پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے آغاز پر ہی فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک KSE100 انڈیکس میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ معاشی اور سیاسی غیر یقینی صورتحال کے سائے میں سرمایہ کاروں کا رسک لینے کا رجحان محدود نظر آتا ہے
"impacts of legal actions by us sec against binance on crypto currencies" کے لیے 1171 نتائج۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے آغاز پر ہی فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک KSE100 انڈیکس میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ معاشی اور سیاسی غیر یقینی صورتحال کے سائے میں سرمایہ کاروں کا رسک لینے کا رجحان محدود نظر آتا ہے
عالمی معاشی تناظر میں افراط زر کے اعداد و شمار میں نرمی اور مرکزی بینکوں کے نرم موقف کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔ امریکی CPI 3.35% اور DXY 101.16 پر موجود ہیں جس سے کراس ایٹ منڈیوں میں نئی حرکیات جنم لے رہی ہیں۔
بٹ کوائن تقریباً 82,914 ڈالر پر ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کی نچلی قیمت 82,778 ڈالر رہی، اس لیے پہلے زیرِ بحث 82,819 ڈالر کی حد اب برقرار نہیں رہی۔ 83,000 ڈالر کی واپسی ابتدائی بہتری ہوگی، لیکن خریداروں کو 84,000 ڈالر کے علاقے تک پیش قدمی اور اس کے بعد خریداری کا تسلسل بھی دکھانا ہوگا۔ 24 گھنٹوں کی بلند ترین قیمت تقریباً 85,089 ڈالر ہے۔ صرف 85,000 عبور کرنے کے بجائے اس پورے علاقے کے اوپر قیام بحالی کو زیادہ وزن دے گا۔ حالیہ نچلی قیمت کے قریب اچھال بذات خود آزمودہ سپورٹ یا کامیاب ری ٹیسٹ نہیں۔ دوبارہ کمی پر خریداروں کا ردعمل اور بالائی سطحوں کی بازیابی اہم ہوگی۔ 78,000 ڈالر کو اس محدود جائزے کا فوری ہدف یا مثبت منظرنامہ غلط ثابت ہونے کی سطح نہیں بنایا جاسکتا؛ اس کے لیے وسیع تر چارٹ کا الگ تجزیہ ضروری ہے۔
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں ایک بار پھر تیزی کی جانب گامزن ہیں جہاں برینٹ 0.91 فیصد اضافے کے ساتھ $98.33 پر آگیا ہے۔ ڈبلیو ٹی آئی اور برینٹ کے درمیان اسپریڈ میں کمی امریکی طلب کی مضبوطی اور اوپیک پلس کے سپلائی کنٹرول کی عکاسی کرتی ہے۔
سونے کی عالمی قیمت $4,164.90 پر ٹریڈ ہو رہی ہے جبکہ امریکی ڈالر (DXY) 101.13 پر مضبوط ہے۔ یہ ترکیب بئریش موومنٹ کو مزید تقویت دیتی ہے۔
امریکہ اور چین نے اپنے تجارتی معاہدے میں دو ماہ کی توسیع کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ واشنگٹن میں صدر شی جن پنگ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی دوسری سربراہی ملاقات کے اہم ترین نتائج میں سے ایک ہے
سونا (XAU/USD) ایشیائی تجارت میں 2.1 فیصد گر کر 4,198.10 ڈالر فی اونس آگیا، جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز بھی 2.1 فیصد کمی کے ساتھ 4,231 ڈالر پر رہے۔ چاندی (XAG/USD) کی کمی بڑھ کر 3.4 فیصد ہوگئی اور قیمت 62.08 ڈالر فی اونس رہی؛ پلاٹینم اور پیلیڈیم بھی دباؤ میں آئے، اس لیے فروخت صرف سونے تک محدود نہیں۔ اکتوبر میں Fed کی شرح سود بڑھانے کا مارکیٹ امکان تقریباً 68 فیصد تک پہنچ گیا؛ ستمبر کے اضافے کے بعد امریکی پالیسی شرح پہلے ہی 3.75 سے 4.00 فیصد ہے۔ برینٹ خام تیل (Brent Crude) 106 ڈالر سے اوپر اور ڈالر انڈیکس (DXY) دو ماہ کی بلند سطح کے قریب رہا، جبکہ بلند امریکی بانڈ منافع نے دھاتوں کی کشش محدود رکھی۔ سونے کے لیے اب 4,200 ڈالر کی واپسی اہم ہے۔ 30 ستمبر کے امریکی PCE اور 2 اکتوبر کے روزگار کے اعداد شرح سود کی توقعات بدل سکتے ہیں، جبکہ 4,250 سے 4,300 ڈالر کی بحالی فروخت کا دباؤ کم ہونے کا اشارہ ہوگی۔
پاکستان کی معیشت افراط زر میں 11.10 فیصد تک کمی، 11.50 فیصد پالیسی ریٹ اور ایکسچینج ریٹ کے 276.91 روپے پر استحکام کے ساتھ مانیٹری نرمی اور بیرونی توازن کی مستحکم راہ پر گامزن ہے۔
BTC کی تازہ دستیاب قیمت تقریباً 85,000 ڈالر ہے؛ سات دن کی بلند سطح 87,330 ڈالر کے قریب رہی، اس لیے حالیہ بحالی کے باوجود پچھلی چوٹی ابھی دوبارہ حاصل نہیں ہوئی۔ 21 سے 25 ستمبر کے دوران امریکی Bitcoin ETF میں تقریباً 2.386 ارب ڈالر کی خالص آمد ہوئی؛ یہ مثبت طلب ہے، مگر تمام سرمایہ صرف ادارہ جاتی خریداروں کا نہیں سمجھا جاسکتا۔ BTC فنڈز کی روزانہ خالص آمد پیر کے 999 ملین سے جمعہ کو 134.5 ملین ڈالر رہ گئی؛ پانچوں سیشن مثبت تھے، لیکن خریداری کی روزانہ رفتار مسلسل کم ہوئی۔ ETH تقریباً 2,714 ڈالر ہے اور ہفتے میں 2,804 ڈالر تک جاچکا ہے؛ 2,750 سے 2,820 کی مزاحمت کے اوپر قیام اہم ہے، جبکہ ہفتہ وار ETF آمد تقریباً 690 ملین ڈالر رہی۔ BTC کے لیے 83,800 سے 84,000 کی حمایت اور 85,000 سے 85,800 کی مزاحمت قابلِ توجہ ہیں؛ ETH/BTC تقریباً 0.032 ہونے سے وسیع آلٹ کوائن گردش خودبخود ثابت نہیں ہوتی۔
US 10Y ییلڈ 5.184% پر مستحکم رہتے ہوئے 2 سالہ ییلڈ کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس سے عالمی سرکاری بانڈ مارکیٹ میں بیئر اسٹیپننگ کا رجحان واضح ہو رہا ہے۔
پاکستان کی معیشت میں افراطِ زر کی شرح 11.10 فیصد تک نیچے آنے اور روپے کی قدر 277.00 پر مستحکم رہنے کے بعد شرح سود میں مزید کمی کے امکانات روشن ہو گئے ہیں، جبکہ کے ایس ای-100 انڈیکس 170,765 کی نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔
امریکی افراط زر کے 3.35 فیصد پر جمود اور 10 سالہ ییلڈ کے 5.184 فیصد پر پہنچنے سے فیڈرل ریزرو کی سخت مانیٹری پالیسی طویل تر ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اس پالیسی تسلسل نے عالمی اثاثوں اور بالخصوص ابھرتی ہوئی منڈیوں پر سرمائے کے اخراج کا دباؤ بڑھا دیا ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں