آج 21 اگست 2026 کو انٹربینک میں امریکی ڈالر پاکستانی روپے کے مقابلے میں 277.76 پر بند ہوا، جس میں 0.01% کی معمولی کمی دیکھی گئی۔ SBP کا پالیسی ریٹ 11.50% اور افراط زر 6.60% ہے۔
"chinese cpi report released which caused audusd declined" کے لیے 326 نتائج۔
آج 21 اگست 2026 کو انٹربینک میں امریکی ڈالر پاکستانی روپے کے مقابلے میں 277.76 پر بند ہوا، جس میں 0.01% کی معمولی کمی دیکھی گئی۔ SBP کا پالیسی ریٹ 11.50% اور افراط زر 6.60% ہے۔
آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر پاکستانی روپے کے مقابلے میں 277.78 روپے پر بند ہوا، جس میں 0.31% کا اضافہ دیکھا گیا۔ مہنگائی اور عالمی DXY انڈیکس روپے پر اثرانداز۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 5 اکتوبر 2026 کے سیشن کے اختتام پر KSE-100 انڈیکس 1.36 فیصد گر کر 165,867 پوائنٹس پر بند ہوا۔ سیشن کے دوران انڈیکس 172,756 کی بلند ترین سطح کو چھونے کے بعد شدید سیلنگ پریشر کا شکار ہوا۔
ستمبر کے مہینے کے لیے جاری ہونے والی اس رپورٹ نے نہ صرف وال اسٹریٹ (Wall Street) کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ دنیا بھر کے کرنسی اور کموڈٹی ٹریڈرز کو بھی نئی حکمت عملی اپنانے پر مجبور کر دیا۔
عالمی فنانشل مارکیٹس میں اس وقت سرمایہ کاروں کی تمام تر توجہ ایک ہی اہم ترین معاشی اشاریے پر مرکوز ہے، اور وہ ہے US Nonfarm Payrolls , اس وقت Gold Price ایک تنگ دائرے یا رینج میں پھسی ہوئی ہے
نیشنل بیورو آف سٹیٹسٹکس آف چائنا کی جانب سے Chinese CPI کے جو اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں، وہ نہ صرف معاشی ماہرین کی توقعات کے عین مطابق ہیں بلکہ ان کے اندر مستقبل کے کئی اہم تجارتی اشارے بھی چھپے ہیں
جاپانی ین امریکی ڈالر کے مقابلے میں 158.50 کے قریب مستحکم ہے، کیونکہ سرمایہ کار جاپان کے تازہ افراط زر کے اعدادوشمار اور مرکزی بینکوں کی مالیاتی پالیسی سے متعلق آئندہ اشاروں کے منتظر ہیں
آج US CPI Inflation Report جاری ہونے کے بعد یورو کی قدر میں شدید کمی دیکھنے میں آئی ہے اور یہ 0.55% گر کر 1.1135 کی سطح پر آ گیا ہے، جو مئی 2025 کے بعد اس کی سب سے نچلی ترین سطح ہے
Global Markets اس وقت ایک حساس اور اہم موڑ پر کھڑی ہیں، جہاں امریکی ڈالر کی قدر میں ہلکی کمی، بانڈ یلڈز میں عارضی گراوٹ اور افراطِ زر (Inflation) کے ڈیٹا کے منتظر سرمایہ کاروں کے فیصلے مارکیٹ کی سمت متعین کر رہے ہیں
آسٹریلین ڈالر نے امریکی لیبر مارکیٹ کے کمزور اعداد و شمار کے بعد ایشیائی سیشن کے آغاز میں مثبت رجحان دکھاتے ہوئے 0.6950 کی سطح کو عبور کر لیا ہے۔ اس وقت مارکیٹ کے شرکاء اس بات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں کہ کس طرح امریکہ اور آسٹریلیا کے معاشی اشاریے AUDUSD کو متاثر کر رہے ہیں۔
ستمبر میں سالانہ مہنگائی 10.3 فیصد رہی، جو اگست کے مقابلے میں 0.8 فیصد پوائنٹ کم ہے۔ ماہانہ قیمتیں 1.3 فیصد بڑھیں؛ اگست میں اضافہ 1.2 فیصد تھا۔ شہری اور دیہی دونوں اشاریوں میں بجلی کے چارجز 15.28 فیصد بڑھے، جبکہ موٹر فیول کا اضافہ بالترتیب 10.76 اور 11.13 فیصد رہا۔ ٹماٹر اور مرغی سستے ہوئے، لیکن قومی سطح پر خوراک اور مشروبات کا مجموعی اشاریہ ماہانہ 0.19 فیصد بڑھا۔ خوراک اور توانائی کے بغیر بنیادی مہنگائی (Core Inflation) میں کمی آئی، تاہم توانائی کی بڑھتی لاگت شرح سود کے آئندہ فیصلوں کے لیے اہم رہے گی۔
پاکستان کی معیشت میں افراط زر کے حوالے سے اہم اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، ستمبر 2026 میں پاکستان میں افراط زر کی سالانہ شرح کم ہو کر 10.3 فیصد پر ریکارڈ کی گئی ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں