جاپان کے بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے اور Bank of Japan کے محتاط پالیسی مؤقف نے جاپانی ین کی بحالی کے امکانات کو محدود کر دیا ہے، جبکہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں USDJPY جوڑی 158.30 کے قریب پہنچ گئی ہے
"usdjpy declined after statements from bank of japan" کے لیے 1092 نتائج۔
جاپان کے بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے اور Bank of Japan کے محتاط پالیسی مؤقف نے جاپانی ین کی بحالی کے امکانات کو محدود کر دیا ہے، جبکہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں USDJPY جوڑی 158.30 کے قریب پہنچ گئی ہے
عالمی کرنسی مارکیٹ میں USDJPY نفسیاتی اور تکنیکی سطح 158.00 پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہے۔ یہ صورتحال اس وقت انتہائی دلچسپ بن جاتی ہے جب جاپان کے مرکزی بینک کے ستمبر کے مانیٹری پالیسی اجلاس کے منٹس سامنے آئے ہیں۔
آج ریلیز ہونیوالی رپورٹ کے مطابق UK CPI Inflation توقعات سے زیادہ بڑھ کر 3.5% تک پہنچ گئی، جس سے Bank of England کے لیے قیمتوں کو 2% کے ہدف تک لانے کا چیلنج مزید بڑھ گیا ہے
آج ایشیائی سیشنز کے دوران امریکی ڈالر کے مقابلے میں جاپانی ین کی قدر 158 کی سطح سے اوپر مستحکم ہے، تاہم آئندہ ہفتے Federal Reserve (Fed) اور Bank of Japan (BoJ) کے اہم مانیٹری پالیسی فیصلوں سے پہلے سرمایہ کار محتاط دکھائی دے رہے ہیں۔
جاپانی ین امریکی ڈالر کے مقابلے میں 158.50 کے قریب مستحکم ہے، کیونکہ سرمایہ کار جاپان کے تازہ افراط زر کے اعدادوشمار اور مرکزی بینکوں کی مالیاتی پالیسی سے متعلق آئندہ اشاروں کے منتظر ہیں
آج کے ایشیائی سیشن کے دوران ڈالر نے معمولی برتری حاصل کی، لیکن مارکیٹ میں کسی بڑی یکطرفہ نقل و حرکت کے بجائے ایک محدود رینج (Range Play) کی کیفیت دیکھی جا رہی ہے۔
بدھ کے روز ایشیائی ٹریڈنگ سیشن کے دوران USDJPY میں تازہ ترین خریداری دیکھی گئی، جس کے نتیجے میں یہ جوڑی 158.50 کے قریب تجارت کرتی نظر آئی، جو گزشتہ ہفتے کی بلند ترین سطح کے کافی قریب ہے۔ تاہم، یہ قیمت ایک مخصوص اور محدود رینج میں قید ہے۔
امریکی ڈالر کے مقابلے میں جاپانی ین (Japanese Yen) نے اس وقت قدرے سنبھلنے کی کوشش کی جب بینک آف جاپان (Bank of Japan) کی جانب سے شرح سود (Interest Rate) میں اضافے کی توقعات مدہم پڑ گئیں۔ USDJPY ایشیائی سیشن کے آغاز میں 158.35 کے قریب مضبوطی برقرار رکھے ہوئے ہے۔
ایشیائی سیشن کے دوران USDJPY کا کرنسی جوڑا تقریباً 157.90 کی سطح پر ٹریڈ کر رہا ہے اور پچھلے سیشن کے مقابلے میں معمولی تبدیلی کے بعد ایک محدود دائرے میں پھنسا ہوا نظر آتا ہے۔
اسٹیٹسٹکس بیورو آف جاپان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، ستمبر میں ٹوکیو کا کنزیومر پرائس انڈیکس سالانہ بنیادوں پر 2.7 فیصد بڑھ گیا، جو کہ گزشتہ مہینے میں 1.9 فیصد تھا۔
عالمی سرمایہ کاروں کی نظریں اس وقت Japanese JGB Bond Yields پر مرکوز ہیں، کیونکہ موجودہ صورتحال ایک بڑی حکومتی مداخلت کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔
اس وقت مارکیٹ کی تمام تر توجہ جمعہ کے روز متوقع بینک آف جاپان کے مانیٹری پالیسی بارے فیصلے پر مرکوز ہے، جو کہ ایشیائی کرنسی کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی آئندہ سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں