بٹ کوائن 79,000 ڈالر کی حد کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے جبکہ مارکیٹ میں کیپیٹل روٹیشن (capital rotation) جاری ہے۔
"audusd declined due to increase in us bonds yields" کے لیے 561 نتائج۔
بٹ کوائن 79,000 ڈالر کی حد کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے جبکہ مارکیٹ میں کیپیٹل روٹیشن (capital rotation) جاری ہے۔
عالمی مارکیٹس میں جب بھی جغرافیائی سیاسی ( تنازعات شدت اختیار کرتے ہیں، تو اس کے براہ راست اثرات توانائی کے شعبے اور کموڈیٹیز کی قیمتوں پر پڑتے ہیں۔ موجودہ تناظر میں، US Iran conflict نے سرمایہ کاروں اور پالیسی سازوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی ہے۔
ایشیائی انڈیکسز میں تیزی: جاپان کا Nikkei 225 تقریباً 2% اور جنوبی کوریا کا Kospi تقریباً 3% چڑھے، جبکہ جاپان کے علاوہ وسیع ایشیائی مارکیٹس میں بھی 0.9% اضافہ ہوا۔ امریکی روزگار کا دوہرا اثر: مضبوط US Jobs ڈیٹا نے عالمی نمو پر اعتماد بحال کیا، مگر ساتھ ہی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرحِ سود طویل عرصے تک بلند رکھنے کے خدشات بھی برقرار رکھے۔ توانائی بحران میں استقامت: مشرقِ وسطیٰ کشیدگی اور برینٹ تیل کے 96 ڈالر پر پہنچنے کے باوجود ایشیائی حصص میں کسی بڑے پیمانے کی فروخت (Sell-off) کا دباؤ نہیں دیکھا گیا۔ ین اور نکیئی کا باہمی ربط: ڈالر کے مقابلے جاپانی ین کی مضبوطی کے باوجود Nikkei کا بڑھنا ظاہر کرتا ہے کہ تیزی صرف کمزور کرنسی پر نہیں بلکہ کمپنیوں کی حقیقی طلب پر قائم ہے۔ امریکی تعطیل (Labor Day): آج امریکا میں تعطیل کے باعث وال اسٹریٹ اور کیش ٹریژری مارکیٹس بند ہیں؛ اس ریلی کی حتمی عالمی توثیق منگل کو امریکی سیشن کھلنے پر ہوگی۔
خسارے میں سالانہ اضافہ: مالی سال 27 کے پہلے دو ماہ (2MFY27) میں تجارتی خسارہ 18.1 فیصد بڑھ کر 7.12 ارب ڈالر تک جا پہنچا، جس کے نتیجے میں تجارتی خلا میں 1.09 ارب ڈالر کا خالص اضافہ ہوا۔ درآمدات بمقابلہ برآمدات: ملکی درآمدات کی سالانہ رفتار (13%) برآمدات کی نمو (7%) کے مقابلے میں تقریباً دو گنی تیز رہی۔ اگست کی ماہانہ حقیقت: اگست کا خسارہ جولائی کے مقابلے میں 19.7 فیصد کم ہو کر 3.17 ارب ڈالر رہا، لیکن اس کی بنیادی وجہ برآمدات کا بڑھنا نہیں بلکہ درآمدات میں 17.7 فیصد اور برآمدات میں 15 فیصد کی بیک وقت ماہانہ گراوٹ تھی۔ سالانہ بگاڑ برقرار: ماہانہ ریلیف کے باوجود اگست 2026 کا تجارتی خسارہ اگست 2025 کے مقابلے میں 10.4 فیصد زائد رہا، جبکہ اگست کی سالانہ امپورٹ نمو (7.4%) ایکسپورٹ نمو (3.8%) سے دو گنی رہی۔ تیل اور روپے کا منظرنامہ: جولائی میں پیٹرولیم درآمدات میں 5.2 فیصد کی سالانہ کمی تھی، لیکن ستمبر میں خام تیل کا 92 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرنا نئے خطرات لا رہا ہے۔ فی الوقت 17.12 ارب ڈالر کے سرکاری ذخائر روپے کو 277.41 پر مختصر مدتی استحکام فراہم کر رہے ہیں۔
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) $4,420 کی اہم سپورٹ سطح کے قریب مستحکم ہے، جبکہ DXY میں معمولی کمی نے قلیل مدتی ریلیف فراہم کی ہے۔ تاہم، امریکی ٹریژری ییلڈز میں اضافہ اور فیڈرل ریزرو کی سخت پالیسی کے امکانات سونے پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
یورو بانڈ فنانسنگ: پاکستان نے دو حصوں (Dual-Tranche) پر مشتمل 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز جاری کیے، جن کے لیے عالمی سرمایہ کاروں کی جانب سے 6 ارب ڈالر کی زبردست مانگ سامنے آئی۔ مہنگائی کی بحالی: اگست میں قومی سالانہ CPI بڑھ کر 11.1 فیصد ہو گئی، جبکہ شہری کور افراطِ زر 8.8 فیصد اور دیہی کور 8.5 فیصد پر برقرار رہی۔ تجارتی خسارے کا پھیلاؤ: جولائی اور اگست میں تجارتی خسارہ 18.1 فیصد بڑھ کر 7.12 ارب ڈالر تک جا پہنچا، کیونکہ درآمدات کی رفتار برآمدات سے تقریباً دو گنا تیز رہی۔ اسٹیٹ بینک کے ذخائر: 28 اگست تک مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر 17.12 ارب ڈالر اور مجموعی ملکی سیال ذخائر 22.53 ارب ڈالر رہے، جبکہ انٹربینک میں USD/PKR ریٹ 277.41 پر مستحکم رہا۔ عالمی تیل کا خطرہ: برینٹ خام تیل ہفتے کے اختتام پر 92.68 ڈالر پر بند ہوا؛ 5 ستمبر سے ڈیزل کی قیمت میں 3.74 روپے کا اضافہ معیشت میں پیداواری لاگت کے نئے خدشات پیدا کر رہا ہے۔
ہیڈ لائن مہنگائی: قومی سالانہ CPI جولائی کے 9.2 فیصد سے بڑھ کر اگست میں 11.1 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ ماہانہ رفتار 1.2 فیصد رہی۔ بیس ایفیکٹ اور اصل دباؤ: اگست 2025 کی کم بنیاد نے سالانہ شرح کو اوپر دھکیلنے میں کردار ضرور ادا کیا، لیکن ماہانہ 1.2 فیصد اور WPI میں 2.0 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ میں قیمتوں کا تازہ دباؤ موجود ہے۔ دیہی آبادی پر زیادہ بوجھ: دیہی مہنگائی 12.2 فیصد رہی جبکہ شہری مہنگائی 10.4 فیصد ریکارڈ کی گئی، جس کی بنیادی وجہ دیہی کنزمپشن باسکٹ میں اشیائے خورونوش کا زیادہ وزن ہے۔ اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی: 11.5 فیصد پالیسی ریٹ اور 11.1 فیصد ہیڈ لائن CPI کے درمیان حقیقی شرحِ سود کا فرق سکڑ کر محض 0.4 فیصد (40 bps) رہ گیا ہے، جس نے 14 ستمبر کے MPC اجلاس میں شرحِ سود میں فوری کٹوتی کے امکانات کو محدود کر دیا ہے۔
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) $4,420 کی نفسیاتی سپورٹ کے قریب استحکام دکھا رہی ہے، جبکہ DXY میں معمولی کمی نے قلیل مدتی ریلیف فراہم کی ہے۔ تاہم، امریکی ٹریژری ییلڈز میں اضافہ اور فیڈرل ریزرو کی سخت مانیٹری پالیسی کے امکانات سونے پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں، جس سے 'bearish trend continuation' کا رجحان غالب ہے۔
Revolut کو امریکہ میں قومی بینک قائم کرنے کے لیے OCC کی مشروط منظوری مل گئی ہے، جو مارچ میں دی گئی درخواست کے بعد ایک اہم قانونی پیش رفت ہے۔ کمپنی کے مطابق اگلا مرحلہ FDIC سے ڈپازٹ انشورنس، Federal Reserve سے متعلقہ منظوری اور OCC کی آخری اجازت حاصل کرنا ہے۔ مجوزہ بینک کا صدر دفتر Stamford, Connecticut میں ہوگا اور Revolut تقریباً 95 ملین ڈالر ابتدائی سرمایہ فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ امریکی بینک چیکنگ اکاؤنٹس، قسطوں پر قرض، کریڈٹ کارڈ اور زرمبادلہ کی خدمات پیش کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے، جبکہ کمپنی اسٹیبل کوائن متعارف کرانے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔ یہ منظوری حتمی بینکاری لائسنس نہیں۔ 2027 میں آغاز اس بات پر منحصر ہے کہ باقی نگران شرائط اور منظوریوں کا عمل مکمل ہوتا ہے یا نہیں۔
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) نے $4,454.99 کی اہم سطح سے اوپر 'daily close' دے کر قلیل مدتی استحکام کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم DXY کی مضبوطی اور بڑھتی ہوئی امریکی ٹریژری ییلڈز سونے پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اس پیش رفت نے پچھلی 'bearish invalidation' سطح کو چیلنج کیا ہے، لیکن مجموعی 'bearish trend' اب بھی غالب ہے۔
توانائی کی عالمی مارکیٹس میں اس وقت شدید غیر یقینی صورتحال جاری ہے۔، جہاں WTI Crude Oil prices Strait of Hormuz آبنائے ہرمز کے گرد گھومتی ہوئی صورتحال اور جغرافیائی سیاسی تنازعات کی وجہ سے قیمتیں 89.50 ڈالر کے قریب مستحکم ہیں۔
حالیہ عرصے میں امریکی U.S. Treasury Yields میں آنے والے اضافے کے پیچھے ایک اور گہرا اور نسبتاً پوشیدہ معاشی عنصر بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے، جسے R Star کہا جاتا ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں