EUR/USD 1.13440 پر بند ہوا، دن کی حد 1.13440–1.13734 اور DXY 101.33 کے ساتھ۔ 1.1350 کی سپورٹ ٹوٹنے سے بئیرش بریک آؤٹ کی تصدیق ہوئی ہے۔
"what is us gdp report and how it can effect the markets" کے لیے 1169 نتائج۔
EUR/USD 1.13440 پر بند ہوا، دن کی حد 1.13440–1.13734 اور DXY 101.33 کے ساتھ۔ 1.1350 کی سپورٹ ٹوٹنے سے بئیرش بریک آؤٹ کی تصدیق ہوئی ہے۔
AUD/USD اس وقت 0.6887 کے قریب trade کر رہا ہے۔ آسٹریلوی ڈالر حالیہ کمی کے بعد دباؤ میں ہے۔ Pair 0.7000 کی اہم سطح سے نیچے آ چکا ہے۔ RBA نے شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کیا۔ اس کے باوجود آسٹریلوی ڈالر اپنی مضبوطی برقرار نہیں رکھ سکا۔ امریکی ڈالر کی مضبوطی نے بھی کمی کو بڑھایا ہے۔ آنے والے امریکی اور آسٹریلوی معاشی اعداد و شمار اہم رہیں گے۔ 0.6880 موجودہ اہم support ہے۔ اس کے نیچے 0.6850 اور 0.6800 اگلی اہم سطحیں ہیں۔ اوپر کی جانب 0.6950 پہلی resistance ہے۔ اس کے بعد 0.7000 اہم resistance ہے۔ 0.7000 کے اوپر مضبوطی آنے سے 0.7050 کی طرف recovery ممکن ہے۔
تیل اور گیس کے شعبے میں پاکستان کی سب سے بڑی کمپنی آئل اینڈ گیس ڈیویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (PINSTECH) کے ساتھ ایک اہم معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ یہ معاہدہ ملک میں OGDCL Lithium Exploration کے سفر کا آغاز کر رہا ہے۔
مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک نیا اور تاریخی موڑ اس وقت آیا جب معروف AI لیب Anthropic نے اپنے آئی پی او (Initial Public Offering) پراسپیکٹس کا باضابطہ اعلان کیا
حکومتِ پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF Review) کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں اس بات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا کہ کس طرح خطے کے حالات نے ملکی معاشی رفتار کو متاثر کیا۔
پاکستان میں افراط زر کی شرح 11.10% تک نیچے آنے کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس پالیسی ریٹ کو 11.50% سے مزید کم کرنے کی گنجائش پیدا ہو چکی ہے۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی کا آنے والا فیصلہ معاشی نمو اور مالیاتی استحکام کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگا۔
US 10 سالہ ٹریژری ییلڈ 5.184% پر بڑھتے ہوئے اور 2 سالہ ییلڈ کی کمی نے عالمی سرکاری بانڈ مارکیٹ میں بیئر اسٹیپننگ کے رجحان کو مزید مستحکم کیا۔
امریکی فیڈرل ریزرو کی سخت پالیسی اور 10 سالہ ییلڈ کی 5.184 فیصد کی بلند سطح نے عالمی منڈیوں میں ری پرائسنگ کے عمل کو جاری رکھا ہوا ہے۔ افراط زر کے 3.35 فیصد پر قائم رہنے سے ابھرتی ہوئی معیشتوں پر شدید دباؤ ہے۔
SBP، Fed، ECB اور دیگر مرکزی بینکوں کے تازہ بیانات کے ساتھ ساتھ امریکی روزگار ڈیٹا نے ڈالر کو مضبوط کیا، جس سے پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی کمی آئی۔
عالمی معاشی تناظر میں افراط زر کے اعداد و شمار میں نرمی اور مرکزی بینکوں کے نرم موقف کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔ امریکی CPI 3.35% اور DXY 101.16 پر موجود ہیں جس سے کراس ایٹ منڈیوں میں نئی حرکیات جنم لے رہی ہیں۔
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں ایک بار پھر تیزی کی جانب گامزن ہیں جہاں برینٹ 0.91 فیصد اضافے کے ساتھ $98.33 پر آگیا ہے۔ ڈبلیو ٹی آئی اور برینٹ کے درمیان اسپریڈ میں کمی امریکی طلب کی مضبوطی اور اوپیک پلس کے سپلائی کنٹرول کی عکاسی کرتی ہے۔
سونا (XAU/USD) ایشیائی تجارت میں 2.1 فیصد گر کر 4,198.10 ڈالر فی اونس آگیا، جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز بھی 2.1 فیصد کمی کے ساتھ 4,231 ڈالر پر رہے۔ چاندی (XAG/USD) کی کمی بڑھ کر 3.4 فیصد ہوگئی اور قیمت 62.08 ڈالر فی اونس رہی؛ پلاٹینم اور پیلیڈیم بھی دباؤ میں آئے، اس لیے فروخت صرف سونے تک محدود نہیں۔ اکتوبر میں Fed کی شرح سود بڑھانے کا مارکیٹ امکان تقریباً 68 فیصد تک پہنچ گیا؛ ستمبر کے اضافے کے بعد امریکی پالیسی شرح پہلے ہی 3.75 سے 4.00 فیصد ہے۔ برینٹ خام تیل (Brent Crude) 106 ڈالر سے اوپر اور ڈالر انڈیکس (DXY) دو ماہ کی بلند سطح کے قریب رہا، جبکہ بلند امریکی بانڈ منافع نے دھاتوں کی کشش محدود رکھی۔ سونے کے لیے اب 4,200 ڈالر کی واپسی اہم ہے۔ 30 ستمبر کے امریکی PCE اور 2 اکتوبر کے روزگار کے اعداد شرح سود کی توقعات بدل سکتے ہیں، جبکہ 4,250 سے 4,300 ڈالر کی بحالی فروخت کا دباؤ کم ہونے کا اشارہ ہوگی۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں