پاکستان میں افراط زر کی شرح 11.10% تک نیچے آنے کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس پالیسی ریٹ کو 11.50% سے مزید کم کرنے کی گنجائش پیدا ہو چکی ہے۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی کا آنے والا فیصلہ معاشی نمو اور مالیاتی استحکام کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگا۔
"us china dialogue both parties agreed to continue the negotiations" کے لیے 1101 نتائج۔
پاکستان میں افراط زر کی شرح 11.10% تک نیچے آنے کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس پالیسی ریٹ کو 11.50% سے مزید کم کرنے کی گنجائش پیدا ہو چکی ہے۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی کا آنے والا فیصلہ معاشی نمو اور مالیاتی استحکام کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگا۔
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) نے حکومت اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) سے باضابطہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ انکم ٹیکس ریٹرن (Income Tax Return) جمع کرانے کی آخری تاریخ میں ایک ماہ کی توسیع کی جائے
KSE‑100 نے 28 ستمبر 2026 کو 170,426 پوائنٹس پر بند ہو کر منفی 0.15% کی تبدیلی دکھائی۔ یہ قیمت پچھلے سیشن کی اوپر کی سمت کے اشارے کو رد کرتی ہے اور مارکیٹ کے رینج‑باؤنڈ مگر نیچے کی جھکاؤ کے رجحان کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
عالمی مارکیٹس اور کرپٹو انڈسٹری میں ایک بار پھر جغرافیائی سیاسی تناؤ کے اثرات واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نومبر کے وسطی مدتی انتخابات سے قبل ایران پر مزید فوجی حملوں کے امکان کو رد نہ کرنے کے بعد، Bitcoin اور Nasdaq futures میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔
عالمی معاشی تناظر میں افراط زر کے اعداد و شمار میں نرمی اور مرکزی بینکوں کے نرم موقف کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔ امریکی CPI 3.35% اور DXY 101.16 پر موجود ہیں جس سے کراس ایٹ منڈیوں میں نئی حرکیات جنم لے رہی ہیں۔
سونے کی عالمی قیمت $4,164.90 پر ٹریڈ ہو رہی ہے جبکہ امریکی ڈالر (DXY) 101.13 پر مضبوط ہے۔ یہ ترکیب بئریش موومنٹ کو مزید تقویت دیتی ہے۔
پاکستان کی معیشت افراط زر میں 11.10 فیصد تک کمی، 11.50 فیصد پالیسی ریٹ اور ایکسچینج ریٹ کے 276.91 روپے پر استحکام کے ساتھ مانیٹری نرمی اور بیرونی توازن کی مستحکم راہ پر گامزن ہے۔
یہ مضمون پرو‑ٹریڈرز کے لیے مخصوص ٹپس پیش کرتا ہے: کون سے کرنسی جوڑے سیٹ‑اپ کے لیے موزوں ہیں، اہم نیوز ایونٹس پر ٹریڈنگ پلان کیسے بنائیں، رسک مینجمنٹ کے بنیادی اصول اور عملی نکات۔
عالمی فاریکس مارکیٹ میں امریکی بانڈ ییلڈز کے 5.18% تک پہنچنے کے بعد امریکی ڈالر نے اپنی بالادستی قائم رکھی ہوئی ہے۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں یورو اور پاؤنڈ کی قدر میں کمی دیکھی گئی ہے، جبکہ انٹربینک میں روپے کی قدر مستحکم دکھائی دیتی ہے۔
US 10Y ییلڈ 5.184% پر مستحکم رہتے ہوئے 2 سالہ ییلڈ کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس سے عالمی سرکاری بانڈ مارکیٹ میں بیئر اسٹیپننگ کا رجحان واضح ہو رہا ہے۔
پاکستان کی معیشت میں افراطِ زر کی شرح 11.10 فیصد تک نیچے آنے اور روپے کی قدر 277.00 پر مستحکم رہنے کے بعد شرح سود میں مزید کمی کے امکانات روشن ہو گئے ہیں، جبکہ کے ایس ای-100 انڈیکس 170,765 کی نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔
برطانوی پاؤنڈ اور امریکی ڈالر (GBP/USD) کے تبادلے کی شرح 1.3238 کے قریب معلق ہے، جہاں 1.3200-1.3250 کا حمایتی زون شدید آزمائش کا شکار ہے۔ برطانیہ میں 3.10% کی افراط زر کے ماحول میں بینک آف انگلینڈ کی پالیسی اور ڈالر کا استحکام کیبل پیئر کے مستقبل کا تعین کر رہے ہیں۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں