آج امریکہ سے آنے والے US core PCE Inflationکے اعداد و شمار نے مارکیٹ کے تمام اندازوں کو غلط ثابت کر دیا ہے، جس کے بعد سرمایہ کاروں اور تاجروں کے لیے نئی حکمت عملیین بنانا لازمی ہو گیا ہے۔
"education index" کے لیے 280 نتائج۔
آج امریکہ سے آنے والے US core PCE Inflationکے اعداد و شمار نے مارکیٹ کے تمام اندازوں کو غلط ثابت کر دیا ہے، جس کے بعد سرمایہ کاروں اور تاجروں کے لیے نئی حکمت عملیین بنانا لازمی ہو گیا ہے۔
کرپٹو کرنسی (cryptocurrency) کی دنیا میں جب بھی مارکیٹ کوئی بڑی چھلانگ لگاتی ہے، تو سرمایہ کاروں کا جوش و خروش عروج پر ہوتا ہے۔ حالیہ دنوں میں بٹ کوائن (Bitcoin) نے ایک بار پھر زبردست کارکردگی دکھائی اور آٹھ ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گیا۔
بٹ کوائن (Bitcoin) اپنی اہم سپورٹ پر ڈٹا ہوا ہے، وہیں دوسری طرف بانڈ ییلڈز (Bond yields) اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں سرمایہ کاروں کی نیندیں حرام کیے ہوئے ہیں۔
ریزرو بینک آف آسٹریلیا نے شرح سود میں 0.25 فیصد اضافے کا اعلان کرتے ہوئے اسے 15 سال کی بلند ترین سطح یعنی 4.6 فیصد پر پہنچا دیا۔ اس سے قبل شرح سود 4.35 فیصد پر تھی
عالمی فنانشل مارکیٹس (Global Financial Markets) میں حالیہ دنوں کے دوران ایک بار پھر شدیداتار چڑ ھاؤ دیکھنے میں آیا ہے۔ سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز ایک طرف فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) کی جانب سے شرح سود (Interest Rates) میں متوقع اضافے ہیں، تو دوسری طرف مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں اضافہ ہے۔
فی الوقت، AUDUSD جوڑا 0.7016 کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے، جب کہ سرمایہ کاروں کی تمام تر توجہ ریزرو بینک آف آسٹریلیا کے آنے والے مانیٹری پالیسی (Monetary policy) کے فیصلے پر مرکوز ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے آغاز پر ہی فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک KSE100 انڈیکس میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ معاشی اور سیاسی غیر یقینی صورتحال کے سائے میں سرمایہ کاروں کا رسک لینے کا رجحان محدود نظر آتا ہے
سونا (XAU/USD) ایشیائی تجارت میں 2.1 فیصد گر کر 4,198.10 ڈالر فی اونس آگیا، جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز بھی 2.1 فیصد کمی کے ساتھ 4,231 ڈالر پر رہے۔ چاندی (XAG/USD) کی کمی بڑھ کر 3.4 فیصد ہوگئی اور قیمت 62.08 ڈالر فی اونس رہی؛ پلاٹینم اور پیلیڈیم بھی دباؤ میں آئے، اس لیے فروخت صرف سونے تک محدود نہیں۔ اکتوبر میں Fed کی شرح سود بڑھانے کا مارکیٹ امکان تقریباً 68 فیصد تک پہنچ گیا؛ ستمبر کے اضافے کے بعد امریکی پالیسی شرح پہلے ہی 3.75 سے 4.00 فیصد ہے۔ برینٹ خام تیل (Brent Crude) 106 ڈالر سے اوپر اور ڈالر انڈیکس (DXY) دو ماہ کی بلند سطح کے قریب رہا، جبکہ بلند امریکی بانڈ منافع نے دھاتوں کی کشش محدود رکھی۔ سونے کے لیے اب 4,200 ڈالر کی واپسی اہم ہے۔ 30 ستمبر کے امریکی PCE اور 2 اکتوبر کے روزگار کے اعداد شرح سود کی توقعات بدل سکتے ہیں، جبکہ 4,250 سے 4,300 ڈالر کی بحالی فروخت کا دباؤ کم ہونے کا اشارہ ہوگی۔
BoJ کی جولائی اجلاس کی روداد میں مہنگائی کے بڑھتے خطرات اور نسبتاً تیز شرح سود اضافے کی گنجائش سامنے آئی، مگر یہ آئندہ فیصلے کا حتمی وعدہ نہیں۔ USD/JPY پیر کی ایشیائی تجارت میں تقریباً 157.7 رہا اور ین 0.3 فیصد کمزور ہوا؛ سخت گیر جاپانی اشاروں کے باوجود ڈالر کی مجموعی برتری برقرار رہی۔ ڈالر انڈیکس (DXY) تقریباً 101.15 اور Brent Crude دوبارہ 106 ڈالر سے اوپر رہا، جبکہ بلند امریکی بانڈ منافع نے ڈالر کو سہارا دیا۔ ستمبر میں ڈالر انڈیکس کا اضافہ تقریباً 1.7 فیصد تھا۔ جاپانی دس سالہ بانڈ کی شرح منافع جمعہ کو دورانِ تجارت 3.115 فیصد تک پہنچی؛ تاہم ین کے لیے امریکی اور جاپانی شرح منافع کا باہمی فرق زیادہ اہم ہے۔ اس ہفتے امریکی PCE، روزگار کے اعداد اور BoJ کے ستمبر اجلاس کی آرا کا خلاصہ اہم ہوگا؛ جاپانی و امریکی حکام کے رابطے مشترکہ کرنسی مداخلت کی تصدیق نہیں۔ نئی عملی مداخلت کا دعویٰ الگ تصدیق چاہتا ہے۔
یورو نظام نے 21 ستمبر 2026 کو Pontes شروع کردیا، جس سے اہل اداروں کو ٹوکنائزڈ مالیاتی اثاثوں کے لین دین کا تصفیہ مرکزی بینک کے یورو میں کرنے کی سہولت ملی ہے۔ Pontes مالیاتی DLT پلیٹ فارمز کو TARGET Services سے جوڑتا ہے؛ ابتدائی نظام میں ادائیگی کا حتمی تصفیہ T2 میں متعلقہ منتقلی مکمل ہونے پر حاصل ہوتا ہے۔ ECB اپنے غیر زری پالیسی پورٹ فولیو کا محدود حصہ ٹوکنائزڈ سکیورٹیز میں لگانے کی تیاری کررہا ہے؛ خریداری کا وقت اور عملی تفصیلات ابھی طے ہونا باقی ہیں۔ مرکزی بینک کی رقم تک رسائی بعض ادارہ جاتی معاملات میں نجی تصفیہ ذرائع پر انحصار کم کرسکتی ہے، لیکن اس سے اسٹیبل کوائنز کا استعمال خود بخود ختم نہیں ہوتا۔ یہ پیش رفت Bitcoin یا Ethereum کی منظوری نہیں۔ اصل امتحان اداروں کی شرکت، تصفیے کے حجم، لاگت، قانونی تحفظ اور مختلف پلیٹ فارمز کے باہمی رابطے کا ہوگا۔
مائیکروسافٹ کا تاریخی مظاہرہ: MSFT نے 3.66 فیصد کے اضافے کے ساتھ $516.17 کی سطح پر بند ہو کر سافٹ ویئر سیکٹر میں زبردست پیش رفت کی قیادت کی۔ اینویڈیا کا استحکام: NVDA نے AI ہارڈویئر کی مسلسل مانگ کے باعث 0.22 فیصد اضافے کے ساتھ $225.07 کی مضبوط سطح پر اختتام کیا۔ مارکیٹ کا ساختی ارتکاز اور تفریق: وال اسٹریٹ کی تیزی منتخب میگا کیپ کمپنیوں تک محدود رہی؛ جہاں مائیکروسافٹ، ایپل (+1.53%) اور جے پی مارگن (+1.33%) نے مارکیٹ کو سنبھالا، وہیں میٹا (-3.33%) اور ٹیسلا (-1.54%) میں شدید منافع خوری دیکھی گئی۔ اس میگا کیپ ریلی کا تھیسس اس وقت باطل ہو جائے گا اگر MSFT $500.00 اور NVDA $215.00 کی کلیدی سپورٹ سے نیچے بند ہوتے ہیں۔
پاکستان کی معاشی بحالی کا عمل تیز تر ہو گیا ہے جہاں 11.10 فیصد افراطِ زر اور 11.50 فیصد پالیسی ریٹ کے ساتھ حقیقی شرح سود مثبت زون میں ہے۔ ترسیلاتِ زر اور آئی ایم ایف پروگرام کی بدولت روپیہ 276.96 پر مستحکم ہے جبکہ کے ایس ای 100 انڈیکس 170,765 کی نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں