حالیہ دنوں میں مائیکل سیلر کی جانب سے سامنے آنے والے اشارے نے سرمایہ کاروں اور ٹریڈرز کی توجہ ایک بار پھر اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔
"positive trend in psx kse100 reached multi years high level" کے لیے 1138 نتائج۔
حالیہ دنوں میں مائیکل سیلر کی جانب سے سامنے آنے والے اشارے نے سرمایہ کاروں اور ٹریڈرز کی توجہ ایک بار پھر اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔
پاکستانی روپے (PKR) امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی قدر کھو رہا ہے، انٹربینک مارکیٹ میں 277.82 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی اس گراوٹ کی اہم وجوہات ہیں۔
AUDUSD میں غیر یقینی صورتحال پیدا کی ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی اور تجارت کے لیے ایک انتہائی اہم راستہ ہے۔ اس خطے میں کسی بھی بڑے تنازع یا سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات سے سرمایہ کاروں کے ٹرینڈز تیزی سے تبدیل ہو سکتے ہیں۔
پاکستانی روپے (PKR) آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں مزید گراوٹ کا شکار ہوا، جو کہ 277.86 پر بند ہوا۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی اس رجحان کی بنیادی وجوہات ہیں۔
سونے کی مارکیٹ رپورٹ کا خلاصہ (TL;DR): COT ڈیٹا کا وقتی مغالطہ: منگل (25 اگست) تک اوپن انٹرسٹ اور نان کمرشل لانگ پوزیشنز میں 5.3% اضافہ ہوا، لیکن یہ جمعہ کی گراوٹ سے پہلے کا منظرنامہ ہے، نہ کہ موجودہ پوزیشننگ کی عکاسی۔ گراوٹ کا اصل میکرو محرک: بدھ کے غیر متوقع PCE مہنگائی ڈیٹا اور جمعہ کو جیکسن ہول میں فیڈ کے سخت (Hawkish) بیانات نے شرحِ سود بڑھنے کے امکانات، ڈالر انڈیکس (99.71) اور شارٹ اینڈ ییلڈز کو بڑھایا۔ نتیجتاً سونا $4,698 کے ہائی سے 5% سے زائد گر کر $4,455 پر بند ہوا۔ تکنیکی نقصان: جمعہ کی اس گراوٹ سے سونے نے اپنی 200 روزہ موونگ ایوریج ($4,513) کے اوپر بننے والا اہم بریک آؤٹ دوبارہ گنوا دیا ہے۔ آئندہ ہفتے کی نظر: اگلا سب سے اہم ایونٹ جمعہ 4 ستمبر کو جاری ہونے والی امریکی نان فارم پے رولز (NFP) رپورٹ ہے، جو فیڈ پالیسی اور سونے کے اگلے رجحان کا فیصلہ کرے گی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں KSE-100 انڈیکس نے آج بھی ایک تنگ رینج میں اتار چڑھاؤ دکھایا، جہاں انڈیکس نے معمولی مثبت بندش دی لیکن مارکیٹ کی مجموعی وسعت (breadth) اور ٹرن اوور میں کمی نے سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کی نشاندہی کی، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ اب بھی ایک واضح رجحان کی تلاش میں ہے۔
امریکہ کی جانب سے وینزویلا کے تیل کے شعبے میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور سرمایہ کاری سے متعلق پیش رفت نے عالمی Energy Market میں نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
پاکستانی روپے (PKR) آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں مزید کمزور ہو کر 277.91 پر بند ہوا۔ درآمدی ادائیگیوں کا مسلسل دباؤ اور مقامی مارکیٹ میں ڈالر کی طلب میں اضافہ اس گراوٹ کی بنیادی وجوہات ہیں۔
عالمی مالیاتی مارکیٹیں اس وقت ملے جلے رجحانات کا سامنا کر رہی ہیں، جہاں امریکی ڈالر کی مضبوطی اور بانڈ کی پیداوار میں اضافہ کرپٹو اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ اس کے برعکس، پاکستان اسٹاک ایکسچینج (KSE-100) اور USD/PKR میں نسبتاً استحکام دیکھا جا رہا ہے، جو مقامی عوامل اور محتاط سرمایہ کاری کی عکاسی کرتا ہے۔
امریکی Labor Market کی اصل صورتحال جاننے کے لیے US Bureau Of Labor Statistics (BLS) کی جانب سے جاری کیے جانے والے روزگار کے اعداد و شمار Nonfarm Payrolls کو عالمی مارکیٹس کی سمت کے حوالے سے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ حالیہ Preliminary Benchmark Revision نے امریکی معیشت کی سابقہ تصویر پر نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
جغرافیائی سیاسی کشیدگی نے ترقی پذیر ممالک کے لیے انرجی سیکورٹی کو ایک بڑا چیلنج بنا دیا ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان نے توانائی کے شعبے کو مزید مستحکم بنانے اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے Strategic Petroleum Reserves قائم کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں
پاکستان کے توانائی اور معاشی منظرنامے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ملک کی پانچ بڑی آئل ریفائنریز نے Refinery Upgradation Policy کے تحت اپنی صنعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدوں پر آگے بڑھنے پر اتفاق کیا ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں