SBP، Fed، ECB اور دیگر مرکزی بینکوں کے تازہ بیانات کے ساتھ ساتھ امریکی روزگار ڈیٹا نے ڈالر کو مضبوط کیا، جس سے پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی کمی آئی۔
"bitcoin price drop below 68000 crash risk 60000" کے لیے 662 نتائج۔
SBP، Fed، ECB اور دیگر مرکزی بینکوں کے تازہ بیانات کے ساتھ ساتھ امریکی روزگار ڈیٹا نے ڈالر کو مضبوط کیا، جس سے پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی کمی آئی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے آغاز پر ہی فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک KSE100 انڈیکس میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ معاشی اور سیاسی غیر یقینی صورتحال کے سائے میں سرمایہ کاروں کا رسک لینے کا رجحان محدود نظر آتا ہے
عالمی مارکیٹس اور کرپٹو انڈسٹری میں ایک بار پھر جغرافیائی سیاسی تناؤ کے اثرات واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نومبر کے وسطی مدتی انتخابات سے قبل ایران پر مزید فوجی حملوں کے امکان کو رد نہ کرنے کے بعد، Bitcoin اور Nasdaq futures میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔
عالمی معاشی تناظر میں افراط زر کے اعداد و شمار میں نرمی اور مرکزی بینکوں کے نرم موقف کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔ امریکی CPI 3.35% اور DXY 101.16 پر موجود ہیں جس سے کراس ایٹ منڈیوں میں نئی حرکیات جنم لے رہی ہیں۔
ایتھیریم کی قیمت 2.04 فیصد کمی کے بعد $2,651 پر ٹریڈ ہو رہی ہے، جس کے باعث پچھلی بلش کنسولیڈیشن کمزور ہو گئی ہے۔ مارکیٹ اب $2,639 تا $2,696 کی حد میں نئی ساختی سمت تلاش کر رہی ہے۔
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں ایک بار پھر تیزی کی جانب گامزن ہیں جہاں برینٹ 0.91 فیصد اضافے کے ساتھ $98.33 پر آگیا ہے۔ ڈبلیو ٹی آئی اور برینٹ کے درمیان اسپریڈ میں کمی امریکی طلب کی مضبوطی اور اوپیک پلس کے سپلائی کنٹرول کی عکاسی کرتی ہے۔
آج نئے ہفتے کے آغاز میں، مارکیٹ کا سب سے اہم موضوع EURUSD کی قدر میں کمی بن چکا ہے، جہاں یورو اور امریکی ڈالر (US Dollar) کا یہ جوڑا شدید دباؤ کے بعد نیچے آ گیا ہے۔
BoJ کی جولائی اجلاس کی روداد میں مہنگائی کے بڑھتے خطرات اور نسبتاً تیز شرح سود اضافے کی گنجائش سامنے آئی، مگر یہ آئندہ فیصلے کا حتمی وعدہ نہیں۔ USD/JPY پیر کی ایشیائی تجارت میں تقریباً 157.7 رہا اور ین 0.3 فیصد کمزور ہوا؛ سخت گیر جاپانی اشاروں کے باوجود ڈالر کی مجموعی برتری برقرار رہی۔ ڈالر انڈیکس (DXY) تقریباً 101.15 اور Brent Crude دوبارہ 106 ڈالر سے اوپر رہا، جبکہ بلند امریکی بانڈ منافع نے ڈالر کو سہارا دیا۔ ستمبر میں ڈالر انڈیکس کا اضافہ تقریباً 1.7 فیصد تھا۔ جاپانی دس سالہ بانڈ کی شرح منافع جمعہ کو دورانِ تجارت 3.115 فیصد تک پہنچی؛ تاہم ین کے لیے امریکی اور جاپانی شرح منافع کا باہمی فرق زیادہ اہم ہے۔ اس ہفتے امریکی PCE، روزگار کے اعداد اور BoJ کے ستمبر اجلاس کی آرا کا خلاصہ اہم ہوگا؛ جاپانی و امریکی حکام کے رابطے مشترکہ کرنسی مداخلت کی تصدیق نہیں۔ نئی عملی مداخلت کا دعویٰ الگ تصدیق چاہتا ہے۔
یورو نظام نے 21 ستمبر 2026 کو Pontes شروع کردیا، جس سے اہل اداروں کو ٹوکنائزڈ مالیاتی اثاثوں کے لین دین کا تصفیہ مرکزی بینک کے یورو میں کرنے کی سہولت ملی ہے۔ Pontes مالیاتی DLT پلیٹ فارمز کو TARGET Services سے جوڑتا ہے؛ ابتدائی نظام میں ادائیگی کا حتمی تصفیہ T2 میں متعلقہ منتقلی مکمل ہونے پر حاصل ہوتا ہے۔ ECB اپنے غیر زری پالیسی پورٹ فولیو کا محدود حصہ ٹوکنائزڈ سکیورٹیز میں لگانے کی تیاری کررہا ہے؛ خریداری کا وقت اور عملی تفصیلات ابھی طے ہونا باقی ہیں۔ مرکزی بینک کی رقم تک رسائی بعض ادارہ جاتی معاملات میں نجی تصفیہ ذرائع پر انحصار کم کرسکتی ہے، لیکن اس سے اسٹیبل کوائنز کا استعمال خود بخود ختم نہیں ہوتا۔ یہ پیش رفت Bitcoin یا Ethereum کی منظوری نہیں۔ اصل امتحان اداروں کی شرکت، تصفیے کے حجم، لاگت، قانونی تحفظ اور مختلف پلیٹ فارمز کے باہمی رابطے کا ہوگا۔
عالمی فاریکس مارکیٹ میں امریکی بانڈ ییلڈز کے 5.18% تک پہنچنے کے بعد امریکی ڈالر نے اپنی بالادستی قائم رکھی ہوئی ہے۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں یورو اور پاؤنڈ کی قدر میں کمی دیکھی گئی ہے، جبکہ انٹربینک میں روپے کی قدر مستحکم دکھائی دیتی ہے۔
پاکستان میں USDT P2P اور انٹربینک USD/PKR ریٹ کے درمیان فرق 0.02% کے اپس پاس آ گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے اقدامات اور ڈجیٹل اثاثوں کی مارکیٹ پر تفصیلی تحلیلی رپورٹ۔
ADB نے ترقی پذیر ایشیا و بحرالکاہل کی نمو 2026 میں 5.0 فیصد اور 2027 میں 5.1 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے؛ یہ پورے ایشیا کی یکساں شرح نہیں۔ 2026 کی Inflation پیش گوئی 4.3 سے کم کرکے 4.2 فیصد، جبکہ 2027 کی 3.4 سے بڑھا کر 3.5 فیصد کی گئی ہے؛ اگلے سال کی شرح پھر بھی رواں سال سے کم متوقع ہے۔ توانائی کی طویل رکاوٹ اور شدید El Niño خوراک، پانی، پن بجلی اور بعض خام مال کی رسد متاثر کرسکتے ہیں؛ کم پن بجلی متبادل ایندھن کی طلب بھی بڑھا سکتی ہے۔ بلند قرض شرح سود بڑھانے کی معاشی لاگت میں اضافہ کرسکتا ہے، مگر اثر ہر ملک میں یکساں نہیں؛ قرض کی مدت، کرنسی، شرح اور مرکزی بینک کی خودمختاری اہم ہیں۔ نجی سرمایہ کاری، سرکاری معاونت اور AI سے متعلق برآمدات نمو کو سہارا دیتی ہیں؛ تاہم ٹیکنالوجی حصص میں بڑی گراوٹ، بلند Bond Yields اور مضبوط ڈالر خطرات بڑھا سکتے ہیں۔ اس لیے نمو کی پیش گوئی کو حصص کی یقینی تیزی نہ سمجھا جائے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں