پاکستانی روپے (PKR) آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں مزید گراوٹ کا شکار ہوا، جو کہ 277.86 پر بند ہوا۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی اس رجحان کی بنیادی وجوہات ہیں۔
"eurusd consolidated near 1 0730 as eurozone money supply increased 0 9 percent in march" کے لیے 1010 نتائج۔
پاکستانی روپے (PKR) آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں مزید گراوٹ کا شکار ہوا، جو کہ 277.86 پر بند ہوا۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی اس رجحان کی بنیادی وجوہات ہیں۔
سونے کی مارکیٹ رپورٹ کا خلاصہ (TL;DR): COT ڈیٹا کا وقتی مغالطہ: منگل (25 اگست) تک اوپن انٹرسٹ اور نان کمرشل لانگ پوزیشنز میں 5.3% اضافہ ہوا، لیکن یہ جمعہ کی گراوٹ سے پہلے کا منظرنامہ ہے، نہ کہ موجودہ پوزیشننگ کی عکاسی۔ گراوٹ کا اصل میکرو محرک: بدھ کے غیر متوقع PCE مہنگائی ڈیٹا اور جمعہ کو جیکسن ہول میں فیڈ کے سخت (Hawkish) بیانات نے شرحِ سود بڑھنے کے امکانات، ڈالر انڈیکس (99.71) اور شارٹ اینڈ ییلڈز کو بڑھایا۔ نتیجتاً سونا $4,698 کے ہائی سے 5% سے زائد گر کر $4,455 پر بند ہوا۔ تکنیکی نقصان: جمعہ کی اس گراوٹ سے سونے نے اپنی 200 روزہ موونگ ایوریج ($4,513) کے اوپر بننے والا اہم بریک آؤٹ دوبارہ گنوا دیا ہے۔ آئندہ ہفتے کی نظر: اگلا سب سے اہم ایونٹ جمعہ 4 ستمبر کو جاری ہونے والی امریکی نان فارم پے رولز (NFP) رپورٹ ہے، جو فیڈ پالیسی اور سونے کے اگلے رجحان کا فیصلہ کرے گی۔
پاکستانی روپے (PKR) آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں مزید کمزور ہو کر 277.91 پر بند ہوا۔ درآمدی ادائیگیوں کا مسلسل دباؤ اور مقامی مارکیٹ میں ڈالر کی طلب میں اضافہ اس گراوٹ کی بنیادی وجوہات ہیں۔
عالمی مالیاتی مارکیٹیں اس وقت ملے جلے رجحانات کا سامنا کر رہی ہیں، جہاں امریکی ڈالر کی مضبوطی اور بانڈ کی پیداوار میں اضافہ کرپٹو اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ اس کے برعکس، پاکستان اسٹاک ایکسچینج (KSE-100) اور USD/PKR میں نسبتاً استحکام دیکھا جا رہا ہے، جو مقامی عوامل اور محتاط سرمایہ کاری کی عکاسی کرتا ہے۔
امریکی Labor Market کی اصل صورتحال جاننے کے لیے US Bureau Of Labor Statistics (BLS) کی جانب سے جاری کیے جانے والے روزگار کے اعداد و شمار Nonfarm Payrolls کو عالمی مارکیٹس کی سمت کے حوالے سے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ حالیہ Preliminary Benchmark Revision نے امریکی معیشت کی سابقہ تصویر پر نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں KSE-100 انڈیکس نے آج بھی ایک محدود رینج میں اتار چڑھاؤ دکھایا، جہاں انڈیکس نے معمولی مثبت بندش دی لیکن کم ٹرن اوور اور مارکیٹ کی کمزور وسعت نے سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کی نشاندہی کی۔ مارکیٹ اب بھی ایک واضح رجحان کی تلاش میں ہے اور اہم سپورٹ و مزاحمتی سطحوں کے درمیان مستحکم ہے۔
EUR/USD 1.1650 کے قریب برقرار ہے، جبکہ مارکیٹ کی توجہ جیکسن ہول تقریر پر ہے۔ 1.1700 اہم Resistance اور 1.1625، 1.1575 اہم Support levels ہیں، جو یورو کی اگلی سمت کا تعین کر سکتے ہیں۔
پاکستانی روپے (PKR) آج امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں انٹربینک مارکیٹ میں مزید کمزور ہوا، جو 0.16% کے اضافے کے ساتھ 277.77 پر بند ہوا۔ یہ گراوٹ درآمدی ادائیگیوں کے مسلسل دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی کی وجہ سے ہوئی ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کے روز ایک انتہائی اتار چڑھاؤ سے بھرپور سیشن دیکھنے میں آیا، جہاں KSE100 انڈیکس نے ابتدا میں شاندار تیزی دکھائی، لیکن اختتامی سیشن میں شدید فروخت اور پرافٹ ٹیکنگ کے باعث مارکیٹ تقریباً فلیٹ بند ہوئی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں KSE-100 انڈیکس آج ایک تنگ رینج میں مستحکم رہا، جہاں معمولی منفی تبدیلی کے ساتھ سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اپنایا۔ مارکیٹ کی چوڑائی میں کمی اور مخصوص سیکٹرز میں محدود سرگرمیوں نے کوئی واضح رجحان قائم نہیں ہونے دیا۔
برطانوی حکومت نے مالیاتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے بینک آف انگلینڈ BOE کو ڈیجیٹل کرنسی، Stablecoins اور جدید ادائیگیوں کے شعبے میں جدت کو فروغ دینے کا ایک نیا قانونی ہدف دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
آج انٹربینک مارکیٹ میں پاکستانی روپے (PKR) امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں 0.34% گراوٹ کا شکار ہوا اور 277.66 پر بند ہوا۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی کی توقعات اس گراوٹ کی اہم وجوہات ہیں۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں