کوہ نور پاور کمپنی لمیٹڈ (Kohinoor Power Company Limited) نے مالی سال 2026 کے مالیاتی نتائج کا اعلان کر دیا ہے، جن کے مطابق کمپنی طویل عرصے بعد منافع کے زون سے نکل کر خالص نقصان کا شکار ہو گئی۔
"pak army chief saysa that pakistan has come out of default fear positive rally in psx" کے لیے 1167 نتائج۔
کوہ نور پاور کمپنی لمیٹڈ (Kohinoor Power Company Limited) نے مالی سال 2026 کے مالیاتی نتائج کا اعلان کر دیا ہے، جن کے مطابق کمپنی طویل عرصے بعد منافع کے زون سے نکل کر خالص نقصان کا شکار ہو گئی۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس 11.10 فیصد افراطِ زر اور 11.50 فیصد پالیسی ریٹ کی موجودگی کے باعث 40 بیسس پوائنٹس کی مثبت حقیقی شرحِ سود موجود ہے، جس سے آئندہ مانیٹری پالیسی میٹنگ میں شرحِ سود میں 50 تا 100 بیسس پوائنٹس کمی کا راستہ صاف نظر آتا ہے۔
پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق ہیڈلائن افراط زر 11.10 فیصد پر آنے کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے 11.50 فیصد پالیسی ریٹ کے باعث مثبت حقیقی شرح سود بحال ہو چکی ہے، جس سے آئندہ مانیٹری پالیسی اجلاس میں مزید ریٹ کٹ کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔
پاکستان کی معیشت 11.50% پالیسی ریٹ اور 11.10% افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ بیرونی کھاتوں کے استحکام اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت USD/PKR 276.83 پر متوازن قائم ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں KSE-100 انڈیکس 168,155 کی سطح پر 0.40 فیصد کی کمی کے ساتھ ٹریڈ کر رہا ہے۔ نتائج کے سیزن کے قریب بینکنگ، ای اینڈ پی، سیمنٹ اور دیگر 6 اہم سیکٹرز کا جامع بنیادی اور تکنیکی تجزیہ۔
پاکستان کی معیشت 11.50% پالیسی ریٹ اور 11.10% CPI افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے دور میں قائم ہے۔ انٹربینک مارکیٹ میں USD/PKR 0.33% کی بہتری کے ساتھ 276.82 پر بند ہوا، جبکہ KSE-100 انڈیکس 168,155 پوائنٹس پر معاشی استحکام کی عکاسی کر رہا ہے۔
یورو زون کی سالانہ مہنگائی اگست کے 3.2 فیصد سے بڑھ کر 3.8 فیصد ہوگئی؛ مارکیٹ توقع 3.6 فیصد تھی۔ بنیادی مہنگائی (Core Inflation) 2.4 فیصد سے بڑھ کر 2.5 فیصد ہوئی۔ ECB کی ڈپازٹ شرح 2.50 فیصد ہے؛ تازہ اعداد مزید اضافے کی دلیل دیتے ہیں، لیکن اگلے فیصلے کا وقت طے نہیں کرتے۔ فرانس اور جرمنی کے 10 سالہ بانڈ ییلڈز کا فرق تقریباً 150 بیسس پوائنٹس تک پہنچنے سے یورو زون کے مالیاتی خطرات نمایاں ہوئے۔ امریکی روزگار کی رپورٹ، بانڈ ییلڈز اور شرح سود کی توقعات EUR/USD کی اگلی حرکت کے لیے اہم ہیں۔
پاکستان کی معیشت 11.50 فیصد پالیسی ریٹ اور 11.10 فیصد افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے زمرے میں داخل ہو چکی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر، آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد اور ترسیلاتِ زر کے سہارے USD/PKR 277.10 کی سطح پر مستحکم ہے جبکہ KSE-100 انڈیکس 168,637 پوائنٹس پر موجود ہے۔
پاکستان کے بنیادی معاشی اشاریے مسلسل استحکام کی دلالت کر رہے ہیں۔ 11.50 فیصد کے پالیسی ریٹ اور 11.10 فیصد کے افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے فریم ورک نے KSE-100 انڈیکس کو 169,969 کے سنگ میل پر پہنچا دیا ہے جبکہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 276.98 کی سطح پر مستحکم ہے۔
آج امریکہ سے آنے والے US core PCE Inflationکے اعداد و شمار نے مارکیٹ کے تمام اندازوں کو غلط ثابت کر دیا ہے، جس کے بعد سرمایہ کاروں اور تاجروں کے لیے نئی حکمت عملیین بنانا لازمی ہو گیا ہے۔
پاکستان کی معاشی صورتحال میں افراط زر 11.10 فیصد اور اسٹیٹ بینک کا پالیسی ریٹ 11.50 فیصد رہنے سے مثبت حقیقی شرح سود کا فریم ورک برقرار ہے۔ ڈالر 276.88 روپے کی سطح پر مستحکم ہے جبکہ KSE-100 انڈیکس 169,600 پوائنٹس کی سطح پر مضبوط تجارتی سگنل فراہم کر رہا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں آج سرمایہ کاروں کو اتار چڑھاؤ اور امید کی ملی جلی فضا کا سامنا ہے۔ جہاں PSX نے منگل کے روز ابتدائی لمحات میں شاندار بحالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 300 پوائنٹس سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں