سندھ کے وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ کی جانب سے تھر کول بلاک ٹو کے فیز تھری (Thar Coal Block II Phase III) کے افتتاح نے ملکی توانائی اور مالیاتی منظر نامے میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
"aud usd falls as middle east tensions boost us dollar risk off sentiment deepens" کے لیے 1103 نتائج۔
سندھ کے وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ کی جانب سے تھر کول بلاک ٹو کے فیز تھری (Thar Coal Block II Phase III) کے افتتاح نے ملکی توانائی اور مالیاتی منظر نامے میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
والی اسٹریٹ نے آخرکار فنانشل مارکیٹس کو ہفتے کے ساتوں دن اور چوبیس گھنٹے (24/7) چلانے کی طرف ایک تاریخی قدم اٹھا لیا ہے۔ ٹیکنالوجی اور روایتی فنانس کے امتزاج سے بننے والا یہ نیا قدم دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کے لیے سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھول رہا ہے
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے آغاز پر شدید فروخت کا رجحان دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں KSE100 انڈیکس ایک ہزار پوائنٹس پوائنٹس نیچے آ گیا۔ عالمی معاشی دباؤ، بڑھتی ہوئی امریکی ٹریژری ییلڈز ، اور مقامی معاشی اشاریوں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں KSE-100 انڈیکس 168,155 پر گراوٹ کے ساتھ بند ہوا، جبکہ کارپوریٹ نتائج کے سیزن سے قبل انسٹی ٹیوشنل فنڈز کا توجہ بینکنگ، ای اینڈ پی اور فرٹیلائزر سیکٹرز پر مرکوز ہے۔
وال اسٹریٹ پر اینویڈیا کی $1,090 کی سطح عبور کرنے اور ٹیسلا کے 4.65 فیصد اضافے نے 'میگنیفشینٹ 7' کی بلش پیش قدمی کو نئی طاقت دی ہے، جبکہ بینکنگ سیکٹر میں معمولی دباؤ قائم ہے۔
امریکی 10 سالہ ٹریژری ییلڈ 5.277 فیصد تک بڑھنے اور 2 سالہ ییلڈ گرنے سے 2s10s اسپریڈ 85.5 بیسس پوائنٹس تک پہنچ گیا ہے۔ بڑھتا ہوا ٹرم پریمیم عالمی قرض منڈیوں میں دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے۔
امریکی افراط زر کی 3.35 فیصد سطح اور 10 سالہ ٹریژری ییلڈ کے 5.277 فیصد پر استحکام نے فیڈرل ریزرو کی سخت پالیسی طویل تر رکھنے کی توثیق کر دی ہے، جس سے ڈالر انڈیکس 101.92 پر کھڑا ہو کر عالمی اثاثوں کو متاثر کر رہا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں KSE-100 انڈیکس 168,155 کی سطح پر 0.40 فیصد کی کمی کے ساتھ ٹریڈ کر رہا ہے۔ نتائج کے سیزن کے قریب بینکنگ، ای اینڈ پی، سیمنٹ اور دیگر 6 اہم سیکٹرز کا جامع بنیادی اور تکنیکی تجزیہ۔
برینٹ (Brent Crude Oil) 2.77 فیصد کم ہوکر 99.48 ڈالر، جبکہ WTI 3.61 فیصد گر کر 89.52 ڈالر فی بیرل رہا۔ فرانسیسی تجویز میں یورپی ممالک سے 50 ملین بیرل ڈیزل اور عالمی توانائی ایجنسی کے ارکان سے مزید 50 ملین بیرل خام تیل جاری کرنے کی بات شامل ہے۔ یورپی گیس آئل فیوچرز 5 فیصد سے زیادہ گر کر تقریباً 1,377 ڈالر فی میٹرک ٹن تک آئے۔ مذاکرات میں امریکا کی جانب سے یکطرفہ ڈیزل برآمدی پابندی نہ لگانے کی یقین دہانی بھی اہم معاملہ ہے۔ مجوزہ حجم کے ساتھ منظوری، ترسیل کا شیڈول اور ریفائنڈ ایندھن کی حقیقی دستیابی اگلا فیصلہ کن مرحلہ ہوں گے۔
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت (Pakistan Petroleum Sales September 2026) میں ستمبر 2026 کے دوران سالانہ بنیادوں پر (YoY) 2 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جس کے بعد کُل فروخت 1.35 ملین ٹن پر آگئی ہے۔
24 قیراط سونا 2,000 روپے اضافے سے 440,636 روپے فی تولہ ہوگیا۔ 10 گرام سونا 377,774 روپے، جبکہ چاندی 50 روپے بڑھ کر 6,578 روپے فی تولہ رہی۔ مقامی نرخ کے ساتھ رپورٹ کردہ عالمی حوالہ 20 ڈالر بڑھ کر 4,181 ڈالر فی اونس ہوگیا۔ جمعہ کی تیزی نے جمعرات کی کمی کا تقریباً دو تہائی حصہ واپس لیا؛ دونوں سیشنز کی مجموعی تبدیلی اب بھی 1,000 روپے منفی ہے۔ پیر سے جمعہ تک جاری کردہ فی تولہ نرخ 437,336 سے 441,636 روپے کی پرائس رینج میں رہے۔
ستمبر میں سالانہ مہنگائی 10.3 فیصد رہی، جو اگست کے مقابلے میں 0.8 فیصد پوائنٹ کم ہے۔ ماہانہ قیمتیں 1.3 فیصد بڑھیں؛ اگست میں اضافہ 1.2 فیصد تھا۔ شہری اور دیہی دونوں اشاریوں میں بجلی کے چارجز 15.28 فیصد بڑھے، جبکہ موٹر فیول کا اضافہ بالترتیب 10.76 اور 11.13 فیصد رہا۔ ٹماٹر اور مرغی سستے ہوئے، لیکن قومی سطح پر خوراک اور مشروبات کا مجموعی اشاریہ ماہانہ 0.19 فیصد بڑھا۔ خوراک اور توانائی کے بغیر بنیادی مہنگائی (Core Inflation) میں کمی آئی، تاہم توانائی کی بڑھتی لاگت شرح سود کے آئندہ فیصلوں کے لیے اہم رہے گی۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں