برطانوی پاؤنڈ ایک بار پھر دباؤ کا شکار ہے اور GBPUSD کا جوڑا 1.3250 کی سطح سے نیچے ٹریڈ کر رہا ہے۔ حالیہ تجارتی سیشنز میں امریکی ڈالر (US Dollar) کے خریداروں نے مارکیٹ پر مکمل غلبہ حاصل رکھا ہوا ہے
"usdjpy rebound analysis us cpi inflation impact" کے لیے 1052 نتائج۔
برطانوی پاؤنڈ ایک بار پھر دباؤ کا شکار ہے اور GBPUSD کا جوڑا 1.3250 کی سطح سے نیچے ٹریڈ کر رہا ہے۔ حالیہ تجارتی سیشنز میں امریکی ڈالر (US Dollar) کے خریداروں نے مارکیٹ پر مکمل غلبہ حاصل رکھا ہوا ہے
فاریکس مارکیٹ (Forex Market) میں آسٹریلین ڈالر (AUDUSD) نے مسلسل تیسرے روز بہتری کا مظاہرہ کرتے ہوئے 0.70 کی اہم حد کی طرف پیش قدمی شروع کر دی ہے۔ منگل کے روز آسٹریلین ڈالر میں 0.14 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ جوڑا (Pair) 0.6981 پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔
عالمی منڈی میں سونا $4,136.94 کی سطح پر بحال ہو گیا ہے جبکہ پاکستان میں 24 قیراط فی تولہ قیمت 438,000 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ پچھلی ڈیسک اپڈیٹ کے تضاد کے برعکس دونوں منڈیوں میں ایک ساتھ تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
امریکی افراطِ زر 3.35 فیصد پر جمود کا شکار رہنے کے بعد ڈالر انڈیکس (DXY) 102.21 کی سطح تک پہنچ گیا ہے، جس سے عالمی مالیاتی مارکیٹوں میں خطرہ ٹالنے کے رجحان کو تقویت مل رہی ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس 11.10 فیصد افراطِ زر اور 11.50 فیصد پالیسی ریٹ کی موجودگی کے باعث 40 بیسس پوائنٹس کی مثبت حقیقی شرحِ سود موجود ہے، جس سے آئندہ مانیٹری پالیسی میٹنگ میں شرحِ سود میں 50 تا 100 بیسس پوائنٹس کمی کا راستہ صاف نظر آتا ہے۔
آسٹریلین ڈالر نے امریکی لیبر مارکیٹ کے کمزور اعداد و شمار کے بعد ایشیائی سیشن کے آغاز میں مثبت رجحان دکھاتے ہوئے 0.6950 کی سطح کو عبور کر لیا ہے۔ اس وقت مارکیٹ کے شرکاء اس بات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں کہ کس طرح امریکہ اور آسٹریلیا کے معاشی اشاریے AUDUSD کو متاثر کر رہے ہیں۔
پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق ہیڈلائن افراط زر 11.10 فیصد پر آنے کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے 11.50 فیصد پالیسی ریٹ کے باعث مثبت حقیقی شرح سود بحال ہو چکی ہے، جس سے آئندہ مانیٹری پالیسی اجلاس میں مزید ریٹ کٹ کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔
ڈالر انڈیکس (DXY) کی 101.92 پر پیش قدمی کے نتیجے میں عالمی سونا $4,140.52 کی سطح پر آ گیا ہے۔ پاکستان میں 24 قیراط سونا 441,000 روپے فی تولہ پر برقرار ہے جبکہ تکنیکی ڈھانچہ بئریش دباؤ کی نشان دہی کر رہا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی آنے والی مانیٹری پالیسی میٹنگ میں 11.10 فیصد کی سی پی آئی مہنگائی اور 11.50 فیصد پالیسی ریٹ کے تناظر میں 50 سے 100 بیسس پوائنٹس کی کٹوتی کا قوی امکان ہے۔
ستمبر میں سالانہ مہنگائی 10.3 فیصد رہی، جو اگست کے مقابلے میں 0.8 فیصد پوائنٹ کم ہے۔ ماہانہ قیمتیں 1.3 فیصد بڑھیں؛ اگست میں اضافہ 1.2 فیصد تھا۔ شہری اور دیہی دونوں اشاریوں میں بجلی کے چارجز 15.28 فیصد بڑھے، جبکہ موٹر فیول کا اضافہ بالترتیب 10.76 اور 11.13 فیصد رہا۔ ٹماٹر اور مرغی سستے ہوئے، لیکن قومی سطح پر خوراک اور مشروبات کا مجموعی اشاریہ ماہانہ 0.19 فیصد بڑھا۔ خوراک اور توانائی کے بغیر بنیادی مہنگائی (Core Inflation) میں کمی آئی، تاہم توانائی کی بڑھتی لاگت شرح سود کے آئندہ فیصلوں کے لیے اہم رہے گی۔
پاکستان کی معیشت 11.50 فیصد پالیسی ریٹ اور 11.10 فیصد افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے زمرے میں داخل ہو چکی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر، آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد اور ترسیلاتِ زر کے سہارے USD/PKR 277.10 کی سطح پر مستحکم ہے جبکہ KSE-100 انڈیکس 168,637 پوائنٹس پر موجود ہے۔
آج ایشیئن سیشنز میں آسٹریلوی ڈالر (Australian Dollar) دباؤ کا شکار ہے اور AUDUSD مسلسل چوتھے روز گراوٹ کے بعد 0.6928 کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں