پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے آغاز پر ہی فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک KSE100 انڈیکس میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ معاشی اور سیاسی غیر یقینی صورتحال کے سائے میں سرمایہ کاروں کا رسک لینے کا رجحان محدود نظر آتا ہے
"us default is out of the table says biden" کے لیے 1166 نتائج۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے آغاز پر ہی فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک KSE100 انڈیکس میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ معاشی اور سیاسی غیر یقینی صورتحال کے سائے میں سرمایہ کاروں کا رسک لینے کا رجحان محدود نظر آتا ہے
عالمی مارکیٹس اور کرپٹو انڈسٹری میں ایک بار پھر جغرافیائی سیاسی تناؤ کے اثرات واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نومبر کے وسطی مدتی انتخابات سے قبل ایران پر مزید فوجی حملوں کے امکان کو رد نہ کرنے کے بعد، Bitcoin اور Nasdaq futures میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔
عالمی معاشی تناظر میں افراط زر کے اعداد و شمار میں نرمی اور مرکزی بینکوں کے نرم موقف کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔ امریکی CPI 3.35% اور DXY 101.16 پر موجود ہیں جس سے کراس ایٹ منڈیوں میں نئی حرکیات جنم لے رہی ہیں۔
سونے کی عالمی قیمت $4,164.90 پر ٹریڈ ہو رہی ہے جبکہ امریکی ڈالر (DXY) 101.13 پر مضبوط ہے۔ یہ ترکیب بئریش موومنٹ کو مزید تقویت دیتی ہے۔
امریکہ اور چین نے اپنے تجارتی معاہدے میں دو ماہ کی توسیع کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ واشنگٹن میں صدر شی جن پنگ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی دوسری سربراہی ملاقات کے اہم ترین نتائج میں سے ایک ہے
پاکستان کی معیشت افراط زر میں 11.10 فیصد تک کمی، 11.50 فیصد پالیسی ریٹ اور ایکسچینج ریٹ کے 276.91 روپے پر استحکام کے ساتھ مانیٹری نرمی اور بیرونی توازن کی مستحکم راہ پر گامزن ہے۔
ایک طرف جہاں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے سخت شرائط برقرار ہیں، وہیں دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات نے امریکہ اور تہران کے درمیان مذاکرات کی توقعات نے تجارتی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ دی ہے
عالمی فاریکس مارکیٹ میں امریکی بانڈ ییلڈز کے 5.18% تک پہنچنے کے بعد امریکی ڈالر نے اپنی بالادستی قائم رکھی ہوئی ہے۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں یورو اور پاؤنڈ کی قدر میں کمی دیکھی گئی ہے، جبکہ انٹربینک میں روپے کی قدر مستحکم دکھائی دیتی ہے۔
US 10Y ییلڈ 5.184% پر مستحکم رہتے ہوئے 2 سالہ ییلڈ کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس سے عالمی سرکاری بانڈ مارکیٹ میں بیئر اسٹیپننگ کا رجحان واضح ہو رہا ہے۔
برطانوی پاؤنڈ اور امریکی ڈالر (GBP/USD) کے تبادلے کی شرح 1.3238 کے قریب معلق ہے، جہاں 1.3200-1.3250 کا حمایتی زون شدید آزمائش کا شکار ہے۔ برطانیہ میں 3.10% کی افراط زر کے ماحول میں بینک آف انگلینڈ کی پالیسی اور ڈالر کا استحکام کیبل پیئر کے مستقبل کا تعین کر رہے ہیں۔
یہ مضمون سیشن کے آغاز میں مؤثر کرنسی جوڑوں کی شناخت، اہم خبر‑بنیاد ٹریڈنگ پلان اور رسک مینجمنٹ کے عملی نکات پیش کرتا ہے۔
امریکی افراط زر کے 3.35 فیصد پر جمود اور 10 سالہ ییلڈ کے 5.184 فیصد پر پہنچنے سے فیڈرل ریزرو کی سخت مانیٹری پالیسی طویل تر ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اس پالیسی تسلسل نے عالمی اثاثوں اور بالخصوص ابھرتی ہوئی منڈیوں پر سرمائے کے اخراج کا دباؤ بڑھا دیا ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں