پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت (Pakistan Petroleum Sales September 2026) میں ستمبر 2026 کے دوران سالانہ بنیادوں پر (YoY) 2 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جس کے بعد کُل فروخت 1.35 ملین ٹن پر آگئی ہے۔
Category
پاکستان معیشت کے اس حصے میں آپ کو مہنگائی، شرحِ سود، روپے کی قدر، بجٹ، ٹیکس، زرمبادلہ ذخائر، آئی ایم ایف پروگرام، حکومتی پالیسیوں اور معاشی اشاریوں پر تازہ ترین خبریں، تجزیے اور آسان فہم ریسرچ ملے گی۔
162 مضامین
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت (Pakistan Petroleum Sales September 2026) میں ستمبر 2026 کے دوران سالانہ بنیادوں پر (YoY) 2 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جس کے بعد کُل فروخت 1.35 ملین ٹن پر آگئی ہے۔
ستمبر میں سالانہ مہنگائی 10.3 فیصد رہی، جو اگست کے مقابلے میں 0.8 فیصد پوائنٹ کم ہے۔ ماہانہ قیمتیں 1.3 فیصد بڑھیں؛ اگست میں اضافہ 1.2 فیصد تھا۔ شہری اور دیہی دونوں اشاریوں میں بجلی کے چارجز 15.28 فیصد بڑھے، جبکہ موٹر فیول کا اضافہ بالترتیب 10.76 اور 11.13 فیصد رہا۔ ٹماٹر اور مرغی سستے ہوئے، لیکن قومی سطح پر خوراک اور مشروبات کا مجموعی اشاریہ ماہانہ 0.19 فیصد بڑھا۔ خوراک اور توانائی کے بغیر بنیادی مہنگائی (Core Inflation) میں کمی آئی، تاہم توانائی کی بڑھتی لاگت شرح سود کے آئندہ فیصلوں کے لیے اہم رہے گی۔
پاکستان کی معیشت 11.50 فیصد پالیسی ریٹ اور 11.10 فیصد افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے زمرے میں داخل ہو چکی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر، آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد اور ترسیلاتِ زر کے سہارے USD/PKR 277.10 کی سطح پر مستحکم ہے جبکہ KSE-100 انڈیکس 168,637 پوائنٹس پر موجود ہے۔
پاکستان کی معیشت میں افراط زر کے حوالے سے اہم اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، ستمبر 2026 میں پاکستان میں افراط زر کی سالانہ شرح کم ہو کر 10.3 فیصد پر ریکارڈ کی گئی ہے۔
موجودہ مالیاتی منظر نامے میں، پاکستان کی معیشتایک انتہائی اہم موڑ سے گزر رہی ہے۔ مالی سال 2026 کے اختتام پر، ملک کے معاشی اشاریے ملے جلا رجحان ظاہر کر رہے ہیں۔ جہاں Pakistan Public Debt FY26 میں اضافے کے ساتھ کل 86.72 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا،
پاکستان کے بنیادی معاشی اشاریے مسلسل استحکام کی دلالت کر رہے ہیں۔ 11.50 فیصد کے پالیسی ریٹ اور 11.10 فیصد کے افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے فریم ورک نے KSE-100 انڈیکس کو 169,969 کے سنگ میل پر پہنچا دیا ہے جبکہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 276.98 کی سطح پر مستحکم ہے۔
سیکیورٹی پیپرز لمیٹڈ (SPL) کی جانب سے اپنی پیپر مشین 2 (PM-2) کی اپ گریڈیشن مکمل کرنے کے بعد معمول کی پیداوار کا دوبارہ آغاز ایک ایسا اہم صنعتی سنگ میل ہے جو ملک کے مالیاتی نظام پر گہرے اثرات مرتب کرے گ
بیرک مائننگ کارپوریشن کی طرف سے بلوچستان میں واقع Reko Diq Project سیکورٹی کے پیش نظر ترقیاتی کاموں کو سست کرنے کے فیصلے نے ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر اور کموڈٹی کے منصوبوں میں سیاسی و حفاظتی عوامل کتنی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں
پاکستان میں کیپیٹیل مارکیٹس کی تاریخ کا ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے پروگرام کے تحت لوکل کرنسی بانڈ مارکیٹ (Local Currency Bond Market LCBM) کے فروغ کے لیے ایک جامع اسٹریٹجک ایکشن پلان کا اعلان کیا۔
پاکستان میں سی پی آئی افراط زر کی شرح 11.10% تک محدود رہنے اور حقیقی شرح سود مثبت زون میں داخل ہونے کے بعد اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کی جانب سے پالیسی ریٹ میں 50 سے 100 بیسس پوائنٹس کی کٹوتی کے امکانات کا تفصیلی جائزہ۔
پاکستان کی معاشی صورتحال میں افراط زر 11.10 فیصد اور اسٹیٹ بینک کا پالیسی ریٹ 11.50 فیصد رہنے سے مثبت حقیقی شرح سود کا فریم ورک برقرار ہے۔ ڈالر 276.88 روپے کی سطح پر مستحکم ہے جبکہ KSE-100 انڈیکس 169,600 پوائنٹس کی سطح پر مضبوط تجارتی سگنل فراہم کر رہا ہے۔
سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے معاشی شمولیت کو فروغ دینے اور مالیاتی وسائل تک آسان رسائی فراہم کرنے کے لیے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ ریگولیٹر نے مائیکرو فنانس اور ہاؤسنگ لونز کی زیادہ سے زیادہ حد کو بڑھا کر 5 ملین روپے کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔
پاکستان کی معاشی اور تکنیکی تاریخ میں ایک نیا باب رقم ہو رہا ہے جہاں روایتی مینوفیکچرنگ اور اشیاء کی برآمدات سے ہٹ کر ڈیجیٹل سروسز اور آئی ٹی کی دنیا میں ملک کا نام روشن کیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں، وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن، شزاء فاطمہ خواجہ نے اسلام آباد میں Huawei کے گلوبل سپورٹ سینٹر کا دورہ کیا۔
حکومتِ پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF Review) کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں اس بات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا کہ کس طرح خطے کے حالات نے ملکی معاشی رفتار کو متاثر کیا۔
پاکستان میں افراط زر کی شرح 11.10% تک نیچے آنے کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس پالیسی ریٹ کو 11.50% سے مزید کم کرنے کی گنجائش پیدا ہو چکی ہے۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی کا آنے والا فیصلہ معاشی نمو اور مالیاتی استحکام کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگا۔
آج پاکستان کی صرافہ مارکیٹ میں فی تولہ سونے کی قیمت (Per Tola Gold Price in Pakistan) میں ایک بڑی گراوٹ دیکھی گئی ہے، جس نے سرمایہ کاروں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) نے حکومت اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) سے باضابطہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ انکم ٹیکس ریٹرن (Income Tax Return) جمع کرانے کی آخری تاریخ میں ایک ماہ کی توسیع کی جائے
پاکستان کی معیشت افراط زر میں 11.10 فیصد تک کمی، 11.50 فیصد پالیسی ریٹ اور ایکسچینج ریٹ کے 276.91 روپے پر استحکام کے ساتھ مانیٹری نرمی اور بیرونی توازن کی مستحکم راہ پر گامزن ہے۔
پاکستان کی معیشت میں افراطِ زر کی شرح 11.10 فیصد تک نیچے آنے اور روپے کی قدر 277.00 پر مستحکم رہنے کے بعد شرح سود میں مزید کمی کے امکانات روشن ہو گئے ہیں، جبکہ کے ایس ای-100 انڈیکس 170,765 کی نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔
پاکستان کی معاشی بحالی کا عمل تیز تر ہو گیا ہے جہاں 11.10 فیصد افراطِ زر اور 11.50 فیصد پالیسی ریٹ کے ساتھ حقیقی شرح سود مثبت زون میں ہے۔ ترسیلاتِ زر اور آئی ایم ایف پروگرام کی بدولت روپیہ 276.96 پر مستحکم ہے جبکہ کے ایس ای 100 انڈیکس 170,765 کی نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔
✓ شکریہ! آپ کی سبسکرپشن کامیابی سے درج ہو گئی۔
پہلا ڈائجسٹ آپ کے انباکس میں جلد پہنچے گا۔
آپ کے پسندیدہ معاشی شعبے، سونا صرافہ، فاریکس اور پی ایس ایکس ایکسچینج کی روزانہ یا ہفتہ وار آپ ڈیٹس براہِ راست اِن باکس میں وصول کریں۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں