پاکستانی روپیہ (PKR) انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں آج معمولی گراوٹ کا شکار ہوا، جو عالمی ڈالر کی مضبوطی اور مقامی مارکیٹ میں بنیادی طلب کے دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ پچھلے دن کی معمولی بہتری کے رجحان کے برعکس ہے۔
"usdjpy rebound analysis us cpi inflation impact" کے لیے 1052 نتائج۔
پاکستانی روپیہ (PKR) انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں آج معمولی گراوٹ کا شکار ہوا، جو عالمی ڈالر کی مضبوطی اور مقامی مارکیٹ میں بنیادی طلب کے دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ پچھلے دن کی معمولی بہتری کے رجحان کے برعکس ہے۔
مانیٹری پالیسی کمیٹی (Monetary Policy Committee MPC) نے مالی سال 2026-27 کے اپنے دوسرے اجلاس میں SBP Monetary Policy کو 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) $4,331.56 پر مستحکم ہے، جو $4,349 کی پچھلی سپورٹ کے نیچے 'bearish consolidation' کو ظاہر کرتی ہے۔ امریکی ٹریژری ییلڈز میں معمولی کمی اور ڈالر (DXY) میں استحکام نے 'bearish momentum' کو محدود کیا ہے، لیکن 'bullish reversal' کے لیے $4,370 سے اوپر کا 'daily close' ضروری ہے۔
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) $4,370 کی اہم تکنیکی سپورٹ سے نیچے گر گئی ہے، جو $4,328 کی سطح پر ٹریڈ کر رہی ہے۔ امریکی ٹریژری ییلڈز میں مسلسل اضافہ اور مضبوط ڈالر انڈیکس (DXY) سونے پر دباؤ بڑھا رہا ہے، جس سے 'bearish consolidation' کا رجحان مزید گہرا ہو گیا ہے۔
امریکی ڈالر انڈیکس جو کہ دنیا کی چھ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں امریکی ڈالر (USD) کی قدر کا پیمانہ ہے، ایشیائی سیشن کے دوران مسلسل چوتھے روز بھی دباؤ کا شکار ہے اور یہ تقریباً 98.70 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) $4,411 کی سطح پر مستحکم ہے، جہاں $4,370 کی اہم تکنیکی سپورٹ برقرار ہے۔ DXY میں معمولی کمی نے قلیل مدتی ریلیف فراہم کی ہے، تاہم امریکی ٹریژری ییلڈز میں مسلسل اضافہ اور فیڈرل ریزرو کی سخت پالیسی کے امکانات سونے پر بنیادی دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں، جس سے $4,455 کی مزاحمتی سطح کو عبور کرنا مشکل ہو رہا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کی آنے والی مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) کے اجلاس میں شرح سود میں 50 بیسس پوائنٹس کی کمی کا امکان ہے۔ یہ کمی کم ہوتی ہوئی افراطِ زر اور معاشی سرگرمیوں کو متحرک کرنے کی ضرورت کے پیش نظر ہے۔ تاہم، بیرونی کھاتوں پر دباؤ اور عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال SBP کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
نیشنل بیورو آف سٹیٹسٹکس آف چائنا کی جانب سے Chinese CPI کے جو اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں، وہ نہ صرف معاشی ماہرین کی توقعات کے عین مطابق ہیں بلکہ ان کے اندر مستقبل کے کئی اہم تجارتی اشارے بھی چھپے ہیں
یورپی اوپن میں STOXX 600 تقریباً 0.2 فیصد، DAX 0.3 فیصد اور CAC 40 تقریباً 0.4 فیصد نیچے رہے، جبکہ FTSE 100 تقریباً مستحکم رہا؛ یہ ابتدائی سیشن کی تصویر ہے، حتمی اختتامی قیمتوں کی رپورٹ نہیں۔ Brent تقریباً 98.5 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے سے توانائی رسد، کاروباری لاگت اور مہنگائی کے خدشات بڑھے، تاہم ہر یورپی شعبے پر اس کے اثرات یکساں نہیں ہوں گے۔ جرمن برآمدات جولائی میں ماہانہ 0.8 فیصد اور درآمدات 5.7 فیصد کم ہوئیں؛ تجارتی فاضل 21.3 ارب یورو ہوگیا، مگر برآمدات سالانہ بنیاد پر اب بھی بڑھی ہیں۔ Novartis میں تقریباً 8.8 فیصد کمی کا تعلق del-desiran کے مطالعے سے تھا، جبکہ Sandoz تقریباً 2.9 فیصد بڑھا؛ کمپنی مخصوص عوامل کو معاشی دباؤ سے الگ دیکھنا ضروری ہے۔ ECB کا فیصلہ 10 ستمبر کو متوقع ہے؛ اگست کا ابتدائی افراط زر 3.3 فیصد ہے، لیکن آئندہ پالیسی کے لیے توانائی کے ساتھ اجرتیں، بنیادی مہنگائی اور نمو بھی اہم ہیں۔
خسارے میں سالانہ اضافہ: مالی سال 27 کے پہلے دو ماہ (2MFY27) میں تجارتی خسارہ 18.1 فیصد بڑھ کر 7.12 ارب ڈالر تک جا پہنچا، جس کے نتیجے میں تجارتی خلا میں 1.09 ارب ڈالر کا خالص اضافہ ہوا۔ درآمدات بمقابلہ برآمدات: ملکی درآمدات کی سالانہ رفتار (13%) برآمدات کی نمو (7%) کے مقابلے میں تقریباً دو گنی تیز رہی۔ اگست کی ماہانہ حقیقت: اگست کا خسارہ جولائی کے مقابلے میں 19.7 فیصد کم ہو کر 3.17 ارب ڈالر رہا، لیکن اس کی بنیادی وجہ برآمدات کا بڑھنا نہیں بلکہ درآمدات میں 17.7 فیصد اور برآمدات میں 15 فیصد کی بیک وقت ماہانہ گراوٹ تھی۔ سالانہ بگاڑ برقرار: ماہانہ ریلیف کے باوجود اگست 2026 کا تجارتی خسارہ اگست 2025 کے مقابلے میں 10.4 فیصد زائد رہا، جبکہ اگست کی سالانہ امپورٹ نمو (7.4%) ایکسپورٹ نمو (3.8%) سے دو گنی رہی۔ تیل اور روپے کا منظرنامہ: جولائی میں پیٹرولیم درآمدات میں 5.2 فیصد کی سالانہ کمی تھی، لیکن ستمبر میں خام تیل کا 92 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرنا نئے خطرات لا رہا ہے۔ فی الوقت 17.12 ارب ڈالر کے سرکاری ذخائر روپے کو 277.41 پر مختصر مدتی استحکام فراہم کر رہے ہیں۔
یورو بانڈ فنانسنگ: پاکستان نے دو حصوں (Dual-Tranche) پر مشتمل 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز جاری کیے، جن کے لیے عالمی سرمایہ کاروں کی جانب سے 6 ارب ڈالر کی زبردست مانگ سامنے آئی۔ مہنگائی کی بحالی: اگست میں قومی سالانہ CPI بڑھ کر 11.1 فیصد ہو گئی، جبکہ شہری کور افراطِ زر 8.8 فیصد اور دیہی کور 8.5 فیصد پر برقرار رہی۔ تجارتی خسارے کا پھیلاؤ: جولائی اور اگست میں تجارتی خسارہ 18.1 فیصد بڑھ کر 7.12 ارب ڈالر تک جا پہنچا، کیونکہ درآمدات کی رفتار برآمدات سے تقریباً دو گنا تیز رہی۔ اسٹیٹ بینک کے ذخائر: 28 اگست تک مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر 17.12 ارب ڈالر اور مجموعی ملکی سیال ذخائر 22.53 ارب ڈالر رہے، جبکہ انٹربینک میں USD/PKR ریٹ 277.41 پر مستحکم رہا۔ عالمی تیل کا خطرہ: برینٹ خام تیل ہفتے کے اختتام پر 92.68 ڈالر پر بند ہوا؛ 5 ستمبر سے ڈیزل کی قیمت میں 3.74 روپے کا اضافہ معیشت میں پیداواری لاگت کے نئے خدشات پیدا کر رہا ہے۔
ہیڈ لائن مہنگائی: قومی سالانہ CPI جولائی کے 9.2 فیصد سے بڑھ کر اگست میں 11.1 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ ماہانہ رفتار 1.2 فیصد رہی۔ بیس ایفیکٹ اور اصل دباؤ: اگست 2025 کی کم بنیاد نے سالانہ شرح کو اوپر دھکیلنے میں کردار ضرور ادا کیا، لیکن ماہانہ 1.2 فیصد اور WPI میں 2.0 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ میں قیمتوں کا تازہ دباؤ موجود ہے۔ دیہی آبادی پر زیادہ بوجھ: دیہی مہنگائی 12.2 فیصد رہی جبکہ شہری مہنگائی 10.4 فیصد ریکارڈ کی گئی، جس کی بنیادی وجہ دیہی کنزمپشن باسکٹ میں اشیائے خورونوش کا زیادہ وزن ہے۔ اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی: 11.5 فیصد پالیسی ریٹ اور 11.1 فیصد ہیڈ لائن CPI کے درمیان حقیقی شرحِ سود کا فرق سکڑ کر محض 0.4 فیصد (40 bps) رہ گیا ہے، جس نے 14 ستمبر کے MPC اجلاس میں شرحِ سود میں فوری کٹوتی کے امکانات کو محدود کر دیا ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں