عالمی فنانشل مارکیٹس میں اس وقت سرمایہ کاروں کی تمام تر توجہ ایک ہی اہم ترین معاشی اشاریے پر مرکوز ہے، اور وہ ہے US Nonfarm Payrolls , اس وقت Gold Price ایک تنگ دائرے یا رینج میں پھسی ہوئی ہے
"business day ended on positive momentum in psx as islamabad high court waived off super tax" کے لیے 1157 نتائج۔
عالمی فنانشل مارکیٹس میں اس وقت سرمایہ کاروں کی تمام تر توجہ ایک ہی اہم ترین معاشی اشاریے پر مرکوز ہے، اور وہ ہے US Nonfarm Payrolls , اس وقت Gold Price ایک تنگ دائرے یا رینج میں پھسی ہوئی ہے
پاکستان کی معیشت 11.50 فیصد پالیسی ریٹ اور 11.10 فیصد افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے زمرے میں داخل ہو چکی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر، آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد اور ترسیلاتِ زر کے سہارے USD/PKR 277.10 کی سطح پر مستحکم ہے جبکہ KSE-100 انڈیکس 168,637 پوائنٹس پر موجود ہے۔
مشہور کرپٹو ایکسچینج جیمنی نے اپنے زی کیش سسٹمز کے سافٹ ویئر میں ایک بڑا اور اسٹریٹجک تبد یلی کی ہے۔ ایکسچینج نے زیبرا پروگرام کو چھوڑ کر اب زاکورا نامی نئے سافٹ ویئر کو اپنالیا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کے سیشن کا اختتام 169,969 پوائنٹس پر ہوا جہاں KSE-100 انڈیکس نے 0.63 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا۔ دن کے دوران انڈیکس نے 172,756 کی بلند ترین سطح کو چھوا مگر اوپری سطحوں پر پرافٹ ٹیکنگ کے باعث 170,000 سے ذرا نیچے بند ہوا۔
پاکستان کی معاشی صورتحال میں افراط زر 11.10 فیصد اور اسٹیٹ بینک کا پالیسی ریٹ 11.50 فیصد رہنے سے مثبت حقیقی شرح سود کا فریم ورک برقرار ہے۔ ڈالر 276.88 روپے کی سطح پر مستحکم ہے جبکہ KSE-100 انڈیکس 169,600 پوائنٹس کی سطح پر مضبوط تجارتی سگنل فراہم کر رہا ہے۔
4139Gold کے قریب trade کر رہا ہے۔ حالیہ کمی کے بعد قیمت دباؤ میں ہے۔ 4100 سے 4120 اہم support ہے۔ اس support کے برقرار رہنے سے recovery ممکن ہے۔ 4200 پہلا اہم resistance ہے۔ 4250 اگلا اہم resistance بن سکتا ہے۔ 4100 کے نیچے کمی مزید دباؤ بڑھا سکتی ہے۔ 4050 اور 4000 اگلے اہم support levels ہیں۔
Bitcoin کی قیمت تقریباً 83,200 ڈالر اور Ethereum تقریباً 2,648 ڈالر کے قریب آگئی؛ تازہ دستیاب نرخوں میں دونوں اتوار کے مقابلے میں مزید کمزور رہے۔ BTC گزشتہ ہفتے کی تقریباً 87,300 ڈالر کی بلند سطح سے نیچے ہے۔ اب 82,900 سے 83,000 ڈالر کا علاقہ نگرانی میں ہے، جبکہ 85,000 کی واپسی بحالی کو تقویت دے گی۔ ETH دوبارہ 2,700 ڈالر سے نیچے آگیا ہے۔ 2,600 ڈالر کے قریب خریداروں کا ردعمل اہم ہوگا، جبکہ 2,750 سے 2,800 کا علاقہ بحالی کی اگلی آزمائش رہے گا۔ ایران کے بارے میں غیر یقینی، مہنگا تیل اور بلند امریکی بانڈ منافع کے ساتھ Nasdaq futures اور ایشیائی حصص بھی کمزور رہے؛ تاہم ہر کرپٹو حرکت کو ایک خبر سے منسوب نہیں کیا جاسکتا۔ پیر کی کمی نے حالیہ تیزی کا تسلسل کمزور کیا ہے، مگر بڑی بحالی ختم ہونے کا فیصلہ ابھی قبل از وقت ہے۔ امریکی مہنگائی اور روزگار کے اعداد، بانڈ منافع اور اگلے سیشن کی خریداری اہم ہوں گے۔
BTC کی تازہ دستیاب قیمت تقریباً 85,000 ڈالر ہے؛ سات دن کی بلند سطح 87,330 ڈالر کے قریب رہی، اس لیے حالیہ بحالی کے باوجود پچھلی چوٹی ابھی دوبارہ حاصل نہیں ہوئی۔ 21 سے 25 ستمبر کے دوران امریکی Bitcoin ETF میں تقریباً 2.386 ارب ڈالر کی خالص آمد ہوئی؛ یہ مثبت طلب ہے، مگر تمام سرمایہ صرف ادارہ جاتی خریداروں کا نہیں سمجھا جاسکتا۔ BTC فنڈز کی روزانہ خالص آمد پیر کے 999 ملین سے جمعہ کو 134.5 ملین ڈالر رہ گئی؛ پانچوں سیشن مثبت تھے، لیکن خریداری کی روزانہ رفتار مسلسل کم ہوئی۔ ETH تقریباً 2,714 ڈالر ہے اور ہفتے میں 2,804 ڈالر تک جاچکا ہے؛ 2,750 سے 2,820 کی مزاحمت کے اوپر قیام اہم ہے، جبکہ ہفتہ وار ETF آمد تقریباً 690 ملین ڈالر رہی۔ BTC کے لیے 83,800 سے 84,000 کی حمایت اور 85,000 سے 85,800 کی مزاحمت قابلِ توجہ ہیں؛ ETH/BTC تقریباً 0.032 ہونے سے وسیع آلٹ کوائن گردش خودبخود ثابت نہیں ہوتی۔
یورو نظام نے 21 ستمبر 2026 کو Pontes شروع کردیا، جس سے اہل اداروں کو ٹوکنائزڈ مالیاتی اثاثوں کے لین دین کا تصفیہ مرکزی بینک کے یورو میں کرنے کی سہولت ملی ہے۔ Pontes مالیاتی DLT پلیٹ فارمز کو TARGET Services سے جوڑتا ہے؛ ابتدائی نظام میں ادائیگی کا حتمی تصفیہ T2 میں متعلقہ منتقلی مکمل ہونے پر حاصل ہوتا ہے۔ ECB اپنے غیر زری پالیسی پورٹ فولیو کا محدود حصہ ٹوکنائزڈ سکیورٹیز میں لگانے کی تیاری کررہا ہے؛ خریداری کا وقت اور عملی تفصیلات ابھی طے ہونا باقی ہیں۔ مرکزی بینک کی رقم تک رسائی بعض ادارہ جاتی معاملات میں نجی تصفیہ ذرائع پر انحصار کم کرسکتی ہے، لیکن اس سے اسٹیبل کوائنز کا استعمال خود بخود ختم نہیں ہوتا۔ یہ پیش رفت Bitcoin یا Ethereum کی منظوری نہیں۔ اصل امتحان اداروں کی شرکت، تصفیے کے حجم، لاگت، قانونی تحفظ اور مختلف پلیٹ فارمز کے باہمی رابطے کا ہوگا۔
ADB نے ترقی پذیر ایشیا و بحرالکاہل کی نمو 2026 میں 5.0 فیصد اور 2027 میں 5.1 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے؛ یہ پورے ایشیا کی یکساں شرح نہیں۔ 2026 کی Inflation پیش گوئی 4.3 سے کم کرکے 4.2 فیصد، جبکہ 2027 کی 3.4 سے بڑھا کر 3.5 فیصد کی گئی ہے؛ اگلے سال کی شرح پھر بھی رواں سال سے کم متوقع ہے۔ توانائی کی طویل رکاوٹ اور شدید El Niño خوراک، پانی، پن بجلی اور بعض خام مال کی رسد متاثر کرسکتے ہیں؛ کم پن بجلی متبادل ایندھن کی طلب بھی بڑھا سکتی ہے۔ بلند قرض شرح سود بڑھانے کی معاشی لاگت میں اضافہ کرسکتا ہے، مگر اثر ہر ملک میں یکساں نہیں؛ قرض کی مدت، کرنسی، شرح اور مرکزی بینک کی خودمختاری اہم ہیں۔ نجی سرمایہ کاری، سرکاری معاونت اور AI سے متعلق برآمدات نمو کو سہارا دیتی ہیں؛ تاہم ٹیکنالوجی حصص میں بڑی گراوٹ، بلند Bond Yields اور مضبوط ڈالر خطرات بڑھا سکتے ہیں۔ اس لیے نمو کی پیش گوئی کو حصص کی یقینی تیزی نہ سمجھا جائے۔
ڈالر انڈیکس (DXY) اور امریکی 10 سالہ ٹریژری ییلڈز کا باہمی تعلق، فیڈرل ریزرو کی پالیسیاں اور اسٹاک، سونا اور ابھرتی ہوئی معیشتوں پر ان کے مالیاتی اثرات کا تفصیلی تعلیمی جائزہ۔
محفوظ پناہ کی طلب صرف سونا یا ڈالر خریدنے کا نام نہیں۔ بحران کی نوعیت، نقدی کی ضرورت، حقیقی شرحِ سود اور بنیادی کرنسی فیصلہ کن ہوتے ہیں۔ اس گائیڈ میں Safe-Haven Flows، حفاظتی اثاثوں، اہم اشاریوں اور عام غلط فہمیوں کو تاریخی اور فرضی مثالوں سے سمجھیں۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں