 2026 میں 5.0 فیصد اور 2027 میں 5.1 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے؛ یہ پورے ایشیا کی یکساں شرح نہیں۔ 2026 کی Inflation پیش گوئی 4.3 سے کم کرکے 4.2 فیصد، جبکہ 2027 کی 3.4 سے بڑھا کر 3.5 فیصد کی گئی ہے؛ اگلے سال کی شرح پھر بھی رواں سال سے کم متوقع ہے۔ توانائی کی طویل رکاوٹ اور شدید El Niño خوراک، پانی، پن بجلی اور بعض خام مال کی رسد متاثر کرسکتے ہیں؛ کم پن بجلی متبادل ایندھن کی طلب بھی بڑھا سکتی ہے۔ بلند قرض شرح سود بڑھانے کی معاشی لاگت میں اضافہ کرسکتا ہے، مگر اثر ہر ملک میں یکساں نہیں؛ قرض کی مدت، کرنسی، شرح اور مرکزی بینک کی خودمختاری اہم ہیں۔ نجی سرمایہ کاری، سرکاری معاونت اور AI سے متعلق برآمدات نمو کو سہارا دیتی ہیں؛ تاہم ٹیکنالوجی حصص میں بڑی گراوٹ، بلند Bond Yields اور مضبوط ڈالر خطرات بڑھا سکتے ہیں۔ اس لیے نمو کی پیش گوئی کو حصص کی یقینی تیزی نہ سمجھا جائے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں