Chart Pro 👤 لاگ ان (Login)

تلاش

"positive rally in psx after investment in oil and gas sector" کے لیے 552 نتائج۔

سونے کی قیمت 453,700 روپے فی تولہ پر مستحکم، عالمی مارکیٹ $4,393.80 پر برقرار
سونے کی قیمت 453,700 روپے فی تولہ پر مستحکم، عالمی مارکیٹ $4,393.80 پر برقرار

آج 18 اگست 2026 کو پاکستانی مارکیٹ میں 24 قیراط سونے کی قیمت 453,700 روپے فی تولہ پر برقرار رہی جبکہ عالمی مارکیٹ میں XAU/USD $4,393.80 پر مستحکم ہے۔ DXY 99.67 پر ٹریڈ کر رہا ہے، جو سونے کے لیے ممکنہ طور پر منفی رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔

سید جواد ·
SafePal   صارفین کا آرڈر ڈیٹا لیک، فنڈز کتنے محفوظ ہیں؟
SafePal صارفین کا آرڈر ڈیٹا لیک، فنڈز کتنے محفوظ ہیں؟

کرپٹو کرنسی کی دنیا میں Security سب سے اہم ستون ہے، کیونکہ یہاں معمولی سی غفلت بھی سرمایہ کاروں کے لیے بڑے مالی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ حالیہ SafePal Data Breach نے ایک بار پھر Crypto Security کے حوالے سے اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔

Adeel khalid ·
پاکستانی روپیہ ڈالر کے مقابلے میں مزید گراوٹ کا شکار: انٹربینک ریٹ 277.42 پر بند
پاکستانی روپیہ ڈالر کے مقابلے میں مزید گراوٹ کا شکار: انٹربینک ریٹ 277.42 پر بند

پاکستانی روپیہ (PKR) آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں مزید گراوٹ کا شکار ہوا، جو عالمی ڈالر کی مضبوطی اور مقامی مارکیٹ میں بنیادی طلب کے دباؤ کے ساتھ ساتھ پچھلے دن کی معمولی بہتری کو مکمل طور پر ختم کر رہا ہے۔ USD/PKR انٹربینک ریٹ 277.42 روپے پر بند ہوا، جو دن کی بلند ترین سطح تھی۔

سید جواد ·
امریکہ اور یورپی اتحادی ایران کا جوہری معاملہ سلامتی کونسل بھیجنے کے لیے IAEA قرارداد چاہتے ہیں
امریکہ اور یورپی اتحادی ایران کا جوہری معاملہ سلامتی کونسل بھیجنے کے لیے IAEA قرارداد چاہتے ہیں

امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی IAEA کے آئندہ اجلاس میں ایران کے معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تک بھیجنے والی قرارداد کی حمایت کر رہے ہیں۔ رائٹرز کی جانب سے دیکھے گئے مجوزہ متن کے مطابق قرارداد IAEA کے ڈائریکٹر جنرل سے موجودہ اور سابقہ قراردادیں سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو منتقل کرنے کا مطالبہ کرے گی۔ مجوزہ قرارداد ابھی باضابطہ طور پر جمع نہیں ہوئی، اس لیے ایران کو سلامتی کونسل رپورٹ کیا جانا ابھی منظور شدہ فیصلہ نہیں۔ IAEA کے مطابق ایران نے بمباری سے متاثرہ تنصیبات تک مکمل رسائی بحال نہیں کی اور ایجنسی افزودہ یورینیم کے ذخائر کی موجودہ مقدار کی تصدیق نہیں کر پا رہی۔ اگر قرارداد منظور ہوتی ہے تو یہ تقریباً 20 سال بعد ایران کے جوہری معاملے کو IAEA بورڈ سے سلامتی کونسل تک لے جانے کی ایک بڑی سفارتی کشیدگی ہوگی۔

محمد اظہر سلیم ·
🤖

اردو مارکیٹس اسسٹنٹ

لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ

تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں