مالیاتی دنیا کے بڑے ناموں میں سے ایک Goldman Sachs نے اپنے تقریباً 100 بلین ڈالر کے ٹریژری فنڈ کو انسٹی ٹیوشنل کرپٹو فرموں کے لیے قابل رسائی بنا دیا ہے۔
"aud usd falls as middle east tensions boost us dollar risk off sentiment deepens" کے لیے 1103 نتائج۔
مالیاتی دنیا کے بڑے ناموں میں سے ایک Goldman Sachs نے اپنے تقریباً 100 بلین ڈالر کے ٹریژری فنڈ کو انسٹی ٹیوشنل کرپٹو فرموں کے لیے قابل رسائی بنا دیا ہے۔
STOXX 600 ابتدائی یورپی تجارت میں 0.3 فیصد بڑھ کر 640.43 پوائنٹس پر پہنچا، لیکن شعبوں کی کارکردگی میں نمایاں فرق رہا۔ برطانیہ نے پہلی مرتبہ گھر خریدنے والوں کے لیے نئے ایکویٹی قرض پروگرام کا اعلان کیا ہے؛ مزید تفصیلات آئندہ ماہ کے بجٹ میں آنی ہیں۔ برطانوی ہاؤسنگ کمپنیوں کا اشاریہ تقریباً 16 فیصد بڑھا، بڑی کمپنیوں کے حصص میں 6 سے 23 فیصد تیزی آئی اور FTSE 250 تقریباً 1 فیصد اوپر رہا۔ برینٹ خام تیل میں 3 فیصد سے زیادہ اضافے کے ساتھ توانائی کے حصص بڑھے، جبکہ مضبوط ڈالر اور دھاتوں کی کمزوری سے کان کنی کا شعبہ دباؤ میں رہا۔ تیزی کے تسلسل کے لیے خریداری کا دوسرے شعبوں تک پھیلنا اہم ہوگا؛ تیل، بانڈ منافع اور ECB و BoE حکام کے بیانات اگلے نمایاں عوامل ہیں۔
عالمی مارکیٹس اور کرپٹو انڈسٹری میں ایک بار پھر جغرافیائی سیاسی تناؤ کے اثرات واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نومبر کے وسطی مدتی انتخابات سے قبل ایران پر مزید فوجی حملوں کے امکان کو رد نہ کرنے کے بعد، Bitcoin اور Nasdaq futures میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔
بٹ کوائن تقریباً 82,914 ڈالر پر ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کی نچلی قیمت 82,778 ڈالر رہی، اس لیے پہلے زیرِ بحث 82,819 ڈالر کی حد اب برقرار نہیں رہی۔ 83,000 ڈالر کی واپسی ابتدائی بہتری ہوگی، لیکن خریداروں کو 84,000 ڈالر کے علاقے تک پیش قدمی اور اس کے بعد خریداری کا تسلسل بھی دکھانا ہوگا۔ 24 گھنٹوں کی بلند ترین قیمت تقریباً 85,089 ڈالر ہے۔ صرف 85,000 عبور کرنے کے بجائے اس پورے علاقے کے اوپر قیام بحالی کو زیادہ وزن دے گا۔ حالیہ نچلی قیمت کے قریب اچھال بذات خود آزمودہ سپورٹ یا کامیاب ری ٹیسٹ نہیں۔ دوبارہ کمی پر خریداروں کا ردعمل اور بالائی سطحوں کی بازیابی اہم ہوگی۔ 78,000 ڈالر کو اس محدود جائزے کا فوری ہدف یا مثبت منظرنامہ غلط ثابت ہونے کی سطح نہیں بنایا جاسکتا؛ اس کے لیے وسیع تر چارٹ کا الگ تجزیہ ضروری ہے۔
خام تیل کی مارکیٹ میں تازہ ترین سیشن کے دوران شدید فروخت کا دباؤ دیکھا گیا ہے، جس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل 2.77 فیصد کمی کے ساتھ $97.44 فی بیرل پر آ گیا ہے۔ اس رپورٹ میں ہم بنیادی محرکات، برینٹ ڈبلیو ٹی آئی اسپریڈ اور مستقبل کے منظرناموں کا تفصیل سے جائزہ لیں گے۔
ADB نے ترقی پذیر ایشیا و بحرالکاہل کی نمو 2026 میں 5.0 فیصد اور 2027 میں 5.1 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے؛ یہ پورے ایشیا کی یکساں شرح نہیں۔ 2026 کی Inflation پیش گوئی 4.3 سے کم کرکے 4.2 فیصد، جبکہ 2027 کی 3.4 سے بڑھا کر 3.5 فیصد کی گئی ہے؛ اگلے سال کی شرح پھر بھی رواں سال سے کم متوقع ہے۔ توانائی کی طویل رکاوٹ اور شدید El Niño خوراک، پانی، پن بجلی اور بعض خام مال کی رسد متاثر کرسکتے ہیں؛ کم پن بجلی متبادل ایندھن کی طلب بھی بڑھا سکتی ہے۔ بلند قرض شرح سود بڑھانے کی معاشی لاگت میں اضافہ کرسکتا ہے، مگر اثر ہر ملک میں یکساں نہیں؛ قرض کی مدت، کرنسی، شرح اور مرکزی بینک کی خودمختاری اہم ہیں۔ نجی سرمایہ کاری، سرکاری معاونت اور AI سے متعلق برآمدات نمو کو سہارا دیتی ہیں؛ تاہم ٹیکنالوجی حصص میں بڑی گراوٹ، بلند Bond Yields اور مضبوط ڈالر خطرات بڑھا سکتے ہیں۔ اس لیے نمو کی پیش گوئی کو حصص کی یقینی تیزی نہ سمجھا جائے۔
دنیا کی سب سے بڑی کریٹو کرنسی یعنی Bitcoin ایک محدود دائرے میں ٹریڈ کر رہا ہے، وہیں دوسری طرف عالمی مارکیٹس میں بانڈز کی فروخت میں کمی اور خام تیل (Crude Oil) کی قیمتوں میں نرمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، سرمایہ کاروں کی توجہ اب روایتی سرمائے سے ہٹ کر متبادل کرپٹوز (Altcoins) کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج ( PSX) میں جمعہ کے روز کاروبار کے آغاز پر زبردست خریداری کا رجحان دیکھا گیا، جس کی بنیادی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی اور مصالحت کی خبریں تھیں۔ بینچ مارک KSE100 انڈیکس میں چار سو سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا
توانائی کی مارکیٹس میں اس وقت غیر یقینی صورتحال جاری ہے کیونکہ ڈبلیو ٹی آئی کروڈ آئل (WTI Crude Oil) کی قیمتیں 92 ڈالر کی نفسیاتی حد سے نیچے آ گئی ہیں۔ ایشیائی سیشن کے دوران اس کمی نے تیل کی دو روزہ مسلسل تیزی کے تسلسل کو توڑ دیا ہے
OpenAI Agent کی طرف سے آسٹریلوی حکومت کی ویب سائٹ ہیک کرنے کا یہ پہلا ممکنہ باضابطہ واقعہ نہ صرف مصنوعی ذہانت کی لامحدود صلاحیتوں کا عکاس ہے
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں KSE-100 انڈیکس آج 0.62% کی گراوٹ کے ساتھ 170,499 پوائنٹس پر بند ہوا، جو 170,000 کی نفسیاتی اور تکنیکی حمایت کے بہت قریب ہے۔ یہ پیش رفت مارکیٹ کے 'حد میں رہنے' (range-bound) کے رجحان میں نچلی جانب جھکاؤ کو ظاہر کرتی ہے، اور اگلے سیشن میں اس اہم سطح کے دفاع یا ٹوٹنے پر نظریں مرکوز ہوں گی۔
پاکستان کے انرجی سیکٹر میں ایک نیا موڑ اس وقت آیا جب ملک کی تین بڑی ریفائنریز Cnergyico Pk، Attock Refinery Limited (ARL)، اور National Refinery Limited (NRL) نے سرکاری ادارے Inter State Gas Systems (ISGS) کے ساتھ باضابطہ معاہدوں پر دستخط کیے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں