پاکستان کی معیشت 11.50% پالیسی ریٹ اور 11.10% CPI افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے دور میں قائم ہے۔ انٹربینک مارکیٹ میں USD/PKR 0.33% کی بہتری کے ساتھ 276.82 پر بند ہوا، جبکہ KSE-100 انڈیکس 168,155 پوائنٹس پر معاشی استحکام کی عکاسی کر رہا ہے۔
"psx selling pressure fuel price hike geopolitical impact" کے لیے 698 نتائج۔
پاکستان کی معیشت 11.50% پالیسی ریٹ اور 11.10% CPI افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے دور میں قائم ہے۔ انٹربینک مارکیٹ میں USD/PKR 0.33% کی بہتری کے ساتھ 276.82 پر بند ہوا، جبکہ KSE-100 انڈیکس 168,155 پوائنٹس پر معاشی استحکام کی عکاسی کر رہا ہے۔
برطانوی پاؤنڈ (GBP/USD) سیشن کے دوران 0.37% کی کمی کے ساتھ 1.32078 کی سطح پر معامله ہو رہا ہے۔ بینک آف انگلینڈ اور فیڈ کی پالیسیوں کا تفاوت اور امریکی بانڈ ییلڈز میں کمی فاریکس مارکیٹ میں نیا موڑ لا رہے ہیں۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں زبردست فروخت کے دباؤ کی زد میں آ گئی ہیں جہاں برینٹ خام تیل 3.11 فیصد کمی کے ساتھ 99.13 ڈالر اور ڈبلیو ٹی آئی 4.02 فیصد گر کر 89.14 ڈالر پر آ گیا ہے۔ سپریڈ پھیلاؤ اور پرافٹ ٹیکنگ نے مارکیٹ کے سابقہ استحکام کو ختم کر دیا ہے۔
24 قیراط سونا 2,000 روپے اضافے سے 440,636 روپے فی تولہ ہوگیا۔ 10 گرام سونا 377,774 روپے، جبکہ چاندی 50 روپے بڑھ کر 6,578 روپے فی تولہ رہی۔ مقامی نرخ کے ساتھ رپورٹ کردہ عالمی حوالہ 20 ڈالر بڑھ کر 4,181 ڈالر فی اونس ہوگیا۔ جمعہ کی تیزی نے جمعرات کی کمی کا تقریباً دو تہائی حصہ واپس لیا؛ دونوں سیشنز کی مجموعی تبدیلی اب بھی 1,000 روپے منفی ہے۔ پیر سے جمعہ تک جاری کردہ فی تولہ نرخ 437,336 سے 441,636 روپے کی پرائس رینج میں رہے۔
آج EURUSD کی محدود رینج اس بات کا احاطہ کر رہی ہے کہ کس طرح امریکی نان فارم پے رولز رپورٹ اور افراط زر کے اعداد و شمار اس اہم کرنسی جوڑے کی اگلی سمت کا تعین کر رہے ہیں
امریکی بانڈ ییلڈز میں مضبوطی اور جاپانی ین پر کیری ٹریڈ کے مسلسل دباؤ کے باعث USD/JPY کا جوڑا 157.923 کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔ 158.00 کی نفسیاتی مقاومت سے پہلے مارکیٹ کی اہم نقل و حرکت کا تفصیلی تجزیہ۔
پاکستانی روپیہ انٹربینک مارکیٹ میں 277.10 روپے پر ٹریڈ ہو رہا ہے جہاں مثبت حقیقی شرح سود بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو قابو میں رکھے ہوئے ہے۔
گذشتہ رات Houthis Attack on Madina Al Munawara کے واقعے میں مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کو بجلی فراہم کرنے والے پاور اسٹیشن اور رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات نے ایک بار پھر عالمی سرمایہ کاروں اور پالیسی سازوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے
اسٹیٹسٹکس بیورو آف جاپان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، ستمبر میں ٹوکیو کا کنزیومر پرائس انڈیکس سالانہ بنیادوں پر 2.7 فیصد بڑھ گیا، جو کہ گزشتہ مہینے میں 1.9 فیصد تھا۔
پاکستان کی معیشت 11.50 فیصد پالیسی ریٹ اور 11.10 فیصد افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے زمرے میں داخل ہو چکی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر، آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد اور ترسیلاتِ زر کے سہارے USD/PKR 277.10 کی سطح پر مستحکم ہے جبکہ KSE-100 انڈیکس 168,637 پوائنٹس پر موجود ہے۔
مینوفیکچرنگ سیکٹر کسی بھی ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اور جب اس شعبے سے متعلق اعداد و شمار جاری ہوتے ہیں تو عالمی مارکیٹس کی سمت تبدیل ہو جاتی ہے۔ US ISM Manufacturing PMI کی تازہ ترین رپورٹ نے ایک بار پھر سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی طرف مبذول کروا لی ہے۔
پاکستان کی معیشت میں افراط زر کے حوالے سے اہم اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، ستمبر 2026 میں پاکستان میں افراط زر کی سالانہ شرح کم ہو کر 10.3 فیصد پر ریکارڈ کی گئی ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں