Chart Pro 👤 لاگ ان (Login)

تلاش

"gold is trading in narrow range investors cautius waiting for us cpi report" کے لیے 1184 نتائج۔

پاکستان کا تجارتی خسارہ 18.1 فیصد بڑھ گیا: اگست کی ماہانہ بہتری کیوں گمراہ کن ہو سکتی ہے؟
پاکستان کا تجارتی خسارہ 18.1 فیصد بڑھ گیا: اگست کی ماہانہ بہتری کیوں گمراہ کن ہو سکتی ہے؟

خسارے میں سالانہ اضافہ: مالی سال 27 کے پہلے دو ماہ (2MFY27) میں تجارتی خسارہ 18.1 فیصد بڑھ کر 7.12 ارب ڈالر تک جا پہنچا، جس کے نتیجے میں تجارتی خلا میں 1.09 ارب ڈالر کا خالص اضافہ ہوا۔ درآمدات بمقابلہ برآمدات: ملکی درآمدات کی سالانہ رفتار (13%) برآمدات کی نمو (7%) کے مقابلے میں تقریباً دو گنی تیز رہی۔ اگست کی ماہانہ حقیقت: اگست کا خسارہ جولائی کے مقابلے میں 19.7 فیصد کم ہو کر 3.17 ارب ڈالر رہا، لیکن اس کی بنیادی وجہ برآمدات کا بڑھنا نہیں بلکہ درآمدات میں 17.7 فیصد اور برآمدات میں 15 فیصد کی بیک وقت ماہانہ گراوٹ تھی۔ سالانہ بگاڑ برقرار: ماہانہ ریلیف کے باوجود اگست 2026 کا تجارتی خسارہ اگست 2025 کے مقابلے میں 10.4 فیصد زائد رہا، جبکہ اگست کی سالانہ امپورٹ نمو (7.4%) ایکسپورٹ نمو (3.8%) سے دو گنی رہی۔ تیل اور روپے کا منظرنامہ: جولائی میں پیٹرولیم درآمدات میں 5.2 فیصد کی سالانہ کمی تھی، لیکن ستمبر میں خام تیل کا 92 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرنا نئے خطرات لا رہا ہے۔ فی الوقت 17.12 ارب ڈالر کے سرکاری ذخائر روپے کو 277.41 پر مختصر مدتی استحکام فراہم کر رہے ہیں۔

محمد اظہر سلیم ·
پاکستان میں مہنگائی دوبارہ 11 فیصد سے اوپر: کیا ڈس انفلیشن کا عمل کمزور پڑ رہا ہے؟
پاکستان میں مہنگائی دوبارہ 11 فیصد سے اوپر: کیا ڈس انفلیشن کا عمل کمزور پڑ رہا ہے؟

ہیڈ لائن مہنگائی: قومی سالانہ CPI جولائی کے 9.2 فیصد سے بڑھ کر اگست میں 11.1 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ ماہانہ رفتار 1.2 فیصد رہی۔ بیس ایفیکٹ اور اصل دباؤ: اگست 2025 کی کم بنیاد نے سالانہ شرح کو اوپر دھکیلنے میں کردار ضرور ادا کیا، لیکن ماہانہ 1.2 فیصد اور WPI میں 2.0 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ میں قیمتوں کا تازہ دباؤ موجود ہے۔ دیہی آبادی پر زیادہ بوجھ: دیہی مہنگائی 12.2 فیصد رہی جبکہ شہری مہنگائی 10.4 فیصد ریکارڈ کی گئی، جس کی بنیادی وجہ دیہی کنزمپشن باسکٹ میں اشیائے خورونوش کا زیادہ وزن ہے۔ اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی: 11.5 فیصد پالیسی ریٹ اور 11.1 فیصد ہیڈ لائن CPI کے درمیان حقیقی شرحِ سود کا فرق سکڑ کر محض 0.4 فیصد (40 bps) رہ گیا ہے، جس نے 14 ستمبر کے MPC اجلاس میں شرحِ سود میں فوری کٹوتی کے امکانات کو محدود کر دیا ہے۔

محمد اظہر سلیم ·
Coinbase نے امریکی حصص سے منسلک مستقل معاہدوں (Single-Stock Perpetual Futures)  کے لیے SEC رجسٹریشن جمع کرا دی
Coinbase نے امریکی حصص سے منسلک مستقل معاہدوں (Single-Stock Perpetual Futures) کے لیے SEC رجسٹریشن جمع کرا دی

Coinbase نے امریکی مارکیٹ میں حصص سے منسلک مستقل مشتق معاہدے پیش کرنے کے لیے SEC کے پاس رجسٹریشن دستاویزات جمع کرا دی ہیں۔ کمپنی کے مطابق ان مصنوعات کو عملی طور پر شروع کرنے کے لیے CFTC کی منظوری بھی درکار ہوگی۔ یہ معاہدے سرمایہ کار کو اصل حصص خریدے بغیر اس کی قیمت میں اتار چڑھاؤ سے مالی فائدہ یا نقصان حاصل کرنے کی اجازت دیتے ہیں اور ان کی کوئی مقررہ اختتامی تاریخ نہیں ہوتی۔ یہ پیش رفت کرپٹو اور روایتی حصص کی منڈی کے درمیان فرق کو مزید کم کر سکتی ہے، لیکن ابھی کسی امریکی نگران ادارے نے ان مصنوعات کے آغاز کی حتمی اجازت نہیں دی۔ اب سب سے اہم چیز SEC اور CFTC کا اگلا ردِعمل، منظوری کی شرائط اور یہ ہوگا کہ دیگر امریکی تجارتی پلیٹ فارم بھی اسی سمت میں قدم بڑھاتے ہیں یا نہیں۔

محمد اظہر سلیم ·
پاکستان کا تجارتی خسارہ 18 فیصد بڑھ گیا,  Imports کی تیز رفتار واپسی
پاکستان کا تجارتی خسارہ 18 فیصد بڑھ گیا, Imports کی تیز رفتار واپسی

بیرونی تجارت کا توازن ہمیشہ سے ہی ملکی معیشت کی صحت کا سب سے بڑا عکاس رہا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان کا Trade Deficit مالی سال 2026-27 کے پہلے دو ماہ میں 18.1 فیصد اضافے کے ساتھ 7.12 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

Adeel khalid ·
KSE-100 انڈیکس میں گراوٹ: 177,000 سے نیچے بندش، سرمایہ کار محتاط
KSE-100 انڈیکس میں گراوٹ: 177,000 سے نیچے بندش، سرمایہ کار محتاط

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں آج KSE-100 انڈیکس نے 1.05 فیصد کی نمایاں گراوٹ کے ساتھ 176,976 پوائنٹس پر بندش دی، جو 177,000 کی نفسیاتی سطح سے نیچے ہے۔ مارکیٹ کی وسعت اور ٹرن اوور میں کمی نے سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے محتاط رویے اور ایک واضح رجحان کی عدم موجودگی کو نمایاں کیا ہے۔

سید جواد ·
پاکستانی روپے میں مزید گراوٹ: انٹربینک میں ڈالر 277.77 پر بند
پاکستانی روپے میں مزید گراوٹ: انٹربینک میں ڈالر 277.77 پر بند

پاکستانی روپے (PKR) آج امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں انٹربینک مارکیٹ میں مزید کمزور ہوا، جو 0.16% کے اضافے کے ساتھ 277.77 پر بند ہوا۔ یہ گراوٹ درآمدی ادائیگیوں کے مسلسل دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی کی وجہ سے ہوئی ہے۔

سید جواد ·
🤖

اردو مارکیٹس اسسٹنٹ

لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ

تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں