پاکستان کی معیشت 11.50% پالیسی ریٹ اور 11.10% CPI افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے دور میں قائم ہے۔ انٹربینک مارکیٹ میں USD/PKR 0.33% کی بہتری کے ساتھ 276.82 پر بند ہوا، جبکہ KSE-100 انڈیکس 168,155 پوائنٹس پر معاشی استحکام کی عکاسی کر رہا ہے۔
"امریکہ کی اکتوبر 2022ء کی durable goods orders رپورٹ جاری کر" کے لیے 1172 نتائج۔
پاکستان کی معیشت 11.50% پالیسی ریٹ اور 11.10% CPI افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے دور میں قائم ہے۔ انٹربینک مارکیٹ میں USD/PKR 0.33% کی بہتری کے ساتھ 276.82 پر بند ہوا، جبکہ KSE-100 انڈیکس 168,155 پوائنٹس پر معاشی استحکام کی عکاسی کر رہا ہے۔
امریکی 10 سالہ بانڈ ییلڈ 5.237% اور ڈالر انڈیکس 102.01 پر پہنچنے سے فیڈرل ریزرو کی سخت مالیاتی پالیسی کا تسلسل ثابت ہو رہا ہے۔ افراط زر کی 3.35% سطح پر موجودگی عالمی اثاثوں کے لیے اہم خطرہ ہے۔
پاکستان کی معیشت 11.50 فیصد پالیسی ریٹ اور 11.10 فیصد افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے زمرے میں داخل ہو چکی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر، آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد اور ترسیلاتِ زر کے سہارے USD/PKR 277.10 کی سطح پر مستحکم ہے جبکہ KSE-100 انڈیکس 168,637 پوائنٹس پر موجود ہے۔
برطانوی پاؤنڈ اور امریکی ڈالر کے درمیان کرنسی جوڑی اس وقت یورپی ٹریڈنگ کے آغاز میں 1.3250 کے قریب کمزوری کا شکار ہے۔ بینک آف انگلینڈ اور امریکی فیڈرل ریزرو کی مانیٹری پالیسی میں بڑھتے ہوئے فرق اور مضبوط امریکی معیشت کی وجہ سے برطانوی پاؤنڈ پر دباؤ برقرار ہے۔
یورپی سینٹرل بینک کی صدر کرسٹین لیگارڈ نے حال ہی میں ایک اہم بیان میں واضح کیا ہے کہ زون کی معیشت کا پھیلاؤ مختلف شعبوں اور ملکوں میں جاری ہے، تاہم ECB کیلئے افراط زر میں عالمی حالات کی وجہ سے اضافے کے تحت حالات اب زیادہ چیلنجنگ ہوتے جا رہے ہیں۔
اٹک ریفائنری لمیٹڈ نے حال ہی میں اپنی سالانہ رپورٹ میں ایک نہایت اہم منصوبے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت ملک میں ایک نیا 50,000 بیرل یومیہ کا جدید ڈیپ کنورژن پلانٹ قائم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے
Bitcoin کی قیمت تقریباً 83,200 ڈالر اور Ethereum تقریباً 2,648 ڈالر کے قریب آگئی؛ تازہ دستیاب نرخوں میں دونوں اتوار کے مقابلے میں مزید کمزور رہے۔ BTC گزشتہ ہفتے کی تقریباً 87,300 ڈالر کی بلند سطح سے نیچے ہے۔ اب 82,900 سے 83,000 ڈالر کا علاقہ نگرانی میں ہے، جبکہ 85,000 کی واپسی بحالی کو تقویت دے گی۔ ETH دوبارہ 2,700 ڈالر سے نیچے آگیا ہے۔ 2,600 ڈالر کے قریب خریداروں کا ردعمل اہم ہوگا، جبکہ 2,750 سے 2,800 کا علاقہ بحالی کی اگلی آزمائش رہے گا۔ ایران کے بارے میں غیر یقینی، مہنگا تیل اور بلند امریکی بانڈ منافع کے ساتھ Nasdaq futures اور ایشیائی حصص بھی کمزور رہے؛ تاہم ہر کرپٹو حرکت کو ایک خبر سے منسوب نہیں کیا جاسکتا۔ پیر کی کمی نے حالیہ تیزی کا تسلسل کمزور کیا ہے، مگر بڑی بحالی ختم ہونے کا فیصلہ ابھی قبل از وقت ہے۔ امریکی مہنگائی اور روزگار کے اعداد، بانڈ منافع اور اگلے سیشن کی خریداری اہم ہوں گے۔
BTC کی تازہ دستیاب قیمت تقریباً 85,000 ڈالر ہے؛ سات دن کی بلند سطح 87,330 ڈالر کے قریب رہی، اس لیے حالیہ بحالی کے باوجود پچھلی چوٹی ابھی دوبارہ حاصل نہیں ہوئی۔ 21 سے 25 ستمبر کے دوران امریکی Bitcoin ETF میں تقریباً 2.386 ارب ڈالر کی خالص آمد ہوئی؛ یہ مثبت طلب ہے، مگر تمام سرمایہ صرف ادارہ جاتی خریداروں کا نہیں سمجھا جاسکتا۔ BTC فنڈز کی روزانہ خالص آمد پیر کے 999 ملین سے جمعہ کو 134.5 ملین ڈالر رہ گئی؛ پانچوں سیشن مثبت تھے، لیکن خریداری کی روزانہ رفتار مسلسل کم ہوئی۔ ETH تقریباً 2,714 ڈالر ہے اور ہفتے میں 2,804 ڈالر تک جاچکا ہے؛ 2,750 سے 2,820 کی مزاحمت کے اوپر قیام اہم ہے، جبکہ ہفتہ وار ETF آمد تقریباً 690 ملین ڈالر رہی۔ BTC کے لیے 83,800 سے 84,000 کی حمایت اور 85,000 سے 85,800 کی مزاحمت قابلِ توجہ ہیں؛ ETH/BTC تقریباً 0.032 ہونے سے وسیع آلٹ کوائن گردش خودبخود ثابت نہیں ہوتی۔
پاکستان کی معیشت میں افراطِ زر کی شرح 11.10 فیصد تک نیچے آنے اور روپے کی قدر 277.00 پر مستحکم رہنے کے بعد شرح سود میں مزید کمی کے امکانات روشن ہو گئے ہیں، جبکہ کے ایس ای-100 انڈیکس 170,765 کی نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔
یہ تعلیمی سبق پیشہ ورانہ ٹریڈنگ کے بنیادی اصولوں، مارکیٹ سیٹ اپ کی شناخت، اہم نیوز ایونٹس کو ٹریڈنگ پلان میں شامل کرنے، اور مؤثر رسک مینجمنٹ تکنیکوں پر تفصیلی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس کا مقصد ٹریڈرز کو مارکیٹ میں زیادہ باخبر اور منظم فیصلے کرنے میں مدد دینا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی آئندہ میٹنگ میں پالیسی ریٹ میں 100 بیسس پوائنٹس کی کمی کر سکتی ہے۔ اگست میں افراط زر 11.10% پر آ گیا ہے، جو موجودہ پالیسی ریٹ 11.50% سے کم ہے، جس سے حقیقی شرح سود مثبت ہو گئی ہے۔ یہ صورتحال معاشی سرگرمیوں کو سہارا دینے کے لیے شرح سود میں کمی کی راہ ہموار کرتی ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں حالیہ سست روی کے باوجود، بینکاری، توانائی (E&P)، سیمنٹ، بجلی، کھاد اور ٹیکنالوجی کے اہم سیکٹرز میں بنیادی عوامل اور آئندہ نتائج کے سیزن کے پیش نظر سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں۔ تاہم، غیر ملکی اور مقامی اداروں کی جانب سے محتاط پوزیشننگ دیکھی جا رہی ہے، جو مارکیٹ کے مجموعی رجحان پر اثر انداز ہو رہی ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں