یہ مضمون برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمتوں کے بنیادی عوامل، عالمی ذخائر، OPEC+ کی پالیسی اور بحری فریٹ کی لاجسٹکس کو واضح کرتا ہے اور ان کا پاکستان کے پیٹرول کے ریٹ پر کیا اثر پڑتا ہے۔
"us dollar declined as investors are waiting for us retail sales report and japanese monetary policy" کے لیے 1140 نتائج۔
یہ مضمون برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمتوں کے بنیادی عوامل، عالمی ذخائر، OPEC+ کی پالیسی اور بحری فریٹ کی لاجسٹکس کو واضح کرتا ہے اور ان کا پاکستان کے پیٹرول کے ریٹ پر کیا اثر پڑتا ہے۔
جمعہ، 25 ستمبر کو 07:04 UTC پر STOXX 600 تقریباً 0.7 فیصد بڑھ کر 640.66 پوائنٹس پر تھا؛ یہ ابتدائی سیشن کی ریڈنگ ہے، دن کی اختتامی قیمت نہیں۔ Brent جمعرات کے 106.60 ڈالر کے تصفیے کے مقابلے میں جمعہ کی ایشیائی تجارت میں تقریباً 105.50 ڈالر رہا؛ کمی کے باوجود توانائی کی لاگت اب بھی بلند ہے۔ سفری اور تفریحی شعبہ تقریباً 1.2 فیصد بڑھا، Ryanair اور Lufthansa میں 2 فیصد سے زیادہ تیزی آئی، جبکہ توانائی کے حصص تقریباً 0.7 فیصد نیچے رہے۔ جرمنی کا DAX تقریباً 0.6 فیصد اوپر تھا، مگر اکتوبر کے لیے صارف اعتماد کا اشاریہ منفی 30.6 پر آگیا؛ ستمبر کی نظرثانی شدہ ریڈنگ منفی 26.8 تھی۔ امریکی Bond Yields جمعہ کو بلند سطحوں سے کچھ نیچے آئے، لیکن مشرق وسطیٰ اور مہنگائی کے خطرات برقرار ہیں؛ بحالی کا تسلسل تیل، بانڈز اور خریداری کی وسعت سے جانچا جائے گا۔ ابتدائی تیزی کو پائیدار رجحان سمجھنے کے لیے مزید تجارتی تصدیق درکار ہے۔
Bitget کے مطابق 24 ستمبر کو بعض Hot اور Warm Wallets سے تقریباً 351.6 ملین ڈالر کے اثاثوں کی غیر مجاز منتقلی ہوئی؛ حتمی نقصان کا تعین تحقیقات اور بازیابی کے بعد ہوگا۔ ایکسچینج نے رقوم نکلوانا (Withdrawals) معطل رکھا ہے، جبکہ جمع کرانا اور تجارت جاری ہیں۔ بحالی کا حتمی وقت سامنے نہیں آیا اور صارفین کی رسائی اہم سوال ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ Cold Wallets محفوظ ہیں اور 464 ملین ڈالر سے زیادہ کا تحفظ فنڈ نقصان پورا کرسکتا ہے؛ یہ ادارے کا دعویٰ ہے، آزادانہ آڈٹ کا نتیجہ نہیں۔ 25 ستمبر کی دستیاب ریڈنگز میں BTC تقریباً 84,000 ڈالر اور ETH تقریباً 2,676 ڈالر پر تھا؛ محدود قیمت ردعمل کو پورے خطرے کے خاتمے کی تصدیق نہیں سمجھنا چاہیے۔ اب توجہ مکمل تحقیق، رقوم کی واپسی، متاثرہ پتوں اور اثاثوں کی بازیابی پر ہے۔ محض والیٹ منتقلی فروخت ثابت نہیں کرتی، نہ قیمت میں ہر کمی کو اس حملے سے جوڑا جاسکتا ہے۔
امریکی وال اسٹریٹ پر میگا کیپ اسٹاکس اور مالیاتی سیکٹر کی ملا جلی کارکردگی نے انڈیکس کو رینج باؤنڈ رکھا ہوا ہے۔ اینویڈیا کی قیادت میں مصنوعی ذہانت کا شعبہ مستحکم ہے جبکہ بینکنگ اور کچھ ٹیک جائنٹس پر مسلسل دباؤ دیکھا جا رہا ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیاں ایک 'رسک-آن' ماحول میں مزید مستحکم ہو رہی ہیں، جس کی بنیادی وجہ امریکی افراط زر (US CPI) میں مسلسل کمی اور مرکزی بینکوں کی جانب سے شرح سود میں کمی کے بڑھتے ہوئے امکانات ہیں۔ ڈالر (DXY) پر دباؤ بڑھ رہا ہے جبکہ کیری ٹریڈز (carry trades) میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس سے عالمی ایکویٹی مارکیٹوں کو تقویت مل رہی ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج ( PSX) میں جمعہ کے روز کاروبار کے آغاز پر زبردست خریداری کا رجحان دیکھا گیا، جس کی بنیادی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی اور مصالحت کی خبریں تھیں۔ بینچ مارک KSE100 انڈیکس میں چار سو سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی آئندہ میٹنگ میں پالیسی ریٹ میں 100 بیسس پوائنٹس کی کمی کر سکتی ہے۔ اگست میں افراط زر 11.10% پر آ گیا ہے، جو موجودہ پالیسی ریٹ 11.50% سے کم ہے، جس سے حقیقی شرح سود مثبت ہو گئی ہے۔ یہ صورتحال معاشی سرگرمیوں کو سہارا دینے کے لیے شرح سود میں کمی کی راہ ہموار کرتی ہے۔
پاکستان کی معیشت میں آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحات اور متوازن بیرونی کھاتوں کے باعث استحکام آ رہا ہے۔ افراطِ زر میں کمی کے بعد مرکزی بینک کی طرف سے شرح سود میں مزید نرمی کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔
چینی صدر شی جن پنگ کے دورہ واشنگٹن US China Summit کے دوران جو اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی اور اسکے بعد جاری کئے جانیوالے بیانات نے عالمی معیشت کا رخ بدلنے کی صلاحیت کو اجاگر کیا ہے
عالمی مارکیٹس میں ایک مرتبہ پھر غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے کیونکہ Global Bond Rout (عالمی بانڈ مارکیٹ میں فروخت کا تسلسل) شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں حالیہ سست روی کے باوجود، بینکاری، توانائی (E&P)، سیمنٹ، بجلی، کھاد اور ٹیکنالوجی کے اہم سیکٹرز میں بنیادی عوامل اور آئندہ نتائج کے سیزن کے پیش نظر سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں۔ تاہم، غیر ملکی اور مقامی اداروں کی جانب سے محتاط پوزیشننگ دیکھی جا رہی ہے، جو مارکیٹ کے مجموعی رجحان پر اثر انداز ہو رہی ہے۔
پاکستان کی معیشت IMF پروگرام کی شرائط پر عمل درآمد کے باوجود سست روی کا شکار ہے، جس میں بلند افراط زر اور بیرونی کھاتوں کا دباؤ مرکزی بینک کو محتاط مالیاتی پالیسی برقرار رکھنے پر مجبور کر رہا ہے۔ ترسیلات زر اور زرمبادلہ کے ذخائر میں استحکام کے آثار محدود ہیں، جبکہ KSE-100 انڈیکس اور روپے کی قدر ایک حد میں مستحکم دکھائی دیتی ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں