آج ایشیئن سیشنز کے دوران US Dollar Index دو ماہ کی بلند ترین سطح پر برقرار ہے جس کی سب سے بڑی وجہ یو ایس ٹریژری ییلڈز میں مسلسل اضافہ ہے۔ دنیا بھر میں افراط زر کے دباؤ اور مشرق وسطیٰ کی جنگ کے اثرات نے گلوبل فنانشل مارکیٹس کو ہلا کر رکھ دیا ہے
"us stocks tumbled amid increasing bonds yields and taiwan earthquake" کے لیے 866 نتائج۔
آج ایشیئن سیشنز کے دوران US Dollar Index دو ماہ کی بلند ترین سطح پر برقرار ہے جس کی سب سے بڑی وجہ یو ایس ٹریژری ییلڈز میں مسلسل اضافہ ہے۔ دنیا بھر میں افراط زر کے دباؤ اور مشرق وسطیٰ کی جنگ کے اثرات نے گلوبل فنانشل مارکیٹس کو ہلا کر رکھ دیا ہے
ایتھریم کی قیمت میں 1.44 فیصد کمی کے بعد $2,663 کے قریب ٹریڈنگ جاری ہے۔ $2,650 کی اہم سپورٹ کا دفاع تکنیکی ساخت کے لیے انتہائی حساس بن چکا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت $4,193.10 فی اونس اور پاکستان میں 24 قیراط سونا 439,500 روپے فی تولہ تک پہنچ گیا ہے۔ ڈالر انڈیکس 101.28 پر قائم رہنے سے مارکیٹ میں رینج باؤنڈ ٹریڈنگ دیکھی جا رہی ہے۔
پاکستان میں سی پی آئی افراط زر کی شرح 11.10% تک محدود رہنے اور حقیقی شرح سود مثبت زون میں داخل ہونے کے بعد اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کی جانب سے پالیسی ریٹ میں 50 سے 100 بیسس پوائنٹس کی کٹوتی کے امکانات کا تفصیلی جائزہ۔
ستمبر کے مہینے میں چین کا مینوفیکچرنگ پرچیزنگ مینیجرز انڈیکس (Chinese Manufacturing PMI) بڑھ کر 50.1 پر پہنچ گیا ہے، جو کہ اگست میں 49.8 تھا۔
بٹ کوائن (Bitcoin) اپنی اہم سپورٹ پر ڈٹا ہوا ہے، وہیں دوسری طرف بانڈ ییلڈز (Bond yields) اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں سرمایہ کاروں کی نیندیں حرام کیے ہوئے ہیں۔
معاشی دنیا میں آج کل ایک ایسا طوفان برپا ہے جس نے سرمایہ کاروں کی نیندیں اڑا رکھی ہیں۔ ڑھتی ہوئی Bond Yields اور Global Stocks پر اثرات کا یہ مرحلہ نہ صرف روایتی سرمایہ کاری کے اصولوں کو بدل رہا ہے بلکہ عالمی مارکیٹس میں ایک نئی بے یقینی کو بھی جنم دے رہا ہے۔
4139Gold کے قریب trade کر رہا ہے۔ حالیہ کمی کے بعد قیمت دباؤ میں ہے۔ 4100 سے 4120 اہم support ہے۔ اس support کے برقرار رہنے سے recovery ممکن ہے۔ 4200 پہلا اہم resistance ہے۔ 4250 اگلا اہم resistance بن سکتا ہے۔ 4100 کے نیچے کمی مزید دباؤ بڑھا سکتی ہے۔ 4050 اور 4000 اگلے اہم support levels ہیں۔
عالمی فنانشل مارکیٹس (Global Financial Markets) میں حالیہ دنوں کے دوران ایک بار پھر شدیداتار چڑ ھاؤ دیکھنے میں آیا ہے۔ سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز ایک طرف فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) کی جانب سے شرح سود (Interest Rates) میں متوقع اضافے ہیں، تو دوسری طرف مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں اضافہ ہے۔
فی الوقت، AUDUSD جوڑا 0.7016 کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے، جب کہ سرمایہ کاروں کی تمام تر توجہ ریزرو بینک آف آسٹریلیا کے آنے والے مانیٹری پالیسی (Monetary policy) کے فیصلے پر مرکوز ہے۔
ان دنوں گلوبل مارکیٹ میں USDCAD میں تیزی کا موضوع انتہائی زیرِ بحث ہے، جہاں کینیڈین ڈالر (CAD) کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں شدید دباؤ کا سامنا ہے۔
STOXX 600 ابتدائی یورپی تجارت میں 0.3 فیصد بڑھ کر 640.43 پوائنٹس پر پہنچا، لیکن شعبوں کی کارکردگی میں نمایاں فرق رہا۔ برطانیہ نے پہلی مرتبہ گھر خریدنے والوں کے لیے نئے ایکویٹی قرض پروگرام کا اعلان کیا ہے؛ مزید تفصیلات آئندہ ماہ کے بجٹ میں آنی ہیں۔ برطانوی ہاؤسنگ کمپنیوں کا اشاریہ تقریباً 16 فیصد بڑھا، بڑی کمپنیوں کے حصص میں 6 سے 23 فیصد تیزی آئی اور FTSE 250 تقریباً 1 فیصد اوپر رہا۔ برینٹ خام تیل میں 3 فیصد سے زیادہ اضافے کے ساتھ توانائی کے حصص بڑھے، جبکہ مضبوط ڈالر اور دھاتوں کی کمزوری سے کان کنی کا شعبہ دباؤ میں رہا۔ تیزی کے تسلسل کے لیے خریداری کا دوسرے شعبوں تک پھیلنا اہم ہوگا؛ تیل، بانڈ منافع اور ECB و BoE حکام کے بیانات اگلے نمایاں عوامل ہیں۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں