بٹ کوائن (Bitcoin) اپنی اہم سپورٹ پر ڈٹا ہوا ہے، وہیں دوسری طرف بانڈ ییلڈز (Bond yields) اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں سرمایہ کاروں کی نیندیں حرام کیے ہوئے ہیں۔
"psx selling pressure fuel price hike geopolitical impact" کے لیے 698 نتائج۔
بٹ کوائن (Bitcoin) اپنی اہم سپورٹ پر ڈٹا ہوا ہے، وہیں دوسری طرف بانڈ ییلڈز (Bond yields) اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں سرمایہ کاروں کی نیندیں حرام کیے ہوئے ہیں۔
سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے معاشی شمولیت کو فروغ دینے اور مالیاتی وسائل تک آسان رسائی فراہم کرنے کے لیے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ ریگولیٹر نے مائیکرو فنانس اور ہاؤسنگ لونز کی زیادہ سے زیادہ حد کو بڑھا کر 5 ملین روپے کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔
معاشی دنیا میں آج کل ایک ایسا طوفان برپا ہے جس نے سرمایہ کاروں کی نیندیں اڑا رکھی ہیں۔ ڑھتی ہوئی Bond Yields اور Global Stocks پر اثرات کا یہ مرحلہ نہ صرف روایتی سرمایہ کاری کے اصولوں کو بدل رہا ہے بلکہ عالمی مارکیٹس میں ایک نئی بے یقینی کو بھی جنم دے رہا ہے۔
عالمی فنانشل مارکیٹس (Global Financial Markets) میں حالیہ دنوں کے دوران ایک بار پھر شدیداتار چڑ ھاؤ دیکھنے میں آیا ہے۔ سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز ایک طرف فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) کی جانب سے شرح سود (Interest Rates) میں متوقع اضافے ہیں، تو دوسری طرف مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں اضافہ ہے۔
آج پاکستان کی صرافہ مارکیٹ میں فی تولہ سونے کی قیمت (Per Tola Gold Price in Pakistan) میں ایک بڑی گراوٹ دیکھی گئی ہے، جس نے سرمایہ کاروں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔
ان دنوں گلوبل مارکیٹ میں USDCAD میں تیزی کا موضوع انتہائی زیرِ بحث ہے، جہاں کینیڈین ڈالر (CAD) کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں شدید دباؤ کا سامنا ہے۔
عالمی مارکیٹس اور کرپٹو انڈسٹری میں ایک بار پھر جغرافیائی سیاسی تناؤ کے اثرات واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نومبر کے وسطی مدتی انتخابات سے قبل ایران پر مزید فوجی حملوں کے امکان کو رد نہ کرنے کے بعد، Bitcoin اور Nasdaq futures میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔
Bitcoin کی قیمت تقریباً 83,200 ڈالر اور Ethereum تقریباً 2,648 ڈالر کے قریب آگئی؛ تازہ دستیاب نرخوں میں دونوں اتوار کے مقابلے میں مزید کمزور رہے۔ BTC گزشتہ ہفتے کی تقریباً 87,300 ڈالر کی بلند سطح سے نیچے ہے۔ اب 82,900 سے 83,000 ڈالر کا علاقہ نگرانی میں ہے، جبکہ 85,000 کی واپسی بحالی کو تقویت دے گی۔ ETH دوبارہ 2,700 ڈالر سے نیچے آگیا ہے۔ 2,600 ڈالر کے قریب خریداروں کا ردعمل اہم ہوگا، جبکہ 2,750 سے 2,800 کا علاقہ بحالی کی اگلی آزمائش رہے گا۔ ایران کے بارے میں غیر یقینی، مہنگا تیل اور بلند امریکی بانڈ منافع کے ساتھ Nasdaq futures اور ایشیائی حصص بھی کمزور رہے؛ تاہم ہر کرپٹو حرکت کو ایک خبر سے منسوب نہیں کیا جاسکتا۔ پیر کی کمی نے حالیہ تیزی کا تسلسل کمزور کیا ہے، مگر بڑی بحالی ختم ہونے کا فیصلہ ابھی قبل از وقت ہے۔ امریکی مہنگائی اور روزگار کے اعداد، بانڈ منافع اور اگلے سیشن کی خریداری اہم ہوں گے۔
BoJ کی جولائی اجلاس کی روداد میں مہنگائی کے بڑھتے خطرات اور نسبتاً تیز شرح سود اضافے کی گنجائش سامنے آئی، مگر یہ آئندہ فیصلے کا حتمی وعدہ نہیں۔ USD/JPY پیر کی ایشیائی تجارت میں تقریباً 157.7 رہا اور ین 0.3 فیصد کمزور ہوا؛ سخت گیر جاپانی اشاروں کے باوجود ڈالر کی مجموعی برتری برقرار رہی۔ ڈالر انڈیکس (DXY) تقریباً 101.15 اور Brent Crude دوبارہ 106 ڈالر سے اوپر رہا، جبکہ بلند امریکی بانڈ منافع نے ڈالر کو سہارا دیا۔ ستمبر میں ڈالر انڈیکس کا اضافہ تقریباً 1.7 فیصد تھا۔ جاپانی دس سالہ بانڈ کی شرح منافع جمعہ کو دورانِ تجارت 3.115 فیصد تک پہنچی؛ تاہم ین کے لیے امریکی اور جاپانی شرح منافع کا باہمی فرق زیادہ اہم ہے۔ اس ہفتے امریکی PCE، روزگار کے اعداد اور BoJ کے ستمبر اجلاس کی آرا کا خلاصہ اہم ہوگا؛ جاپانی و امریکی حکام کے رابطے مشترکہ کرنسی مداخلت کی تصدیق نہیں۔ نئی عملی مداخلت کا دعویٰ الگ تصدیق چاہتا ہے۔
ایک طرف جہاں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے سخت شرائط برقرار ہیں، وہیں دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات نے امریکہ اور تہران کے درمیان مذاکرات کی توقعات نے تجارتی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ دی ہے
BTC کی تازہ دستیاب قیمت تقریباً 85,000 ڈالر ہے؛ سات دن کی بلند سطح 87,330 ڈالر کے قریب رہی، اس لیے حالیہ بحالی کے باوجود پچھلی چوٹی ابھی دوبارہ حاصل نہیں ہوئی۔ 21 سے 25 ستمبر کے دوران امریکی Bitcoin ETF میں تقریباً 2.386 ارب ڈالر کی خالص آمد ہوئی؛ یہ مثبت طلب ہے، مگر تمام سرمایہ صرف ادارہ جاتی خریداروں کا نہیں سمجھا جاسکتا۔ BTC فنڈز کی روزانہ خالص آمد پیر کے 999 ملین سے جمعہ کو 134.5 ملین ڈالر رہ گئی؛ پانچوں سیشن مثبت تھے، لیکن خریداری کی روزانہ رفتار مسلسل کم ہوئی۔ ETH تقریباً 2,714 ڈالر ہے اور ہفتے میں 2,804 ڈالر تک جاچکا ہے؛ 2,750 سے 2,820 کی مزاحمت کے اوپر قیام اہم ہے، جبکہ ہفتہ وار ETF آمد تقریباً 690 ملین ڈالر رہی۔ BTC کے لیے 83,800 سے 84,000 کی حمایت اور 85,000 سے 85,800 کی مزاحمت قابلِ توجہ ہیں؛ ETH/BTC تقریباً 0.032 ہونے سے وسیع آلٹ کوائن گردش خودبخود ثابت نہیں ہوتی۔
SEC کے کارپوریٹ فنانس ڈویژن نے 25 ستمبر کو نئی FAQs جاری کیں؛ یہ عملے کی تشریح ہے، کمیشن کا نیا قانون، ضابطہ یا کسی مخصوص ٹوکن کی منظوری نہیں۔ اس سے موجودہ قانون تبدیل نہیں ہوتا۔ مخصوص شرائط میں Staking Receipt Token ڈیجیٹل ٹول ہوسکتا ہے؛ فعال پروٹوکول سے منسلک Liquid Staking کی رسید بعض حالات میں ڈیجیٹل کموڈیٹی بھی ہوسکتی ہے۔ رسید اصل اثاثے کی ملکیت ظاہر کرتی ہے؛ اس کے جاری کنندہ کو اثاثہ قرض دینے، گروی رکھنے یا اپنے استعمال میں لانے کا اختیار نہیں ملنا چاہیے، نہ رسید الگ مالی فائدہ بنائے۔ فعال نیٹ ورک کی دیکھ بھال، سکیورٹی اور بہتری کو بیان کردہ حالات میں ضروری انتظامی کوشش نہیں سمجھا گیا؛ غیر فعال نظام اور منافع کے وعدوں کا تجزیہ مختلف ہوسکتا ہے۔ غیر سیکیورٹی ٹوکن کی Buyback کا اعلان فعال نظام میں بذات خود متعلقہ انتظامی وعدہ نہیں؛ تاہم ٹوکن کی درجہ بندی اور اس کی فروخت کے معاہدے کو الگ جانچنا ضروری ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں