پاکستان میں افراط زر کی شرح 11.10% تک نیچے آنے کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس پالیسی ریٹ کو 11.50% سے مزید کم کرنے کی گنجائش پیدا ہو چکی ہے۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی کا آنے والا فیصلہ معاشی نمو اور مالیاتی استحکام کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگا۔
"audusd rises above 0 6450 as australian consumer confidence shrank to 80 3 percent in april" کے لیے 998 نتائج۔
پاکستان میں افراط زر کی شرح 11.10% تک نیچے آنے کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس پالیسی ریٹ کو 11.50% سے مزید کم کرنے کی گنجائش پیدا ہو چکی ہے۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی کا آنے والا فیصلہ معاشی نمو اور مالیاتی استحکام کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگا۔
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) نے حکومت اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) سے باضابطہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ انکم ٹیکس ریٹرن (Income Tax Return) جمع کرانے کی آخری تاریخ میں ایک ماہ کی توسیع کی جائے
KSE‑100 نے 28 ستمبر 2026 کو 170,426 پوائنٹس پر بند ہو کر منفی 0.15% کی تبدیلی دکھائی۔ یہ قیمت پچھلے سیشن کی اوپر کی سمت کے اشارے کو رد کرتی ہے اور مارکیٹ کے رینج‑باؤنڈ مگر نیچے کی جھکاؤ کے رجحان کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
US 10 سالہ ٹریژری ییلڈ 5.184% پر بڑھتے ہوئے اور 2 سالہ ییلڈ کی کمی نے عالمی سرکاری بانڈ مارکیٹ میں بیئر اسٹیپننگ کے رجحان کو مزید مستحکم کیا۔
STOXX 600 ابتدائی یورپی تجارت میں 0.3 فیصد بڑھ کر 640.43 پوائنٹس پر پہنچا، لیکن شعبوں کی کارکردگی میں نمایاں فرق رہا۔ برطانیہ نے پہلی مرتبہ گھر خریدنے والوں کے لیے نئے ایکویٹی قرض پروگرام کا اعلان کیا ہے؛ مزید تفصیلات آئندہ ماہ کے بجٹ میں آنی ہیں۔ برطانوی ہاؤسنگ کمپنیوں کا اشاریہ تقریباً 16 فیصد بڑھا، بڑی کمپنیوں کے حصص میں 6 سے 23 فیصد تیزی آئی اور FTSE 250 تقریباً 1 فیصد اوپر رہا۔ برینٹ خام تیل میں 3 فیصد سے زیادہ اضافے کے ساتھ توانائی کے حصص بڑھے، جبکہ مضبوط ڈالر اور دھاتوں کی کمزوری سے کان کنی کا شعبہ دباؤ میں رہا۔ تیزی کے تسلسل کے لیے خریداری کا دوسرے شعبوں تک پھیلنا اہم ہوگا؛ تیل، بانڈ منافع اور ECB و BoE حکام کے بیانات اگلے نمایاں عوامل ہیں۔
ایتھیریم کی قیمت 2.04 فیصد کمی کے بعد $2,651 پر ٹریڈ ہو رہی ہے، جس کے باعث پچھلی بلش کنسولیڈیشن کمزور ہو گئی ہے۔ مارکیٹ اب $2,639 تا $2,696 کی حد میں نئی ساختی سمت تلاش کر رہی ہے۔
BoJ کی جولائی اجلاس کی روداد میں مہنگائی کے بڑھتے خطرات اور نسبتاً تیز شرح سود اضافے کی گنجائش سامنے آئی، مگر یہ آئندہ فیصلے کا حتمی وعدہ نہیں۔ USD/JPY پیر کی ایشیائی تجارت میں تقریباً 157.7 رہا اور ین 0.3 فیصد کمزور ہوا؛ سخت گیر جاپانی اشاروں کے باوجود ڈالر کی مجموعی برتری برقرار رہی۔ ڈالر انڈیکس (DXY) تقریباً 101.15 اور Brent Crude دوبارہ 106 ڈالر سے اوپر رہا، جبکہ بلند امریکی بانڈ منافع نے ڈالر کو سہارا دیا۔ ستمبر میں ڈالر انڈیکس کا اضافہ تقریباً 1.7 فیصد تھا۔ جاپانی دس سالہ بانڈ کی شرح منافع جمعہ کو دورانِ تجارت 3.115 فیصد تک پہنچی؛ تاہم ین کے لیے امریکی اور جاپانی شرح منافع کا باہمی فرق زیادہ اہم ہے۔ اس ہفتے امریکی PCE، روزگار کے اعداد اور BoJ کے ستمبر اجلاس کی آرا کا خلاصہ اہم ہوگا؛ جاپانی و امریکی حکام کے رابطے مشترکہ کرنسی مداخلت کی تصدیق نہیں۔ نئی عملی مداخلت کا دعویٰ الگ تصدیق چاہتا ہے۔
پاکستان کی معیشت افراط زر میں 11.10 فیصد تک کمی، 11.50 فیصد پالیسی ریٹ اور ایکسچینج ریٹ کے 276.91 روپے پر استحکام کے ساتھ مانیٹری نرمی اور بیرونی توازن کی مستحکم راہ پر گامزن ہے۔
یہ مضمون پرو‑ٹریڈرز کے لیے مخصوص ٹپس پیش کرتا ہے: کون سے کرنسی جوڑے سیٹ‑اپ کے لیے موزوں ہیں، اہم نیوز ایونٹس پر ٹریڈنگ پلان کیسے بنائیں، رسک مینجمنٹ کے بنیادی اصول اور عملی نکات۔
US 10Y ییلڈ 5.184% پر مستحکم رہتے ہوئے 2 سالہ ییلڈ کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس سے عالمی سرکاری بانڈ مارکیٹ میں بیئر اسٹیپننگ کا رجحان واضح ہو رہا ہے۔
USD/JPY نے 158 کی سطح سے نیچے گرتے ہوئے 157.45 پر مستحکم ہو کر کیری ٹریڈ کے دباؤ اور BOJ کی محتاط پالیسی کے اثر کو واضح کیا۔
امریکی افراط زر کے 3.35 فیصد پر جمود اور 10 سالہ ییلڈ کے 5.184 فیصد پر پہنچنے سے فیڈرل ریزرو کی سخت مانیٹری پالیسی طویل تر ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اس پالیسی تسلسل نے عالمی اثاثوں اور بالخصوص ابھرتی ہوئی منڈیوں پر سرمائے کے اخراج کا دباؤ بڑھا دیا ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں