بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے اپنی تازہ ترین ورلڈ اکانومک آؤٹ لک (World Economic Outlook WEO) رپورٹ شائع کر دی ہے، جس نے عالمی اور خصوصاً پاکستان کے معاشی افق پر کئی نئے سوالات اور چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں۔
"pakistani current account report released first surplus recorded in three years" کے لیے 1120 نتائج۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے اپنی تازہ ترین ورلڈ اکانومک آؤٹ لک (World Economic Outlook WEO) رپورٹ شائع کر دی ہے، جس نے عالمی اور خصوصاً پاکستان کے معاشی افق پر کئی نئے سوالات اور چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پچھلے چند دنوں کی مندی کے بعد خریداروں کی شاندار واپسی دیکھنے میں آئی ہے۔ بینچ مارک KSE100 انڈیکس کاروباری ہفتے کے آغاز میں ابتدائی منٹوں کے دوران ہی 900 سے زائد پوائنٹس کی ریکوری کر کے 166068 کی سطح پر پہنچ گیا۔
عالمی فنانشل مارکیٹس اور انرجی سیکٹر اس وقت ایک نئے جیو پولیٹیکل (Geopolitics) موڑ پر کھڑے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روس اور یوکرین کے درمیان ایک ہنگامی اور غیر متوقع "انرجی سیز فائر" (Energy Ceasefire) کا اعلان سامنے آیا ہے
عالمی بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان (MENAAP) کے خطے میں انتہائی غربت کا شکار آبادی کا تقریباً نصف حصہ رکھتا ہے۔
پاکستان کی معیشت 11.50 فیصد پالیسی ریٹ اور 11.10 فیصد افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے بل بوتے پر توازن برقرار رکھے ہوئے ہے، جہاں روپیہ انٹربینک میں 277.10 پر مستحکم ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں واضح تقسیم دیکھی جا رہی ہے۔ برینٹ خام تیل 102.85 ڈالر پر مضبوط ہے جبکہ ڈبلیو ٹی آئی 90.65 ڈالر تک گر گیا ہے، جس سے دونوں کا فرق 12.20 ڈالر ہو گیا ہے۔
پاکستان انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 277.49 پر پہنچ گیا ہے۔ عالمی ڈالر انڈیکس کی مضبوطی اور مقامی معاشی اشاریوں کا تفصیلی جائزہ۔
پاکستان انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر 276.83 روپے کی سطح پر دیکھا جا رہا ہے۔ 11.50 فیصد پالیسی ریٹ اور مثبت حقیقی شرح سود کے باعث روپیہ محدود رینج میں مستحکم ہے۔ پڑھیں مکمل فاریکس تجزیہ۔
پاکستان کی معیشت 11.50% پالیسی ریٹ اور 11.10% افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ بیرونی کھاتوں کے استحکام اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت USD/PKR 276.83 پر متوازن قائم ہے۔
پاکستان کی معیشت 11.50% پالیسی ریٹ اور 11.10% CPI افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے دور میں قائم ہے۔ انٹربینک مارکیٹ میں USD/PKR 0.33% کی بہتری کے ساتھ 276.82 پر بند ہوا، جبکہ KSE-100 انڈیکس 168,155 پوائنٹس پر معاشی استحکام کی عکاسی کر رہا ہے۔
USD/PKR دستیاب مارکیٹ ڈیٹا میں 277.05 رہا؛ حتمی انٹربینک اختتامی نرخ کی الگ تصدیق ضروری ہے۔ عالمی ڈالر کی مضبوطی اور روپے کی محدود بہتری ایک ساتھ ممکن ہیں، کیونکہ دونوں کے محرکات مکمل طور پر یکساں نہیں۔ امریکی بانڈ ییلڈز فاریکس مارکیٹ کے لیے اہم ہیں، مگر ان میں ہر اضافہ لازماً ڈالر میں تیزی یا رسک آف ماحول کی تصدیق نہیں کرتا۔ یورو زون میں بلند مہنگائی کے ساتھ فرانس کے مالیاتی خطرات بھی EUR/USD پر اثر ڈال رہے ہیں۔ امریکی روزگار کی رپورٹ کے بعد ڈالر، بانڈ ییلڈز اور شرح سود کی توقعات میں تبدیلی اگلا اہم محرک ہوگی۔
پاکستان کی معیشت 11.50 فیصد پالیسی ریٹ اور 11.10 فیصد افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے زمرے میں داخل ہو چکی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر، آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد اور ترسیلاتِ زر کے سہارے USD/PKR 277.10 کی سطح پر مستحکم ہے جبکہ KSE-100 انڈیکس 168,637 پوائنٹس پر موجود ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں